@hamdan.ronaldo3:

مصور خٹک
مصور خٹک
Open In TikTok:
Region: AE
Tuesday 08 September 2026 15:39:46 GMT
989
105
7
4

Music

Download

Comments

idreesgamingyt1
🫀ادريس❤️‍🩹 :
❤️❤️❤️
2026-09-09 09:32:56
0
immyanjaana
WASIF KHAN :
🥰🥰🥰
2026-09-09 05:20:19
0
danyal.khan4466
DANYAL KHAN :
❤️❤️❤️
2026-09-08 20:21:44
0
nazarullah3
Nazar UllAh :
🥰🥰🥰
2026-09-08 20:21:17
0
shahzaibkhattak052
Shahzaib khan :
❤️❤️❤️
2026-09-08 18:31:40
0
amankha824
Å... AMAN 302🔥👑🇰🇷 :
💙💙💙
2026-09-08 17:03:01
0
__umree05
UMAR 🦁 :
❤️🥰🥰🥰
2026-09-09 10:36:21
0
To see more videos from user @hamdan.ronaldo3, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج گلگت کنوداس میں اہلِ سنت کے بھائیوں نے تبلیغ کا ایک خوبصورت اجتماع سجا کر صرف ایک دینی اجتماع منعقد نہیں کیا، بلکہ گلگت بلتستان کی سرزمین سے پوری دنیا کو محبت، اتحاد، اخوت اور امن کا ایک بہت بڑا پیغام دیا ہے۔ یہ اجتماع اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ اگر نیت صاف ہو، دلوں میں ایمان ہو اور مقصد امت کو جوڑنا ہو تو مختلف مسالک کے لوگ ایک جگہ بیٹھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کا احترام کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو سکتے ہیں۔ ہم گلگت بلتستان کے لوگ صدیوں سے مختلف مسالک کے درمیان رہتے آئے ہیں۔ ہماری پہچان صرف ہمارا مسلک نہیں، ہماری پہچان انسانیت، بھائی چارہ، مہمان نوازی، محبت اور امن بھی ہے۔ ہم شیعہ ہیں یا سنی، ہمارے فقہی اور مسلکی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ہمارا قبلہ ایک ہے، ہمارا قرآن ایک ہے، ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، اور ہمیں ایک دوسرے کے مقدسات، عقائد اور بزرگوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ہم صحابہؓ کا احترام کرنے والے ہیں، ہم اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے والے ہیں، اور ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی کے مقدسات کی توہین، کسی مسلمان کی تکفیر اور نفرت پھیلانا ہمارے معاشرے کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرتا ہے۔ آج کا یہ اجتماع اُن تمام لوگوں کے لیے بھی ایک خاموش مگر مضبوط پیغام ہے جو شیعہ اور سنی کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اختلاف کو دشمنی بنانے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ نفرت کی آگ سب سے پہلے اپنے ہی گھر کو جلاتی ہے۔ میری گلگت بلتستان کے تمام مکاتبِ فکر کے بھائیوں سے دل کی گہرائیوں سے گزارش ہے کہ ایسے اجتماعات میں شرکت کریں، ایک دوسرے کے پاس جائیں، ایک دوسرے کو سنیں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور دنیا کو دکھا دیں کہ گلگت بلتستان کی عوام نفرت کے سوداگروں کے ساتھ نہیں بلکہ امن کے ساتھ کھڑی ہے۔ خصوصاً تمام شیعہ علمائے کرام، اہلِ سنت علمائے کرام اور تمام مکاتبِ فکر کے ذمہ داران سے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ آگے بڑھیں، ایک دوسرے کے پروگراموں میں شریک ہوں، مشترکہ طور پر امن اور بھائی چارے کی آواز بلند کریں، کیونکہ جب علماء اور عوام مل کر نفرت کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو معاشرے میں محبت کی بنیاد مزید مضبوط ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہے کہ مسلکی اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا۔ اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کی جا سکتی ہے۔ ایک دوسرے کے عقائد سے اختلاف رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کیا جا سکتا ہے۔ آج ہمیں دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ گلگت بلتستان کو نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔ یہاں شیعہ بھی ہمارا بھائی ہے، سنی بھی ہمارا بھائی ہے، اسماعیلی بھی ہمارا بھائی ہے، نوربخشی بھی ہمارا بھائی ہے، اور ہر وہ انسان جو امن اور محبت چاہتا ہے، ہمارے لیے قابلِ احترام ہے۔ آئیں، ہم سب مل کر ایک ایسا گلگت بلتستان بنائیں جہاں مسجد سے امن کی آواز آئے، امام بارگاہ سے امن کی آواز آئے، خانقاہ سے امن کی آواز آئے، مدرسے سے امن کی آواز آئے اور ہمارے گھروں سے بھی امن اور محبت کی خوشبو پھیلے۔ دنیا کی طاقت، دولت، شہرت اور عہدے سب عارضی ہیں۔ آخرکار انسان نے اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کتنی نفرتیں پھیلائیں، بلکہ ہمارے اعمال، ہماری نیت اور ہمارے ساتھ کیے گئے سلوک کا حساب ہوگا۔ اس لیے آج سے ایک عہد کریں: ہم نفرت نہیں پھیلائیں گے۔ ہم کسی کے مقدسات کی توہین نہیں کریں گے۔ ہم تکفیر اور اشتعال انگیزی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ہم اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے۔ اور جہاں امن، اتحاد اور بھائی چارے کی آواز اٹھے گی، ہم وہاں کھڑے ہوں گے۔ یہی گلگت بلتستان کی خوبصورتی ہے، یہی ہماری طاقت ہے، اور یہی ہمارا پیغام ہے: مسلک الگ ہو سکتے ہیں، دل نہیں؛ رائے مختلف ہو سکتی ہے، رشتہ نہیں؛ ہم سب ایک معاشرے کے لوگ ہیں، اور سب سے بڑھ کر انسان اور مسلمان ہیں۔ آئیں، کنوداس کے اس اجتماع میں شریک ہو کر دنیا کو بتا دیں: گلگت بلتستان نفرت کے لیے نہیں، محبت کے لیے ہے۔ گلگت بلتستان تقسیم کے لیے نہیں، اتحاد کے لیے ہے۔ اور ہم شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں۔ #GilgitBaltistan #Kunodas #Peace #Unity #ShiaSunniUnity
آج گلگت کنوداس میں اہلِ سنت کے بھائیوں نے تبلیغ کا ایک خوبصورت اجتماع سجا کر صرف ایک دینی اجتماع منعقد نہیں کیا، بلکہ گلگت بلتستان کی سرزمین سے پوری دنیا کو محبت، اتحاد، اخوت اور امن کا ایک بہت بڑا پیغام دیا ہے۔ یہ اجتماع اس بات کی خوبصورت مثال ہے کہ اگر نیت صاف ہو، دلوں میں ایمان ہو اور مقصد امت کو جوڑنا ہو تو مختلف مسالک کے لوگ ایک جگہ بیٹھ سکتے ہیں، ایک دوسرے کا احترام کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو سکتے ہیں۔ ہم گلگت بلتستان کے لوگ صدیوں سے مختلف مسالک کے درمیان رہتے آئے ہیں۔ ہماری پہچان صرف ہمارا مسلک نہیں، ہماری پہچان انسانیت، بھائی چارہ، مہمان نوازی، محبت اور امن بھی ہے۔ ہم شیعہ ہیں یا سنی، ہمارے فقہی اور مسلکی اختلافات اپنی جگہ، لیکن ہمارا قبلہ ایک ہے، ہمارا قرآن ایک ہے، ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں، اور ہمیں ایک دوسرے کے مقدسات، عقائد اور بزرگوں کا احترام کرنا چاہیے۔ ہم صحابہؓ کا احترام کرنے والے ہیں، ہم اہلِ بیتؑ سے محبت رکھنے والے ہیں، اور ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی کے مقدسات کی توہین، کسی مسلمان کی تکفیر اور نفرت پھیلانا ہمارے معاشرے کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرتا ہے۔ آج کا یہ اجتماع اُن تمام لوگوں کے لیے بھی ایک خاموش مگر مضبوط پیغام ہے جو شیعہ اور سنی کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اختلاف کو دشمنی بنانے والے شاید بھول جاتے ہیں کہ نفرت کی آگ سب سے پہلے اپنے ہی گھر کو جلاتی ہے۔ میری گلگت بلتستان کے تمام مکاتبِ فکر کے بھائیوں سے دل کی گہرائیوں سے گزارش ہے کہ ایسے اجتماعات میں شرکت کریں، ایک دوسرے کے پاس جائیں، ایک دوسرے کو سنیں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور دنیا کو دکھا دیں کہ گلگت بلتستان کی عوام نفرت کے سوداگروں کے ساتھ نہیں بلکہ امن کے ساتھ کھڑی ہے۔ خصوصاً تمام شیعہ علمائے کرام، اہلِ سنت علمائے کرام اور تمام مکاتبِ فکر کے ذمہ داران سے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ آگے بڑھیں، ایک دوسرے کے پروگراموں میں شریک ہوں، مشترکہ طور پر امن اور بھائی چارے کی آواز بلند کریں، کیونکہ جب علماء اور عوام مل کر نفرت کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو معاشرے میں محبت کی بنیاد مزید مضبوط ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہے کہ مسلکی اختلاف کا مطلب دشمنی نہیں ہوتا۔ اختلافِ رائے کے باوجود ایک دوسرے کی عزت کی جا سکتی ہے۔ ایک دوسرے کے عقائد سے اختلاف رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کیا جا سکتا ہے۔ آج ہمیں دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ گلگت بلتستان کو نفرت کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔ یہاں شیعہ بھی ہمارا بھائی ہے، سنی بھی ہمارا بھائی ہے، اسماعیلی بھی ہمارا بھائی ہے، نوربخشی بھی ہمارا بھائی ہے، اور ہر وہ انسان جو امن اور محبت چاہتا ہے، ہمارے لیے قابلِ احترام ہے۔ آئیں، ہم سب مل کر ایک ایسا گلگت بلتستان بنائیں جہاں مسجد سے امن کی آواز آئے، امام بارگاہ سے امن کی آواز آئے، خانقاہ سے امن کی آواز آئے، مدرسے سے امن کی آواز آئے اور ہمارے گھروں سے بھی امن اور محبت کی خوشبو پھیلے۔ دنیا کی طاقت، دولت، شہرت اور عہدے سب عارضی ہیں۔ آخرکار انسان نے اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ وہاں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کتنی نفرتیں پھیلائیں، بلکہ ہمارے اعمال، ہماری نیت اور ہمارے ساتھ کیے گئے سلوک کا حساب ہوگا۔ اس لیے آج سے ایک عہد کریں: ہم نفرت نہیں پھیلائیں گے۔ ہم کسی کے مقدسات کی توہین نہیں کریں گے۔ ہم تکفیر اور اشتعال انگیزی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ ہم اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیں گے۔ اور جہاں امن، اتحاد اور بھائی چارے کی آواز اٹھے گی، ہم وہاں کھڑے ہوں گے۔ یہی گلگت بلتستان کی خوبصورتی ہے، یہی ہماری طاقت ہے، اور یہی ہمارا پیغام ہے: مسلک الگ ہو سکتے ہیں، دل نہیں؛ رائے مختلف ہو سکتی ہے، رشتہ نہیں؛ ہم سب ایک معاشرے کے لوگ ہیں، اور سب سے بڑھ کر انسان اور مسلمان ہیں۔ آئیں، کنوداس کے اس اجتماع میں شریک ہو کر دنیا کو بتا دیں: گلگت بلتستان نفرت کے لیے نہیں، محبت کے لیے ہے۔ گلگت بلتستان تقسیم کے لیے نہیں، اتحاد کے لیے ہے۔ اور ہم شیعہ سنی بھائی بھائی ہیں۔ #GilgitBaltistan #Kunodas #Peace #Unity #ShiaSunniUnity

About