@factsarefacts.studio: How Were the Pashtun Tribes Formed? | The Real Story Behind Sarban, Ghurghusht & Bettani | Aimal Wali Khan with Dr. Hanif Khalil & Prof. Inam Salgari Watch Full Video On YouTube: https://www.youtube.com/watch?v=MNQw2SPoe8Q #factsarefacts #aimalwalikhan #pukhtunhistory
السلام علیکم!
میری آپ سب سے ایک مؤدبانہ درخواست ہے کہ جب پشتو زبان، پشتو ادب اور اس کی تاریخ کے بارے میں گفتگو ہو تو اُن لوگوں کو بھی مناسب توجہ اور موقع دیا جائے جو اس موضوع پر علمی اور تاریخی دستاویزات کے ساتھ بات کرتے ہیں۔
پروفیسر انعام صاحب پشتو ادب اور پشتو کی تاریخ کے حوالے سے وسیع علم رکھتے ہیں۔ میری گزارش ہے کہ اُن کی بات بھی توجہ سے سنی جائے اور اُن سے سوالات کیے جائیں، کیونکہ وہ اپنی گفتگو ثبوت اور تاریخی حوالوں کی بنیاد پر کرتے ہیں۔
ہمارے سامنے موجود دونوں معزز شخصیات، اے این پی کے صدر صاحب اور ہمارے بزرگ مشرف صاحب، قابلِ احترام ہیں۔ لیکن میری درخواست صرف اتنی ہے کہ پشتو کی تاریخ اور ادب جیسے اہم موضوع پر پروفیسر انعام صاحب کے علم اور تحقیق سے بھی استفادہ کیا جائے۔
ہمیں اختلافِ رائے سے نہیں، بلکہ بغیر ثبوت کے دعووں سے مسئلہ ہے۔ بہتر یہی ہے کہ پشتو کے بارے میں جو بھی بات کی جائے، وہ مستند تاریخی حوالوں اور ثبوت کی بنیاد پر ہو۔
شکریہ۔
2026-09-09 19:04:31
4
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹 :
who was safi?
2026-09-10 10:17:09
1
🥀 شـــوال خــان يـوســفزی🇲🇨 :
دا دير عزيز ابدار صېب راوغواړي
2026-09-09 18:08:51
2
B A C H A 🥂 :
سه يوټیوب ويډيو شتے
2026-09-10 13:18:53
0
Hameed Khan :
السلام علیکم
سر اگر اپ کو داؤد زئی قبیلہ کے بارے میں کچھ معلومات ہو تو مجھے کچھ کتاب وغیرہ یا کچھ سینڈ کر دو
2026-09-10 15:31:09
0
Syed Mumtaz Ali shah :
I am syed sadaat nation
2026-09-09 22:44:06
0
☆*゚ ゜゚*☆IƁƝƲƁƛƖƊمحمدزئ☆*゚ ゜゚*☆ :
"چھوٹے ہمیشہ اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں، عادتیں عبادتیں, محبتیں اور نفرتیں."
