@vipcute233: جس ماں نے اپنا ہر سکھ بچے پر وار دیا، آج وہی ماں اپنے ہی بیٹے کے سامنے سوالی بنتے ہوئے کٹھن دور سے گزر رہی ہے۔ جب ایک بوڑھی ماں نے کانپتے ہپٹوں کے ساتھ ڈاکٹر سے التجا کی کہ "بیٹا دوائی ذرا سستی لکھنا، مجھے اپنے ہی بیٹے سے پیسے مانگتے ہوئے شرم آتی ہے"، تو یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا بلکہ ایک ماں کی ممتا اور خودداری کا خون تھا۔ بیٹے کی بے حسی نے ماں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا کہ وہ بیماری سے زیادہ اپنوں کے رویے سے مرنے لگی۔ ڈاکٹر نے فیس تو معاف کر دی، مگر بچے کی نافرمانی کا یہ داغ کبھی نہیں دھل سکتا۔