ولی محمد “سپراجٹ “ خاندان سے تعلق رکھتا تھا ، اور اس کا کام کھوجی کا تھا ، قدموں کے نشانوں کو کھوجتا ہوا چوروں تک پہنچ جاتا تھا ، کئ ایسے ڈاکو اور چور پکڑنے میں اپنی کارگری دکھائ جنہیں تلاش کرنا عام کھوجیوں کے بس میں نہ تھا ، اس گھرانے کا پہلا بیٹا ہوا تو شیر محمد نام رکھا گیا ، شاید جرات اور بہادری کے دلدادہ تھے تو نام بھی ایسا ہی چنا گیا ، دوسرا بیٹا ہوا تو اس کا نام “ حق نواز “ تجویز کیا گیا ، نجانے کیسے جانتے تھے کہ اس کی حق نوائ کی دنیا مثالیں دے گی ۔
حق نواز ابھی ایک سال کا تھا کہ ماں کی جدائ کا صدمہ اٹھانا پڑا ، کچھ بڑا ہوا تو ماموں جان کے قدموں میں بیٹھ کر قرآن حمید کا حافظ بنا ، خانیوال کی شیخان والی مسجد سے تجوید و قرأت کی تعلیم حاصل کی اور دارالعلوم کبیروالا سے درس نظامی کے درجات پڑھنے کے بعدخیرالمدارس ملتان سے سر پر دستارِ فضیلت سجائ اور کام میں جت گیا ۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک مدرسے میں تدریس کی ، کچھ سال تدریس کے بعد جھنگ کی پپلیاں والی مسجد میں امام و خطیب کے طور پر ذمہ داری سنبھالی ، خطابت میں جان تھی ، فکر میں تنوع تھا ، جگر میں گرمی تھی ، دل میں درد تھا ، سو گونجتی آواز لہراتی رہی اور خطابت میں مشہور ہوتا رہا۔
یہ نوجوان جمیعت علماء اسلام اور تحریک ختم نبوت کا حصہ بنا، موثر کردار ادا کیا ، تحریکی اور تنظیمی ذہن تھا سو سوچوں کے دریچے کھلتے رہے ، قدم آگے بڑھتے رہے اور فکرتازہ کو شعور ملتا رہا ۔
ان سب کے درمیان اپنے بابا کی وراثت میں ملا کام نئے طرز سے شروع کیا ، بابا مال کے چوروں اور ڈاکوؤں کو پکڑا کرتے تھے ، اس نوجوان نے ایمان کے چوروں کو پکڑنے کا فیصلہ کیا ، قدموں کے نشان ڈھونڈتے ہوئے ان منافقین کو ڈھونڈ نکالا جو اپنی ہر پروڈکٹ پر اسلامی لیبل لگائے پھرتے تھے ، حق نواز نے سب کو بتایا کہ شراب پر روح افزاء لکھنے سے حرمت کا فتوی بدل نہیں جایا کرتا ، یہ ایمان کے چور ہیں ، یہ دین کے ڈاکو ہیں ، یہ غاصب ، راہزن اور لٹیرے ہیں ۔
جھنگ کا گمنام گاؤں تھا ، چھوٹی سی مسجد تھی ، کچھ نمازی جمع تھے ، چند نوجوان سر جوڑے بیٹھے تھے ، دبلا پتلا سا ایک خطیب انہیں بتا رہا تھا کہ ؛
“ لوگو ! ہمارے اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں صحابہ کرام اور امھات المومنین جیسی پاکباز ہستیاں محفوظ نہیں ، یہ دیکھو فلاں کتاب ، اس کتاب کا فلاں صفحہ ، اس صفحے کی فلاں سطر ، اس میں کس کو گالی دی جارہی ہے؟ اور پھر آہ بلند ہوتی اور دیوانے کی روح تڑپ اٹھتی ، جسم کی رگیں ابھر جاتیں ، چہرہ سرخ ہوجاتا ، سانس پھولنے لگتا ، آستینیں چڑھا کر ، کتاب در کتاب ، صفحہ در صفحہ بتایا جاتا کہ یہ
2026-09-09 04:18:23
6
InayatUllah Khan :
mashallah
2026-09-09 09:05:23
3
Hammad Abbasi SSp :
ماشآء اللّٰہ ❤️🥰❤️❤️🥰🥰
2026-09-10 03:16:38
0
😂🔱™️Talha ✖️ X Zilzal™️🔱✖️ :
mara bhe dill karta ha ka Yahan hifz karon 🥰🥰🥰
2026-09-10 02:18:56
0
Nayabansari1211 :
masha Allah subhanallah
2026-09-09 08:10:22
1
محمد جمشید خان تنولی :
2026-09-09 07:49:31
1
abdul :
2026-09-09 18:47:07
0
Tahir khan :
MashaAllah g
2026-09-09 04:14:40
0
m tahir tahir jhang :
mashallah mashallah
2026-09-09 17:00:30
1
.Abdullah Piyare :
[Sticker] masha Allah
2026-09-09 20:19:58
0
جنگ بلوچستان :
ماشاءاللہ بہت خوب جناب
2026-09-10 02:35:55
0
راشد وفا راشد علی :
ماشاءاللہ زبردست کامیابی حاصل کی ہے
2026-09-10 01:44:23
0
hamidkhankhankhankhankhankjank :
SubhAllah
2026-09-09 08:05:16
0
To see more videos from user @ulma.e.deoband0, please go to the Tikwm
homepage.