وہ گھر کی فکر میں خود کو مٹاتا چلا گیا
میں دل کی تیرگی میں سماتا چلا گیا
_____________________
چھوٹا نہ ہاتھ، دور ہی ہم سے ہوا نہ وہ
بس درمیان وقت ہی آتا چلا گیا
_____________________
ہم کو تو یاد تھی وہی ساتھ چلنے کی دعا
پر کیا کریں کہ بخت ہی رستہ بدل گیا
_____________________
وہ فرض کی حدود سے آگے نہ بڑھ سکا
میں چاہتوں کے دشت میں جلتا چلا گیا
_____________________
پوچھا نہ رفتہ رفتہ کہ اس دل پہ کیا بنی
یہ زخم روز و شب میں چھپاتا چلا گیا
_____________________
کوئی بھی بے وفا تھا نہ مجرم ہی تھا کوئی
جو جس کا بوجھ تھا، وہ اٹھاتا چلا گیا
_____________________
اس داستانِ عشق کا انجام یہ ہوا کہ
اک آبرو بچاتا گیا، اک مرتا چلا گیا
2026-09-09 04:03:44
0
To see more videos from user @uselesss122, please go to the Tikwm
homepage.