@tribunnews: Kasus dugaan keracunan Makan Bergizi Gratis (MBG) di Kabupaten Karo, Sumatra Utara, menjadi sorotan. Hal itu terjadi setelah seorang siswi berinisial FP (16) diduga mengalami gangguan ingatan setelah kecarunan MBG. FB mengalami gejala keracunan setelah menyantap hidangan MBG pada Kamis (13/8/2026). Sejak saat itu kondisinya kian memburuk. Saat ini ia masih menjalani pemeriksaan kesehatan di Rumah Sakit Umum Pusat (RSUP) Haji Adam Malik Medan. Penanganan FP dilakukan secara intensif dengan melibatkan tiga dokter spesialis. Kasus ini mendapat respons dari Gubernur Sumatra Utara (Sumut) Bobby Nasution dan Badan Gizi Nasional (BGN) Sumut. Sementara itu, dapur Satuan Pelayanan Pemenuhan Gizi (SPPG) yang diduga membuat ratusan siswa mengalami keracunan, termasuk FP telah diberikan sanksi berupa penutupan. #SumatraUtara #BobbyNasution #BGN #Keracunan #MBG

Tribunnews
Tribunnews
Open In TikTok:
Region: ID
Wednesday 09 September 2026 10:18:23 GMT
9540
79
2
0

Music

Download

Comments

To see more videos from user @tribunnews, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

کاش سمندر کی کسی خاموش شام میں مجھے وہ بچہ دوبارہ مل جائے، جو لہروں سے نہیں ڈرتا تھا، جو ریت پر گرتا تھا تو ہنس کر اٹھ جاتا تھا، اور جس کے لیے خوشی کا مطلب صرف اتنا تھا کہ ہوا تیز چل رہی ہے اور سمندر سامنے ہے۔ وہ بچہ شاید آج بھی میرے اندر کہیں زندہ ہے، مگر زندگی کی ذمہ داریوں، لوگوں کی توقعات اور معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں کے نیچے اتنا دب گیا ہے کہ اس کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر اسی ساحل پر جا بیٹھوں، اپنے برسوں کے غم ایک ایک کر کے لہروں میں بہا دوں، پھر ننگے پاؤں ریت پر چلوں اور اس بچے کی طرح بےفکری سے جھوموں جسے نہ دنیا کو کچھ ثابت کرنا تھا، نہ کسی کے سامنے خود کو درست ثابت کرنا تھا۔ شاید ہم بڑے ہو کر خوش رہنا نہیں بھولتے، ہم صرف یہ بھول جاتے ہیں کہ خوشی کس طرح محسوس کی جاتی ہے۔ اور شاید میری سب سے بڑی خواہش بھی کوئی نئی زندگی نہیں، بس اپنے اندر دفن اُس معصوم زندگی تک دوبارہ پہنچ جانا ہے، جہاں دل پر بوجھ نہیں تھا، آنکھوں میں خوف نہیں تھا، اور مسکرانے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں تھی 🥹💔
کاش سمندر کی کسی خاموش شام میں مجھے وہ بچہ دوبارہ مل جائے، جو لہروں سے نہیں ڈرتا تھا، جو ریت پر گرتا تھا تو ہنس کر اٹھ جاتا تھا، اور جس کے لیے خوشی کا مطلب صرف اتنا تھا کہ ہوا تیز چل رہی ہے اور سمندر سامنے ہے۔ وہ بچہ شاید آج بھی میرے اندر کہیں زندہ ہے، مگر زندگی کی ذمہ داریوں، لوگوں کی توقعات اور معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں کے نیچے اتنا دب گیا ہے کہ اس کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی۔ کبھی دل چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر اسی ساحل پر جا بیٹھوں، اپنے برسوں کے غم ایک ایک کر کے لہروں میں بہا دوں، پھر ننگے پاؤں ریت پر چلوں اور اس بچے کی طرح بےفکری سے جھوموں جسے نہ دنیا کو کچھ ثابت کرنا تھا، نہ کسی کے سامنے خود کو درست ثابت کرنا تھا۔ شاید ہم بڑے ہو کر خوش رہنا نہیں بھولتے، ہم صرف یہ بھول جاتے ہیں کہ خوشی کس طرح محسوس کی جاتی ہے۔ اور شاید میری سب سے بڑی خواہش بھی کوئی نئی زندگی نہیں، بس اپنے اندر دفن اُس معصوم زندگی تک دوبارہ پہنچ جانا ہے، جہاں دل پر بوجھ نہیں تھا، آنکھوں میں خوف نہیں تھا، اور مسکرانے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں تھی 🥹💔

About