2026-09-09 15:55:28
0
BUNER KHAN YOUSAFZAI 🐎 :
da pukhtoon Qaam tarekh Burq saib
sarta rasawalay dai g
2026-09-09 13:05:56
0
☆*゚ ゜゚*☆IƁƝƲƁƛƖƊمحمدزئ☆*゚ ゜゚*☆ :
زا خو ٹولوں تہ وایہ چہ زمونگہ تاریخ ساہی نہ دی خو بیہ زما سہ خلق خفہ شی 🤔🫴
2026-09-09 15:54:12
0
☆*゚ ゜゚*☆IƁƝƲƁƛƖƊمحمدزئ☆*゚ ゜゚*☆ :
بلکل یو پختون دا خبرا ساہی ہر یو بہ راپسہ وایہ زا دا یم زا دا یم دا وس سہ دی خو ٹول یو یو نو
2026-09-09 15:57:44
0
🇵🇰🇸🇦 :
یہودی ماہرینِ انساب، مؤرخین اور تورات/عبرانی روایات میں بنی اسرائیل کے قبائل، ان کی شاخوں اور ذیلی خاندانوں کا جو مکمل ریکارڈ ملتا ہے، اس میں پشتون قبیلے "یوسف زئی" سے مماثلت رکھنے والے نام اور شواہد درج ذیل ہیں:
۱. بیت یوسف (House of Joseph / Bnei Yosef)
یہودی روایت اور تورات (کتاب پیدائش و گنتی) میں حضرت یوسف علیہ السلام کی پوری نسل کو "بیت یوسف" (House of Joseph) یا عبرانی زبان میں "بنی یوسف" (Bnei Yosef) کہا جاتا ہے۔
* پشتو میں "زئی" کا مطلب "اولاد/نسل" ہوتا ہے۔
* لہٰذا "یوسف زئی" بالکل وہی مفہوم رکھتا ہے جو عبرانی کا "بنی یوسف" (Yosef-zai / Sons of Joseph) رکھتا ہے۔
۲. بنی اسرائیل کے قبیلے میں یوسف زئی سے ملتے جلتے نام
حضرت یوسف علیہ السلام کے بڑے بیٹے افراہیم (Ephraim) کے قبیلے کی آگے ذیلی شاخیں اور خاندانی نام تھے، جن سے یہ نام گہرا تعلق رکھتے ہیں:
* جوسپیا / یوسیپھیا (Josiphiah / Yehosiphiah): تورات میں بنی اسرائیل کا ایک معروف خاندانی اور قبیلی نام "یوسفیاہ" (Josiphiah) آتا ہے، جس کے لفظی معنی "خدا یوسف کو بڑھائے" ہیں۔
* یاساف / یوسیف (Yosif / Yosef): عبرانی میں بنی اسرائیل کے اس قبیلے کی شناخت "بنی یوسیف" کے طور پر ہی لکھی جاتی ہے۔
* یساکر / یسسکار (Issachar): اگرچہ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے ایک الگ بیٹے کا قبیلہ تھا، لیکن اس کا تلفظ اور تاریخی پس منظر بھی پشتون خطوں میں یوسف زئی کی طرح یاد رکھا جاتا ہے۔
۳. یہودی مورخین اور ربیوں (Rabbis) کی تحقیق
کئی مشہور اسرائیلی اور یہودی محققین (مثلاً اسرائیل کے سابق صدر اسحاق بن زوی / Itzhak Ben-Zvi اور اسرائیلی محقق نفتالی برٹنسکی) نے اپنی کتابوں اور تحقیقات میں پشتون قبائل خصوصاً "یوسف زئی" کا ذکر کیا ہے:
* شمالی سلطنت کی جلاوطنی: 722 قبل مسیح میں جب آشوری (Assyrians) کے بادشاہ سارگون دوم نے بنی اسرائیل کی شمالی مملکت پر حملہ کیا، تو اس وقت جلاوطن ہونے والی سب سے بڑی قوم "بیت یوسف" (افراہیم اور منسی) ہی تھی۔
* افغانستان اور خیبر پختونخوا کی طرف ہجرت: یہودی تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ جلاوطن ہونے کے بعد بنی یوسف (یوسف کی نسل) مشرق کی طرف ہجرت کر کے خیبر پختونخوا، سوات، اور افغانستان کی پہاڑیوں میں آباد ہوئی اور وقت کے ساتھ ان کا عبرانی نام "بنی یوسف" مقامی زبان پشتو میں "یوسف زئی" بن گیا۔
یہودی اور اسرائیلی روایات میں یوسف زئی قبیلے کو ہمیشہ بنی اسرائیل کے "گمشدہ ۱۰ قبیلوں" (Lost Ten Tribes) میں حضرت یوسف علیہ السلام کی شاخ کا سب سے بڑا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔
