@anamchoudharyart5: کیا کبھی تنہائی میں بیٹھ کر ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ ہماری پریشانیوں کی اصل وجہ کیا ہے؟ ہم ان چیزوں پر روتے ہیں اور فکر کرتے ہیں جن کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہے ہی نہیں۔ انسان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ زبان سے تو کہتا ہے کہ میرا رب سب جانتا ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے، لیکن اس کا دل پھر بھی کل کی فکر میں بے چین رہتا ہے۔ اہلل دل فرماتے ہیں کہ سچے مومن کو تو اپنے اللہ سے اس بات پر بھی حیا (شرم آنی چاہیے کہ اس کا معاملہ اس ذات پاک کے سپرد ہو اور اس کے ماتھے پر پھر بھی فکر کی لكيریں موجود ہوں۔ یہ کیسی محبت اور کیسا توکل ہے کہ ہم اس رحیم پر اپنا معاملہ چھوڑ کر بھی بے سکون ہیں؟ جس ذات نے چیونٹی کے رزق اور سمندر کی مچھلیوں کا نظام سنبھال رکھا ہے کیا وہ ہمارا کل نہیں سنبھالے گا؟ اپنے معاملات اس کے حوالے کر کے پریشان ہونا چھوڑ دیں۔ پریشانی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا توکل ابھی کمزور ہے۔ اپنے رب پر مکمل يقين رکھیں، وہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ہم سکون کی تلاش میں نجانے کہاں کہاں بھٹکتے ہیں۔ کبھی آسمانوں کی وسعتوں میں اسے ڈھونڈتے ہیں، کبھی دنیا کے شور میں اور کبھی کسی انسان کی ذات سے وہ امیدیں لگا لیتے ہیں جو صرف اس ذات سے لگانی چاہئیں۔ ہمیں اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ جس نے ہمیں بنایا ہے، وہ ہم سے بہت دور کسی اونچے مقام پر بیٹھا ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ وہ ہمارے دل کی ان دھڑکنوں اور ان خاموش دعاؤں کو بھی سنتا ہے جنہیں ہم خود لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے۔ یہ جو ہمارے اور اس کے بیچ ایک دوری محسوس ہوتی ہے، یہ اس کی طرف سے نہیں ہے؛ یہ ہمارے اپنے اندر کا شور ہے، دنیا کی وہ بے جا الجھنیں اور خواہشیں ہیں جنہوں نے ہمیں خود سے ہی دور کر دیا ہے۔ جس دن ہم ایک پل کے لیے رک کر دنیا کی آوازوں کو خاموش کر کے اپنے اندر جھانکتے ہیں، تو احساس ہوتا ہے کہ فاصلہ تو کبھی تھا ہی نہیں۔ سفر تو بس اپنی ذات سے اپنے ہی اندر بیٹھے رب تک کا تھا۔ اور یہی وہ واحد سفر ہے جو انسان کو حقیقی سکون سے ملاتا ہے۔ . . . #painting #art #explorepage #arabiccalligraphy #foryoupagе