@clarkysalvatore: true eve | #kristinkreuk #indenavarrette #smallville #mog #edit

•clarky•
•clarky•
Open In TikTok:
Region: PT
Tuesday 08 September 2026 17:33:12 GMT
1248893
54916
198
1793

Music

Download

Comments

g7ostz
Ghost ᕙ(`▽´)ᕗ :
Thats her mother no way 🤯 i used to watch smallville because of her
2026-09-10 14:59:55
418
anitaxx_012
mr. bombastic :
she's not his mother...
2026-09-22 13:49:47
14
hasnain312.0
ʜᴀsɴᴀɪɴ :
The dad
2026-09-09 08:10:04
3147
sahar_tal2310
°❀saharrr𝜗𝜚 :
Is she her mother????
2026-09-09 04:25:51
290
theogaudette
Théo :
funny considering the fact she did play the daughter of a lana lang in a superman series
2026-09-09 16:28:58
341
mixiing0
1xmelo :
idk man inde looks much better
2026-09-09 08:56:01
99
unicornsaresocoollikeme
⁎⁺༚˚✧⁎ᯠ 𓇮 ᯄ⁎˳✧༚˚⁎ :
No way you guys believe ts
2026-09-21 02:25:20
20
beka_chort1
_rysv1p3r_ :
Btw in the Superman & Lois universe, she’s actually her daughter.
2026-09-09 08:11:19
33
edawxm
ЕДА :
i coming for you lana
2026-09-09 13:51:00
7
adffawdafd
fat thom :
inde looks better
2026-09-10 13:42:12
7
adam1234er1
adam :
peak edit bro
2026-09-09 11:44:47
20
alonsokyle
Kyle.alonso :
You mean!!!
2026-09-20 19:36:28
12
ketsupppppp1
￴￴ ￴￴ ￴￴￴ ￴￴ ￴￴ ￴ :
not real
2026-09-09 02:43:00
10
jhon.nico06
Jhon :
The dad
2026-09-10 09:07:28
27
raul_____92
Raul :
Mil veces mejor inde Navarrete
2026-09-09 13:58:30
45
nikkifreemanglaze
indenavarretteglazer :
Inde mogs
2026-09-10 11:59:05
5
iarlos_ganso
~ C :
agora perguta na rua se alguém conhece a lana lang 😂
2026-09-14 00:52:44
0
cleme3640
Clemyy 😜 :
The dad:
2026-09-09 18:42:18
51
guidlas
guidlas🇻🇦✝️☦️🇵🇹 :
2026-09-08 17:37:30
13
j_theproducer
J :
It’s a reference to superman and Louis the tv show cause she plays lana langs daughter in it
2026-09-21 14:36:28
8
ricenoodle_50
Ricerat :
Dream duo wallahi
2026-09-10 04:05:36
5
trugilot
trugilot :
She doesn't have kids
2026-09-11 06:32:27
1
simonmatthews885
Simon Matthews885 :
She doesn’t have any children
2026-09-11 17:35:15
2
misukiogaming
Misukio :
Hein !? C’est sa fille ?
2026-09-12 06:16:20
1
To see more videos from user @clarkysalvatore, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایک مسلمان عورت کے سر پر سجے حجاب سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ وہ حجاب جو کسی کے لیے محض ایک کپڑا ہے، مگر کسی مسلمان عورت کے لیے حیا، ایمان، شناخت اور اپنے رب سے محبت کی علامت ہے۔ آذربائیجان کی سرزمین پر حجاب کے حوالے سے عائد پابندیوں اور تعلیمی اداروں میں سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی قدغنوں کا ذکر دل کو افسردہ کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی جب اپنے سر پر حجاب سجانے کی خواہش لے کر گھر سے نکلتی ہے تو اس کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارے گی، لیکن جب اسی حجاب کو اس کی تعلیم، اس کے مستقبل اور اس کی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بنا دیا جائے تو اس کے خوابوں پر جیسے خاموشی کی چادر تن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک معصوم لڑکی، جس کی آنکھوں میں علم حاصل کرنے کے خواب ہوں، جو کتابوں سے محبت کرتی ہو، جو اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہو، وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی ہو۔ اس کے سر پر حجاب ہو، دل میں علم کی طلب ہو، مگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی پہچان اس کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کی آنکھوں میں کتنے سوال جنم لیتے ہوں گے؟ کیا اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے؟ افسوس! جب ایک بیٹی کے علم اور اس کے مذہبی اظہار کے درمیان انتخاب کھڑا کر دیا جائے تو یہ صرف ایک طالبہ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے شناخت دی، اسے اپنے کردار اور تقویٰ سے بلندی حاصل کرنے کا درس دیا۔ حجاب بہت سی مسلمان خواتین کے لیے اسی دینی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی کے لیے یہ لباس کا ایک حصہ ہوگا، لیکن ایک باحجاب عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور قلبی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حجاب اتارنا محض کپڑا اتارنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے خلاف ایک فیصلہ کرنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان معاشرے میں رہنے والی مسلمان بیٹی کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ آذربائیجان کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کے معاشرے میں اسلام کی موجودگی کے باوجود، جب حجاب کے معاملے پر پابندیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں درد اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے دور ہو جائے؟ کیا جدید تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک لڑکی اپنے عقیدے کی کسی علامت کو چھوڑ دے؟ کیا ایک تعلیمی ادارہ اتنا وسیع القلب نہیں ہو سکتا کہ وہاں علم حاصل کرنے والی طالبہ کی قابلیت کو اس کے لباس سے زیادہ اہمیت دی جائے؟ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشن کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ضمیر کو آزمائش میں ڈالنا۔ ایک لڑکی حجاب پہن کر بھی ڈاکٹر بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، سائنس دان بن سکتی ہے اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہے۔ اس کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے سر پر موجود کپڑے سے۔ یہ تحریر کسی قوم سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ ان دلوں کی آواز ہے جو مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، قانون پر بحث ہو سکتی ہے، ریاست اور مذہب کے تعلق پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت ان لڑکیوں کے احساسات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جن کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اے دنیا کے انصاف پسند لوگو! کبھی ان بچیوں کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھیے، جن کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے ایمان کی ایک علامت ہے۔ ان کے خوابوں کو پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیجیے۔ انہیں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ علم بھی حاصل کر سکیں، اپنے وطن کی خدمت بھی کر سکیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بھی گزار سکیں۔ آخر میں بس اتنا کہنا ہے: حجاب کے پیچھے کوئی خواب دیکھتی ہوئی بیٹی بھی ہے، کوئی ماں کی امید بھی ہے، کسی باپ کی دعا بھی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں اور دل میں اپنے رب سے محبت ہے۔ اس کے خوابوں کو اس کے لباس کی وجہ سے مت توڑیے۔ اسے علم سے محروم مت کیجیے، اسے اپنی شناخت اور تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور مت کیجیے۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسے دکھائی دیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ بھی عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر مسلمان بیٹی کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اسے علم، عزت اور کامیابی کے راستوں پر گا
#آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، دل میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ آخر ایک مسلمان عورت کے سر پر سجے حجاب سے کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے؟ وہ حجاب جو کسی کے لیے محض ایک کپڑا ہے، مگر کسی مسلمان عورت کے لیے حیا، ایمان، شناخت اور اپنے رب سے محبت کی علامت ہے۔ آذربائیجان کی سرزمین پر حجاب کے حوالے سے عائد پابندیوں اور تعلیمی اداروں میں سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی قدغنوں کا ذکر دل کو افسردہ کر دیتا ہے۔ ایک مسلمان بیٹی جب اپنے سر پر حجاب سجانے کی خواہش لے کر گھر سے نکلتی ہے تو اس کے دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ زندگی گزارے گی، لیکن جب اسی حجاب کو اس کی تعلیم، اس کے مستقبل اور اس کی آزادی کے راستے میں رکاوٹ بنا دیا جائے تو اس کے خوابوں پر جیسے خاموشی کی چادر تن جاتی ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ایک معصوم لڑکی، جس کی آنکھوں میں علم حاصل کرنے کے خواب ہوں، جو کتابوں سے محبت کرتی ہو، جو اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہو، وہ اسکول کے دروازے پر کھڑی ہو۔ اس کے سر پر حجاب ہو، دل میں علم کی طلب ہو، مگر اسے یہ احساس دلایا جائے کہ اس کی مذہبی پہچان اس کے تعلیمی سفر میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اس لمحے اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ اس کی آنکھوں میں کتنے سوال جنم لیتے ہوں گے؟ کیا اس کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنا چاہتی ہے؟ افسوس! جب ایک بیٹی کے علم اور اس کے مذہبی اظہار کے درمیان انتخاب کھڑا کر دیا جائے تو یہ صرف ایک طالبہ کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور بنیادی حقوق کا سوال بن جاتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت دی، اسے شناخت دی، اسے اپنے کردار اور تقویٰ سے بلندی حاصل کرنے کا درس دیا۔ حجاب بہت سی مسلمان خواتین کے لیے اسی دینی وابستگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ کسی کے لیے یہ لباس کا ایک حصہ ہوگا، لیکن ایک باحجاب عورت کے لیے یہ اس کے ایمان اور قلبی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے حجاب اتارنا محض کپڑا اتارنا نہیں، بلکہ اپنے ضمیر کے خلاف ایک فیصلہ کرنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایک مسلمان معاشرے میں رہنے والی مسلمان بیٹی کو اپنی مذہبی شناخت کے اظہار کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ آذربائیجان کی تاریخ، اس کی ثقافت اور اس کے معاشرے میں اسلام کی موجودگی کے باوجود، جب حجاب کے معاملے پر پابندیوں کی خبریں سامنے آتی ہیں تو بہت سے مسلمانوں کے دلوں میں درد اور بے بسی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی شناخت سے دور ہو جائے؟ کیا جدید تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک لڑکی اپنے عقیدے کی کسی علامت کو چھوڑ دے؟ کیا ایک تعلیمی ادارہ اتنا وسیع القلب نہیں ہو سکتا کہ وہاں علم حاصل کرنے والی طالبہ کی قابلیت کو اس کے لباس سے زیادہ اہمیت دی جائے؟ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو روشن کرنا ہے، نہ کہ کسی کے ضمیر کو آزمائش میں ڈالنا۔ ایک لڑکی حجاب پہن کر بھی ڈاکٹر بن سکتی ہے، استاد بن سکتی ہے، سائنس دان بن سکتی ہے اور اپنے ملک کی خدمت کر سکتی ہے۔ اس کی ذہانت، محنت اور صلاحیت کا فیصلہ اس کے علم سے ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس کے سر پر موجود کپڑے سے۔ یہ تحریر کسی قوم سے نفرت کے لیے نہیں، بلکہ ان دلوں کی آواز ہے جو مذہبی آزادی اور انسانی وقار پر یقین رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، قانون پر بحث ہو سکتی ہے، ریاست اور مذہب کے تعلق پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں، لیکن کسی بھی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت ان لڑکیوں کے احساسات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے جن کی تعلیم، خود اعتمادی اور مستقبل اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اے دنیا کے انصاف پسند لوگو! کبھی ان بچیوں کی آنکھوں میں جھانک کر بھی دیکھیے، جن کے لیے حجاب صرف لباس نہیں بلکہ ان کے ایمان کی ایک علامت ہے۔ ان کے خوابوں کو پابندیوں کے بوجھ تلے دبنے نہ دیجیے۔ انہیں ایسا ماحول دیجیے جہاں وہ علم بھی حاصل کر سکیں، اپنے وطن کی خدمت بھی کر سکیں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندگی بھی گزار سکیں۔ آخر میں بس اتنا کہنا ہے: حجاب کے پیچھے کوئی خواب دیکھتی ہوئی بیٹی بھی ہے، کوئی ماں کی امید بھی ہے، کسی باپ کی دعا بھی ہے۔ اس کے ہاتھ میں کتاب ہے، آنکھوں میں مستقبل کے خواب ہیں اور دل میں اپنے رب سے محبت ہے۔ اس کے خوابوں کو اس کے لباس کی وجہ سے مت توڑیے۔ اسے علم سے محروم مت کیجیے، اسے اپنی شناخت اور تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور مت کیجیے۔ کیونکہ کسی معاشرے کی اصل خوب صورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب لوگ ایک جیسے دکھائی دیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہاں مختلف شناخت رکھنے والے لوگ بھی عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر مسلمان بیٹی کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے، اس کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اسے علم، عزت اور کامیابی کے راستوں پر گا

About