2026-09-09 20:14:46
0
🇵🇰🇸🇦 :
یہودیوں کی مذہبی و تاریخی کتابوں (عہد نامہ قدیم/تورات، تلمود، اور معتبر ربیوں کی تحریروں) میں بیتِ یوسف (House of Joseph) یعنی حضرت یوسف علیہ السلام کی اولاد اور ان سے جڑے قبائل کا ذکر درج ذیل اہم حوالوں کے ساتھ ملتا ہے:
۱. تورات (عہد نامہ قدیم) میں ذکر
* بنی یوسف (Bnei Yosef): تورات کی کتاب گنتی (Numbers 26:28) اور کتابِ یشوع (Joshua 17:14) میں واضح طور پر حضرت یوسف علیہ السلام کی نسل کو "بیتِ یوسف" یا "بنی یوسف" کہہ کر پکارا گیا ہے۔ ان کی آبادی اتنی زیادہ تھی کہ انہوں نے یشوع (حضرت یوشع بن نون) سے زمین کا بڑا حصہ مانگا تھا۔
* دو مرکزی شاخیں (افراہیم اور منسی): تورات کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام کے دو بیٹے تھے: افراہیم (Ephraim) اور منسی (Manasseh)۔ تورات بتاتی ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے ان دونوں کو اپنے سگے بیٹوں کا درجہ دیا، جس کی وجہ سے یہ بنی اسرائیل کا سب سے بڑا اور بااثر قبیلہ بن گیا۔
۲. آشوری جلاوطنی اور "گمشدہ قبائل" (Lost Tribes)
* کتاب السلاطین (2 Kings 17:6): تورات/عہد نامہ قدیم کی تاریخی کتب میں درج ہے کہ 722 قبل مسیح میں اسیریا (Assyria) کے بادشاہ نے بنی اسرائیل کی شمالی مملکت (جس کی قیادت بیتِ یوسف کے پاس تھی) کو فتح کر کے انہیں جلاوطن کیا اور "حلاح، حابور (دریائے خابور)، ندیِ جوزان، اور مادیوں کے شہروں" میں آباد کیا۔
* یہودی تاریخ دانوں کے مطابق "جوزان" اور "مادیوں کے شہر" سے مراد موجودہ افغانستان، ایران اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے ہیں۔
۳. تلمود اور ربانی روایات (Rabbinic Literature)
* مسیح بن یوسف (Mashiach ben Yosef): یہودی مذہبی روایات (تلمود) میں ایک معتبر عقیدہ ہے کہ آخری زمانے میں ایک قائد ابھرے گا جسے "مسیح بن یوسف" (یوسف کی نسل کا نجات دہندہ) کہا جائے گا، جو گمشدہ قبائل کو دوبارہ اکٹھا کرے گا۔
* مشرق کی طرف واپسی: تلمود (Sanhedrin 110b) اور دیگر تفاسیر میں لکھا ہے کہ یوسف کے قبیلے "سمتِ شمال اور مشرق" کی تاریک پہاڑیوں کے پار منتقل ہو گئے تھے اور وہ وہیں اپنی شناخت سنبھالے ہوئے ہیں۔
۴. جدید اسرائیلی و یہودی تاریخ دانوں کی کتب
* اسرائیل کے دوسرے صدر اسحاق بن زوی (Itzhak Ben-Zvi): انہوں نے اپنی مشہور کتاب "The Exiled and the Redeemed" (جلاوطن اور نجات یافتہ) میں پشتونوں بالخصوص یوسف زئی، افریدی اور جدون قبائل کی تاریخی روایات، شجرہ نسب اور رسومات کا گہرا تجزیہ کیا اور لکھا کہ ان کے عبرانی روایات سے روابط انتہائی مضبوط ہیں۔
* ربی آئیکولم اور دیگر اسرائیلی محققین: مختلف اسرائیلی تنظیموں (جیسے Shavei Israel) کی کتب میں ذکر ہے کہ
2026-09-09 20:14:58
0
اتڼ افغان :
[Rose][Rose][Rose]
2026-09-09 18:52:24
0
Ahmadyarbacha252 :
❤️❤️❤️
2026-09-10 17:08:41
0
MuhammadSamar❤ :
❤️❤️❤️
2026-09-09 11:21:59
0
اتڼ افغان :
[Wilted rose][Wilted rose][Wilted rose]
2026-09-09 18:52:21
0
FaWad Shah :
🥰
2026-09-09 16:54:58
