@salmanumvi19: امیر المومنین یزید بن معاویہ رحمہ اللہ المحاسن والمساوئ میں یہ واقعہ صفحات 105–106 پر مسلسل موجود ہے۔ ترجمہ > راوی بیان کرتا ہے کہ معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو موسمِ گرما کی رومی مہم پر روانہ کرنے کا ارادہ کیا۔ یزید اپنے والد حضرت معاویہ سے بے پناہ محبت و انس کی وجہ سے اس مہم پر جانا پسند نہیں کرتا تھا، چنانچہ اس نے یہ اشعار کہے: "تم ہمیشہ مجھ پر کوئی نہ کوئی بوجھ( ذمہ داری) ڈالتے رہتے ہو، تاکہ میرے اور تمہارے درمیان تعلق کا رشتہ توڑ دو۔ عنقریب میری ان تکلیفوں سے نجات اس طرح ہوگی کہ میں ہلاکتوں کے مقامات کی طرف نکل جاؤں گا اور سفر اختیار کر لوں گا۔" اس کے باوجود یزید روانہ ہوا اور لوگ بھی اس کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جو لوگ اس مہم میں شریک تھے، ان میں رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت ابو ایوب انصاریؓ بھی شامل تھے۔ جب لشکر قسطنطنیہ کے قریب پہنچا تو ابو ایوب انصاریؓ بیمار ہوگئے۔ یزید ان کی عیادت کے لیے آیا اور ان سے پوچھا: "اے ابو ایوب! آپ کی کیا ضرورت ہے؟" ابو ایوبؓ نے فرمایا: "تمہاری دنیاوی چیزوں میں مجھے کوئی حاجت نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: 'قسطنطنیہ کے قریب ایک نیک شخص دفن کیا جائے گا۔' مجھے امید ہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں گا۔ لہٰذا جب میری وفات ہوجائے تو مجھے جہاں تک ممکن ہو دشمن کے علاقے میں آگے لے جانا۔" پھر ابو ایوبؓ کا انتقال ہوگیا۔ جب ان کے کفن دفن کی تیاری مکمل ہوگئی اور انہیں چارپائی/جنازے پر رکھا گیا تو یزید نے لشکر کے دستوں کو جنازے کے آگے آگے روانہ کیا۔ رومیوں کے بادشاہ قیصر نے یہ عجیب منظر دیکھا کہ ایک جنازہ لے جایا جا رہا ہے اور اس کے اردگرد مسلح لوگ ہیں۔ قیصر نے یزید کی طرف پیغام بھیجا: "یہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، یہ کیا ہے؟" یزید نے جواب دیا: "یہ ہمارے نبی ﷺ کے ایک صحابی ہیں۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں تمہارے شہر کے قریب دفن کیا جائے۔ ہم ان کی وصیت پوری کرکے رہیں گے، یا اسی کوشش میں ہماری جانیں اللہ کے سپرد ہوجائیں گی۔" قیصر نے جواب بھیجا: "لوگوں پر تعجب ہے! اور تمہارے والد کی جس دانائی اور معاملہ فہمی کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کے باوجود انہوں نے تمہیں اس مہم پر بھیجا ہے کہ تم اپنے نبی کے صحابی کو میرے شہر کے قریب دفن کرو! جب تم یہاں سے واپس چلے جاؤ گے تو میں ان کی قبر کھدوا کر ان کی لاش کتوں کے سامنے پھینک دوں گا۔" اس پر یزید نے قیصر کو جواب بھیجا: "میں نے انہیں محض تمہارے علاقے میں دفن کرنے کے لیے یہاں نہیں لایا، بلکہ میں چاہتا تھا کہ پہلے تمہارے کانوں تک میری یہ بات پہنچ جائے۔ تم اس ذات کے منکر ہو جس کی خاطر میں نے اس میت کی تکریم کی ہے۔ اگر تم نے اس قبر سے کوئی تعرض کیا تو میں عرب کی سرزمین میں ایک بھی نصرانی کو نہیں چھوڑوں گا مگر اس کا خون بہاؤں گا، اس کا مال چھین لوں گا اور اس کے خاندان کو قیدی بنا لوں گا۔" یہ سن کر قیصر نے یزید کو جواب بھیجا: "تمہارے والد تم سے زیادہ مجھے پہچانتے تھے۔ میں مسیح علیہ السلام کے حق کی قسم کھاتا ہوں کہ اس قبر کی حفاظت ایک سال تک میرے سوا کوئی نہیں کرے گا۔"