@kmahmood1441: سورہ آل عمران - آیات 110 تا 115 آیاتِ مبارکہ كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ... ﴿110﴾ لَنۡ يَّضُرُّوۡكُمۡ اِلَّاۤ اَذًى... ﴿111﴾ ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ... ﴿112﴾ لَـيۡسُوۡا سَوَآءً... ﴿113﴾ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ... ﴿114﴾ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَلَنۡ 1 ترجمہ: 110. تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا، ان میں کچھ مومن ہیں اور اکثر نافرمان ہیں۔ 111. وہ تمہیں ستانے کے سوا ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اگر وہ تم سے لڑیں گے تو تمہارے سامنے پیٹھ پھیر جائیں گے، پھر ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ 112. ان پر جہاں کہیں بھی پائے جائیں ذلت مسلط کر دی گئی، سوائے اس کے کہ اللہ کی رسی اور لوگوں کی رسی کا سہارا ہو، اور وہ اللہ کے غضب میں گرفتار ہو گئے اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی، یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے، یہ اس لیے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھ جاتے تھے۔ 113. سب ایک جیسے نہیں ہیں، اہل کتاب میں ایک جماعت قائم رہنے والی ہے جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتی ہے اور سجدہ کرتی ہے۔ 114. وہ اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں، اور یہی لوگ نیک لوگوں میں سے ہیں۔ 115. اور وہ جو بھی بھلائی کریں گے اس کی ناقدری ہرگز نہیں کی جائے گی، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔ 7 تفسیر و تشریح: 1. آیت 110: خیر امت کا اعزاز اور ذمہ داری یہ امتِ محمدیہ ﷺ کی فضیلت کی بنیادی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں دنیا کی رہنمائی کے لیے نکالا گیا ہے۔ اس سے پہلے یہ منصب بنی اسرائیل کے پاس تھا، لیکن انہوں نے اس کے تقاضے پورے نہ کیے۔ 1 خیر امت ہونے کی تین شرائط بیان کی گئیں: - تامرون بالمعروف: بھلائی، انصاف اور اللہ کی اطاعت کی طرف بلانا - وتنہون عن المنکر: برائی، ظلم اور گناہ سے روکنا - وتومنون باللہ: اللہ پر کامل ایمان یعنی یہ فضیلت بلا وجہ نہیں، بلکہ اس عظیم مشن کی وجہ سے ہے۔ اگر ہم امر بالمعروف و نہی عن المنکر چھوڑ دیں تو یہ اعزاز بھی باقی نہیں رہتا۔ آخر میں اہل کتاب کے بارے میں فرمایا کہ ان میں تھوڑے لوگ جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ایمان لائے، لیکن اکثر فاسق ہیں۔ 2. آیت 111-112: یہود کی بے بسی اور ذلت کا سبب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دے رہا ہے کہ اہل کتاب میں سے جو مخالفین ہیں وہ تمہیں زبانی طعن و تشنیع اور سازشوں کے سوا کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ میدانِ جنگ میں وہ تمہارے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکیں گے۔ آیت 112 میں ان کی تاریخی سزا کا ذکر ہے - ضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ**۔ ان پر ذلت مسلط کر دی گئی۔ دنیا میں انہیں جب بھی امن ملا تو اپنے زور پر نہیں، بلکہ **حبل من اللہ (اللہ کے عہد، جیسے مسلمانوں کا دیا ہوا ذمہ کا عہد) یا حبل من الناس (کسی طاقتور قوم کیحمایت) کی وجہ سے ملا۔1 اس ذلت کے دو بڑے اسباب بیان ہوئے: اللہ کی آیات کا انکار کرنا نبیوں کو ناحق قتل کرنا، اور مسلسل نافرمانی اور حد سے تجاوز کرنا۔ 3. آیت 113-115: اہل کتاب میں نیک لوگوں کی تعریف انصافِ قرآن دیکھئے کہ ایک طرف اکثریت کی مذمت کی، تو دوسری طرف فرمایا لَیْسُوْا سَوَآءً - سب برابر نہیں ہیں۔ ان میں ایک امت قائمہ - یعنی حق پر قائم رہنے والی جماعت بھی ہے۔ مفسرین کے نزدیک اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نبی اکرم ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، یا وہ جو اپنے دین پر اخلاص سے قائم تھے اور راتوں کو عبادت کرتے تھے۔ ان کی 5 صفات بیان کی گئیں: رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت اور سجدہ ریزی اللہ اور یوم آخرت پر سچا ایمان امر بالمعروف و نہی عن المنکر خیرات میں سبقت اور جلدی کرنا صالحین میں سے ہونا اور پھر آیت 115 میں خوشخبری دی کہ وَمَا يَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَيۡرٍ فَلَنۡ يُّكۡفَرُوۡهُ - ان کی کوئی نیکی ضائع نہیں کی جائے گی، اللہ اس کا پورا اجر دے گا، کیونکہ **اللہ متقین کو جانتا ہے**۔ ان آیات سے حاصل ہونے والے اسباق: مسلمان کی ذمہ داری صرف اپنی عبادت نہیں، بلکہ معاشرے کی اصلاح بھی ہے۔ دشمن کی سازشوں سے گھبرانا نہیں چاہیے، اصل طاقت اللہ دیتا ہے۔ کسی قوم پر اللہ کا غضب اس کے اپنے اعمال - حق کا انکار اور نبیوں کی تعلیمات سے بغاوت کی وجہ سے آتا ہے۔ قرآن انصاف کرتا ہے، مخالف قوم میں بھی جو اچھائی ہو اسے تسلیم کرتا ہے۔