@dil_e_wiran: جس چیز پر دل آ جائے، پھر اس کی قیمت نہیں دیکھی جاتی، چاہے وہ شوق اپنی تکمیل کے لیے ہم سے سب کچھ ہی کیوں نہ مانگ لے۔ دل جس طرف جھک جائے، وہاں حساب کتاب کہاں باقی رہتا ہے، پھر قیمت کتنی ہے، یہ نہیں دیکھا جاتا، بس ادا کر دی جاتی ہے۔ اور جب کسی بات کی ضد دل میں گھر کر جائے، تو پھر اس کے انجام سے زیادہ اپنی بات پر قائم رہنا عزیز ہو جاتا ہے۔ نقصان کتنا ہوگا، کیا چھن جائے گا، کون دور ہو جائے گا، ضد کے آگے یہ سب سوال بے معنی سے لگنے لگتے ہیں۔ انسان جانتے ہوئے بھی وہ راستہ چنتا ہے، جس کے آخر میں شاید منزل نہیں، صرف خسارہ لکھا ہو۔ مگر دل کو کون سمجھائے کہ ہر خواہش پانے کے قابل نہیں ہوتی، اور ہر ضد نبھانے کے قابل نہیں ہوتی۔ کبھی شوق انسان سے اس کی استطاعت سے زیادہ قیمت مانگ لیتا ہے، اور کبھی ضد انسان سے وہ بھی چھین لیتی ہے جسے وہ کھونا نہیں چاہتا۔ پھر بھی عجیب کیفیت ہے کہ دل نہ قیمت سے ڈرتا ہے، نہ نقصان سے؛ اسے بس اپنی چاہت عزیز رہتی ہے۔ شاید یہی شوق کی شدت ہے، اور شاید یہی ضد کی وہ خاموش سزا ہے، جس کا اندازہ ہمیشہ دیر سے ہوتا ہے۔ ❤️🩹