@sia3331: 1.6 sec on the air WHATT?! Damian lillard won the game 118-115 with a legendary buzzer-beater three-pointer over Paul George from about 37 feet away, and then waved goodbye to the Thunder bench to wrap up the series #damianlillard#NBA#sport#basketball#epic

siaa     <
siaa <
Open In TikTok:
Region: TR
Tuesday 08 September 2026 09:51:24 GMT
2004
42
1
1

Music

Download

Comments

ipekarslan096
ipiiss :
çok riskli be
2026-09-08 12:55:24
0
To see more videos from user @sia3331, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اُس کی آواز کے بنا فون کتنی بڑی اذیت ہے، کبھی یہی فون گھنٹوں ہاتھ میں لیے بیٹھے رہتے تھے، بس اُس کی ایک کال آ جائے تو دل کو سکون مل جاتا تھا، اُس کا ایک چھوٹا سا میسج بھی چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتا تھا، اور اُس کی آواز سنتے ہی جیسے دنیا کی ساری پریشانیاں ختم ہو جاتی تھیں۔ وقت کا پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کب رات گزر گئی، کب صبح ہو گئی، کیونکہ اُس کی باتوں میں ایک عجیب سا سکون تھا، اُس کی ہنسی میں ایک الگ سی خوشی تھی، اور اُس کے خاموش ہو جانے پر بھی دل اُس کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر آج وہی فون ہاتھ میں ہے، وہی اسکرین ہے، وہی نمبر ہے، بس فرق اتنا سا ہے کہ اب اُس طرف سے کوئی آواز نہیں آتی۔ بار بار فون اٹھا کر دیکھنا، ہر نوٹیفکیشن پر دل کا دھڑکنا، ہر کال پر یہ امید باندھنا کہ شاید وہ ہو، اور پھر مایوس ہو کر فون رکھ دینا، یہ سب کتنا تکلیف دہ ہے، یہ آج سمجھ آیا۔ کبھی جس کی آواز سننے کے لیے بہانے ڈھونڈتے تھے، آج اُسی کی آواز سننے کی خواہش دل میں لیے خاموش بیٹھے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ ایک بار وہ پہلے کی طرح پکار لے، ایک بار پھر پوچھ لے کہ کیسے ہو، ایک بار پھر کہہ دے کہ تمہاری یاد آ رہی تھی، مگر اب شاید ہماری خواہشوں کی اُس کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں رہی۔ عجیب بات ہے نا، ایک وقت تھا جب فون بند کرنے کا دل نہیں کرتا تھا، اور آج فون کھولنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی، کیونکہ ہر بار اُس کی غیر موجودگی کا احساس پہلے سے زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فون کی خاموشی اذیت نہیں دیتی، اذیت تو اُس آواز کی کمی دیتی ہے جسے سننے کی عادت دل کو اس قدر ہو جائے کہ پھر دنیا کی کوئی دوسری آواز اُس کی جگہ نہ لے سکے۔ 💔🥀
اُس کی آواز کے بنا فون کتنی بڑی اذیت ہے، کبھی یہی فون گھنٹوں ہاتھ میں لیے بیٹھے رہتے تھے، بس اُس کی ایک کال آ جائے تو دل کو سکون مل جاتا تھا، اُس کا ایک چھوٹا سا میسج بھی چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتا تھا، اور اُس کی آواز سنتے ہی جیسے دنیا کی ساری پریشانیاں ختم ہو جاتی تھیں۔ وقت کا پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کب رات گزر گئی، کب صبح ہو گئی، کیونکہ اُس کی باتوں میں ایک عجیب سا سکون تھا، اُس کی ہنسی میں ایک الگ سی خوشی تھی، اور اُس کے خاموش ہو جانے پر بھی دل اُس کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ مگر آج وہی فون ہاتھ میں ہے، وہی اسکرین ہے، وہی نمبر ہے، بس فرق اتنا سا ہے کہ اب اُس طرف سے کوئی آواز نہیں آتی۔ بار بار فون اٹھا کر دیکھنا، ہر نوٹیفکیشن پر دل کا دھڑکنا، ہر کال پر یہ امید باندھنا کہ شاید وہ ہو، اور پھر مایوس ہو کر فون رکھ دینا، یہ سب کتنا تکلیف دہ ہے، یہ آج سمجھ آیا۔ کبھی جس کی آواز سننے کے لیے بہانے ڈھونڈتے تھے، آج اُسی کی آواز سننے کی خواہش دل میں لیے خاموش بیٹھے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ ایک بار وہ پہلے کی طرح پکار لے، ایک بار پھر پوچھ لے کہ کیسے ہو، ایک بار پھر کہہ دے کہ تمہاری یاد آ رہی تھی، مگر اب شاید ہماری خواہشوں کی اُس کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں رہی۔ عجیب بات ہے نا، ایک وقت تھا جب فون بند کرنے کا دل نہیں کرتا تھا، اور آج فون کھولنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی، کیونکہ ہر بار اُس کی غیر موجودگی کا احساس پہلے سے زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فون کی خاموشی اذیت نہیں دیتی، اذیت تو اُس آواز کی کمی دیتی ہے جسے سننے کی عادت دل کو اس قدر ہو جائے کہ پھر دنیا کی کوئی دوسری آواز اُس کی جگہ نہ لے سکے۔ 💔🥀

About