@mr.baloch633: تشریح اس شعر میں اللہ کے انصاف اور اعمال کے انجام کی بات کی گئی ہے۔ انسان کسی پر ظلم کرے، اُس کی زندگی مشکل بنائے یا جان بوجھ کر اُسے تکلیف دے، تو ضروری نہیں کہ اُس ظلم کا جواب فوراً نظر آ جائے؛ لیکن ظلم کو بے حساب نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض لوگ دوسروں کو تکلیف دے کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کامیاب ہو گئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اُن کے اپنے اعمال کے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ مظلوم کی خاموشی کو کمزوری سمجھنا بھی بڑی غلطی ہے، کیونکہ اللہ کے سامنے کسی کے دکھ اور حق سے ناواقفیت نہیں ہوتی۔ اس شعر کا پیغام انتقام لینے کے بجائے اللہ کے انصاف پر یقین رکھنے کا ہے۔ جو شخص دوسروں کے لیے آسانیاں ختم کرتا ہے، اسے اپنے کردار اور اعمال کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مختصر مفہوم: کسی کے ساتھ ظلم کرکے یہ نہ سمجھو کہ بات ختم ہوگئی؛ انسان سے چھپ سکتا ہے، مگر اللہ کے انصاف سے کچھ پوشیدہ نہیں۔ دل کی بات: مظلوم خاموش ہو سکتا ہے، مگر اُس کی تکلیف بے آواز نہیں ہوتی؛ انصاف کا فیصلہ انسان نہیں، وقت اور اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے۔ 🤍 #Fidaa #Baloch #poetrycommunity #urdupoetry #foryoupage