@tariq_baloch_786: ہم روز ایک موت مرتے ہیں۔ کبھی ظلم کی شکل میں، کبھی ناانصافی کی شکل میں، کبھی غربت کی شکل میں، کبھی سخت لوڈشیڈنگ کی اذیت میں، تو کبھی بے روزگاری کی شکل میں۔ سوال یہ ہے کہ ایک دن میں ہم کتنی بار مرتے ہیں؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ ہم اس موت سے انکار کیوں نہیں کرتے؟ ہم ظلم کو ظلم کہنے سے ڈرتے کیوں ہیں؟ ہم ناانصافی کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ آخر کب تک خاموش رہیں گے؟ کب تک اپنے حصے کی موت جیتے رہیں گے؟ خاموشی بھی ایک طرح کی رضامندی ہے۔ اگر ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے، تو شاید کل ہماری خاموشی ہی کسی اور کی موت بن جائے