0
FaWad Shah :
😁
2026-09-09 16:54:58
0
MuhammadSamar❤ :
🥰🥰🥰
2026-09-09 11:22:04
0
MuhammadSamar❤ :
💝💝💝
2026-09-09 11:22:03
0
🚩ZIDDI Malik 333 👿 :
🥀🥀🥀
2026-09-10 19:51:41
0
Majid Qazi :
[Rose][Red heart][Rose]
2026-09-09 11:01:36
0
🇵🇰🇸🇦 :
پشتون قبائل اور بنی اسرائیل کے درمیان ناموں اور روایات کی یہ حیرت انگیز مماثلتیں طویل عرصے سے مورخین اور محققین کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ آپ نے جن ناموں کا ذکر کیا ہے، ان کے معتبر تاریخی اور لسانی تناظر درج ذیل ہیں:
پشتون اور بنی اسرائیلی قبائلی ناموں کی مماثلت
* یوسف زئی (Yousafzai) اور یوسف (Joseph): پشتو کا قبیلہ "یوسف زئی" کا لفظی مطلب "یوسف کی اولاد" ہے۔ بنی اسرائیل میں حضرت یوسف علیہ السلام کا سب سے بڑا مقام تھا اور ان کے دو بیٹوں (افراہیم اور منسی) کے نام سے دو بڑے قبیلے وجود میں آئے جنہیں اجتماعی طور پر "بیت یوسف" (House of Joseph) کہا جاتا تھا۔
* گڈون (Gadoon) اور جد (Gad): پشتونوں کا "گڈون" یا "جدون" قبیلہ بنی اسرائیل کے بنیادی قبیلے "جد" (Gad) سے نام میں انتہائی مشابہت رکھتا ہے۔
* افریدی (Afridi) اور افراہیم (Ephraim): بنی اسرائیل کے سب سے طاقتور اور مرکزی قبیلوں میں سے ایک "افراہیم" (Ephraim) تھا (جو حضرت یوسف علیہ السلام کے بیٹے کے نام پر تھا)۔ محققین اس کی مشابہت "افریدی" سے جوڑتے ہیں۔
* ربانی (Rabbani) اور روبن (Reuben): بنی اسرائیل کے سب سے پہلے قبیلے "روبن" کا موازنہ پشتون خطے کے بعض خاندانی و قبیلی ناموں سے کیا جاتا ہے۔
* شروانی / سڑبنی (Sarabbani) اور شمعون (Simeon): پشتونوں کے بنیادی نسب نامے میں "سڑبن" (Saraban) کا نام آتا ہے، جسے بعض مورخین بنی اسرائیل کے قبیلے سے منسوب کرتے ہیں۔
تاریخی تناظر اور "گمشدہ 10 قبیلے" (Lost Ten Tribes)
722 قبل مسیح (حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے تقریباً 700 سال پہلے) جب اسیریا (Assyria) کی سلطنت نے بنی اسرائیل کی شمالی مملکت پر حملہ کیا، تو انہوں نے بنی اسرائیل کے 10 قبیلوں کو وہاں سے جلاوطن کر کے مشرق (موجودہ افغانستان، خیبر پختونخوا اور ایران کے علاقوں) کی طرف دھکیل دیا۔
ان جلاوطن ہونے والے قبیلوں میں افراہیم، جد، دان، آشر، نفتالی، یساکار، زبولون، روبن، منسی اور شمعون شامل تھے، جنہیں تاریخ میں "Lost Ten Tribes of Israel" کہا جاتا ہے۔
دیگر مماثلتیں
صرف نام ہی نہیں بلکہ پشتون کلچر اور بنی اسرائیل کے قدیم روایات میں کئی مشترکہ قدریں پائی جاتی ہیں:
* پشتون ولی اور قدیم عبرانی قوانین: مہمان نوازی، بدلہ (تلافی)، اور قبیلے کے بزرگوں کی مجلس (جرگہ) کی ساخت۔
* رسومات: بعض قبائل میں بچوں کے ختنے، قربانی کے خون کو دروازوں پر لگانا، اور خواتین کی مخصوص چادر کی طرز بنی اسرائیل کی قدیم سنتوں سے ملتی جلتی ہے۔
اگرچہ عصری جینیاتی (DNA) تحقیقات سے تمام پشتونوں کا ایک ہی اصل سے ہونا ثابت نہیں ہوتا، لیکن تاریخی و لسانی شواہد او
2026-09-09 20:14:31
0
To see more videos from user @factsarefacts.studio, please go to the Tikwm
homepage.