@ali099ali0: قرآن پاک میں جس جگہ بھی آیا ہے وہاں یہی بات کو بار بار دہرایا ہے کہ نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اب پڑھنے اور قائم کرنے میں کیا فرق ہے نماز پڑھنا تو شرعیت میں جیسے وضو کیا پاک صاف ہو کر مصلحے پر کھڑے ہوگئے اب اس میں جو تم کہہ رہے ہو اس کو اپنی زندگی میں بھی عملی طور پر قبول کرو، نماز کے قول اپنی زندگی میں بھی لاگو کرو اب کہتے ہیں کہ نماز بے حیائی سے روکتی ہے آجکل تو بے حیائی عام ہے ،پھر نماز روک کیوں نہیں رہی وہ اس لیے کہ ہماری نماز صرف نام کی ہے، جھکتے کہیں اور ہیں اور دماغ کہیں اور ہوتا ہے جن کی نماز قائم ہے وہ 24 گھنٹے نماز میں ہی ہوتے ہیں انکا دل و دماغ ہمیشہ خالق حقیقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس لیے کوئی کامل رہبر تلاش کر جو تجھے تیری اصل نماز بتا سکے تاکہ تو بھی نماز قضا ہی نہ کرتا رہے جیسے حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے عشق کی نماز اور شرعیت کی نماز میں فرق پتہ چلا تو چالیس سال کی نماز قضاء پائی تو بھی اپنی عشق و مستی کی نماز قائم کر تاکہ تیری قضاء ادا ہوجائے