@a..h...a...d0: عشق والے بھی اگر عقل لڑانے لگ جائیں پھر حَسِینوں کے نہ کیوں ہوش ٹھکانے لگ جائیں نیند کیسے مُجھے آئے اے مِرے دوست کہ جب نقش مہتاب مِیں تیرے نظر آنے لگ جائیں آپ مِل جائیں ہمیں ، ایسا نہیں ہو سکتا کیسے اندھوں کے بھلا ٹھیک نشانے لگ جائیں حاصلِ عشق نہیں رنج سِوا کچھ بھی ، مگر رنج ہے، تو اِسے اشکوں مِیں بہانے لگ جائیں؟ آپ سے عشق کِیا ہے مگر ایسا تو نہیں شہر کو ترک کریں، دشت بسانے لگ جائیں اُس پہ پھر کیسے چڑھائے کوئی رنگِ دُنیا عشق کے سائیں جسے رنگ لگانے لگ جائیں @چوھدری تنظیم لونا فرض ہے میرا چراغوں کو جلانا سرِ شام آندھیاں چاہے مِری خاک اُڑانے لگ جائیں اِس سے اُٹھتا نہیں کیا آپ کی چاہت پہ سوال بزم سے غیر جو زیفی کو اُٹھانے لگ جائیں