@nguyenkimphuonglovecoach: #nguyenkimphuong #kimmyphuong #kimmyvaemca #andam

Nguyen Kim Phuong (Kimmy)
Nguyen Kim Phuong (Kimmy)
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 08 September 2026 07:28:50 GMT
145
3
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @nguyenkimphuonglovecoach, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کیا شہید ماجد علی کی قربانی اتنی جلدی بھلا دی گئی؟ جس سبز ہلالی پرچم کی خاطر جان دی، آج اسی کی قبر پر پرچم بھی محفوظ نہیں! **کالوخان (صوابی) — شہید کی قربانی، قوم کی ذمہ داری!** کالوخان کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے فرنٹیئر کور (FC) کے نوجوان شہید ماجد علی نے 16 اگست 2026 کو شمالی وزیرستان میں وطنِ عزیز پاکستان کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی وطن کی سلامتی کے لیے قربان کر دی، لیکن افسوس کہ آج ان کی آخری آرام گاہ پر قومی پرچم اور یادگاری نشانیوں کی حفاظت بھی ایک سوال بن چکی ہے۔ کالوخان ایک ایسا مشہور اور بہادر گاؤں ہے جس کی تاریخ وطن کی محبت، قربانی اور بہادری کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس علاقے کے بے شمار نوجوانوں نے پولیس، پاک فوج، فرنٹیئر کور (FC) اور دیگر سکیورٹی اداروں میں خدمات انجام دیتے ہوئے ملک و قوم کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ان قربانیوں نے نہ صرف کالوخان بلکہ پورے ضلع صوابی کا نام روشن کیا ہے۔ شہید ماجد علی بھی انہی بہادر سپوتوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنے خاندان، اپنے گاؤں اور اپنے وطن کی عزت و سلامتی کے لیے جان قربان کی۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شہید ماجد علی کی قبر پر لگایا گیا پاکستانی پرچم مبینہ طور پر تین مرتبہ چوری ہو چکا ہے، جبکہ قبر پر رکھا گیا یادگاری تمغہ بھی غائب ہونے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ شہید کے بھائی کے مطابق اس واقعے سے ان کی والدہ بھی شدید رنجیدہ ہیں۔ ایک ماں جس نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کیا، اس کے لیے یہ منظر کتنا تکلیف دہ ہوگا کہ اس کے بیٹے کی قبر پر اس کی قربانی کی نشانیاں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ آخر اس سبز ہلالی پرچم کی کیا قیمت ہے؟ کیا یہ چند سو روپے کا کپڑا ہے؟ ہرگز نہیں! یہ ہماری آزادی، خودمختاری، قومی غیرت اور ان شہداء کی قربانیوں کی علامت ہے جنہوں نے اس وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ **متعلقہ حکام سے اپیل:** تھانہ کالوخان میں اس معاملے کی رپورٹ درج کرانے کی اطلاع ہے۔ پولیس حکام سے گزارش ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر چوری ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ ڈی پی او صوابی صاحب سے خصوصی درخواست ہے کہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور شہید ماجد علی کی قبر پر حاضری دے کر ان کے اہلِ خانہ کو یقین دلائیں کہ شہداء کی قربانیوں کا احترام ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ڈپٹی کمشنر صوابی صاحب سے بھی گزارش ہے کہ شہید کی قبر پر قومی پرچم اور یادگاری نشانیوں کی حفاظت کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شہداء صرف اپنے خاندانوں کے نہیں بلکہ پوری قوم کے محسن ہوتے ہیں۔ ان کی قبروں، قومی پرچموں اور یادگاری نشانیوں کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ شہید مرتے نہیں، وہ ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے شہداء کو کبھی فراموش نہیں کرتیں! #شہید_ماجد_علی #ایف_سی_شہید #کالوخان #شمالی_وزیرستان #صوابی
کیا شہید ماجد علی کی قربانی اتنی جلدی بھلا دی گئی؟ جس سبز ہلالی پرچم کی خاطر جان دی، آج اسی کی قبر پر پرچم بھی محفوظ نہیں! **کالوخان (صوابی) — شہید کی قربانی، قوم کی ذمہ داری!** کالوخان کی سرزمین سے تعلق رکھنے والے فرنٹیئر کور (FC) کے نوجوان شہید ماجد علی نے 16 اگست 2026 کو شمالی وزیرستان میں وطنِ عزیز پاکستان کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی وطن کی سلامتی کے لیے قربان کر دی، لیکن افسوس کہ آج ان کی آخری آرام گاہ پر قومی پرچم اور یادگاری نشانیوں کی حفاظت بھی ایک سوال بن چکی ہے۔ کالوخان ایک ایسا مشہور اور بہادر گاؤں ہے جس کی تاریخ وطن کی محبت، قربانی اور بہادری کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس علاقے کے بے شمار نوجوانوں نے پولیس، پاک فوج، فرنٹیئر کور (FC) اور دیگر سکیورٹی اداروں میں خدمات انجام دیتے ہوئے ملک و قوم کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔ ان قربانیوں نے نہ صرف کالوخان بلکہ پورے ضلع صوابی کا نام روشن کیا ہے۔ شہید ماجد علی بھی انہی بہادر سپوتوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنے خاندان، اپنے گاؤں اور اپنے وطن کی عزت و سلامتی کے لیے جان قربان کی۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شہید ماجد علی کی قبر پر لگایا گیا پاکستانی پرچم مبینہ طور پر تین مرتبہ چوری ہو چکا ہے، جبکہ قبر پر رکھا گیا یادگاری تمغہ بھی غائب ہونے کی شکایت سامنے آئی ہے۔ شہید کے بھائی کے مطابق اس واقعے سے ان کی والدہ بھی شدید رنجیدہ ہیں۔ ایک ماں جس نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کیا، اس کے لیے یہ منظر کتنا تکلیف دہ ہوگا کہ اس کے بیٹے کی قبر پر اس کی قربانی کی نشانیاں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ آخر اس سبز ہلالی پرچم کی کیا قیمت ہے؟ کیا یہ چند سو روپے کا کپڑا ہے؟ ہرگز نہیں! یہ ہماری آزادی، خودمختاری، قومی غیرت اور ان شہداء کی قربانیوں کی علامت ہے جنہوں نے اس وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ **متعلقہ حکام سے اپیل:** تھانہ کالوخان میں اس معاملے کی رپورٹ درج کرانے کی اطلاع ہے۔ پولیس حکام سے گزارش ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اگر چوری ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ ڈی پی او صوابی صاحب سے خصوصی درخواست ہے کہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور شہید ماجد علی کی قبر پر حاضری دے کر ان کے اہلِ خانہ کو یقین دلائیں کہ شہداء کی قربانیوں کا احترام ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ڈپٹی کمشنر صوابی صاحب سے بھی گزارش ہے کہ شہید کی قبر پر قومی پرچم اور یادگاری نشانیوں کی حفاظت کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ شہداء صرف اپنے خاندانوں کے نہیں بلکہ پوری قوم کے محسن ہوتے ہیں۔ ان کی قبروں، قومی پرچموں اور یادگاری نشانیوں کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ شہید مرتے نہیں، وہ ہمیشہ قوم کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ زندہ قومیں اپنے شہداء کو کبھی فراموش نہیں کرتیں! #شہید_ماجد_علی #ایف_سی_شہید #کالوخان #شمالی_وزیرستان #صوابی

About