@toppenmy: 𝐓𝐡𝐢𝐧𝐤 𝐘𝐨𝐮 𝐊𝐧𝐨𝐰 𝐌𝐚𝐥𝐚𝐲𝐬𝐢𝐚? 𝐋𝐞𝐭’𝐬 𝐏𝐮𝐭 𝐈𝐭 𝐭𝐨 𝐭𝐡𝐞 𝐓𝐞𝐬𝐭! 🇲🇾 . How Malaysian are you really? 👀🇲🇾 From Bunga Raya and nasi lemak to everyday Malaysian habits — see how many questions you can get right! . And the final question… When you’re shopping at TOPPEN, which 𝐊𝐨𝐧𝐭𝐢𝐧𝐣𝐞𝐧 are you? 😂 👗 𝐊𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭𝐞𝐫𝐢𝐚𝐧 𝐎𝐎𝐓𝐃 🛍️ 𝐒𝐡𝐨𝐩𝐩𝐢𝐧𝐠 𝐒𝐢𝐚𝐧𝐠 𝐌𝐚𝐥𝐚𝐦 🧍‍♂️ 𝐋𝐚𝐤𝐢 𝐓𝐮𝐧𝐠𝐠𝐮 𝐁𝐢𝐧𝐢 📸 𝐊𝐚𝐦𝐞𝐫𝐚 𝐌𝐚𝐤𝐚𝐧 𝐃𝐮𝐥𝐮 🏠 𝐓𝐚𝐤 𝐍𝐚𝐤 𝐁𝐚𝐥𝐢𝐤 𝐑𝐮𝐦𝐚𝐡 💬 Comment below! . From 𝟐𝟔 𝐀𝐮𝐠–𝟒 𝐎𝐜𝐭, join TOPPEN’s 𝐊𝐢𝐭𝐚 𝐊𝐨𝐧𝐭𝐢𝐧𝐣𝐞𝐧 𝐌𝐞𝐫𝐝𝐞𝐤𝐚 and discover your shopping personality! 📣 Take on the 𝐋𝐚𝐮𝐧𝐠𝐚𝐧 𝐒𝐞𝐦𝐚𝐧𝐠𝐚𝐭 𝐂𝐡𝐚𝐥𝐥𝐞𝐧𝐠𝐞 — shout “SEMANGAT!” 3 times for a chance to win prizes worth 𝐑𝐌𝟏,𝟎𝟎𝟎! 🎁 Plus, shop and redeem exclusive 𝐊𝐢𝐭𝐚 𝐊𝐨𝐧𝐭𝐢𝐧𝐣𝐞𝐧 𝐌𝐞𝐫𝐝𝐞𝐤𝐚 𝐆𝐖𝐏 𝐫𝐞𝐰𝐚𝐫𝐝𝐬. . So… which Kontinjen are you? 👀 Jom discover your Kontinjen at TOPPEN! ✨ . 📍𝗧𝗼𝗽𝗽𝗲𝗻 𝗦𝗵𝗼𝗽𝗽𝗶𝗻𝗴 𝗖𝗲𝗻𝘁𝗿𝗲 🕙 10:00AM – 10:00PM | Monday - Sunday *T&Cs apply. . #Toppen #ToppenShoppingCentre #TOPPClub #DiscoverToppen #JohorBahru

ToppenMY
ToppenMY
Open In TikTok:
Region: MY
Wednesday 09 September 2026 10:00:37 GMT
921
10
1
3

Music

Download

Comments

azza22617
Azza :
Mcc CB
2026-09-12 11:22:57
0
To see more videos from user @toppenmy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی واقعے کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔  کوہاٹ واقعے میں دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس، سی ٹی ڈی اور تمام اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑنے والے ہمارے شہداء نے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے،  2004 سے آج تک 22 سال سے خیبرپختونخوا مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، عمران خان کے دور حکومت میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود پاکستان میں امن قائم تھا، آج افغانستان میں موجود حکومت کے ساتھ چائے پر ملاقاتیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود تعلقات بہتر نہیں ہوئے، افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں، بارڈر بند ہے، گزشتہ مالی سال خیبرپختونخوا کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث رواں مالی سال بھی خیبرپختونخوا کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا، 22 سال سے ایک پالیسی پر عمل ہو رہا ہے جو نتائج نہیں دے رہی، اب پالیسی تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے، ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دے رہے ہیں لیکن کوئی اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں، وفاقی حکومت اور اداروں کی تمام توجہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے اور عمران خان کو جیل میں رکھنے پر مرکوز ہے، وفاقی حکومت کی ترجیح سیاسی انتقام ہے، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ ان کی ترجیح نہیں،  پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے تین چھوٹے صوبوں سے خطرہ ہے، پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ غلط ہے، پاکستان کو فتنہ الہندستان سے خطرہ نہیں،  جب سے ہماری حکومت آئی ہے پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی دیے گئے، مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا ہے، پولیس کو مضبوط کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا، ہمارے اراکین صوبائی اسمبلی نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے وسائل فراہم کیے،  وفاقی حکومت کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جو شہداء حکومتی شہداء پیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے خاندانوں کے لیے بھی مالی معاونت کا اعلان کرتا ہوں، کوہاٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو تمام ضروری اور اہم طبی آلات فراہم کیے جائیں گے،  دھماکے میں متاثر ہونے والی مسجد اور اسپیشل برانچ پولیس اسٹیشن کی تعمیر نو کرائی جائے گی، کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کے ہسپتال کا پہلے ہی اعلان کر چکا ہوں، اسے کم سے کم مدت میں مکمل کیا جائے گا، اراکین قومی اسمبلی شہریار آفریدی، داؤد آفریدی اور صوبائی وزراء شفیع جان اور آفتاب عالم بھی اس موقع پر موجود تھے
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی کوہاٹ پولیس لائنز دہشت گردی واقعے کے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات کی۔ کوہاٹ واقعے میں دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کرنے والے پولیس، سی ٹی ڈی اور تمام اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑنے والے ہمارے شہداء نے قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اللہ تعالیٰ ہمارے شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، 2004 سے آج تک 22 سال سے خیبرپختونخوا مسلسل دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، عمران خان کے دور حکومت میں افغانستان میں بھارت نواز حکومت کے باوجود پاکستان میں امن قائم تھا، آج افغانستان میں موجود حکومت کے ساتھ چائے پر ملاقاتیں کی گئیں لیکن اس کے باوجود تعلقات بہتر نہیں ہوئے، افغانستان کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں، بارڈر بند ہے، گزشتہ مالی سال خیبرپختونخوا کو 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث رواں مالی سال بھی خیبرپختونخوا کو معاشی نقصان کا سامنا ہوگا، 22 سال سے ایک پالیسی پر عمل ہو رہا ہے جو نتائج نہیں دے رہی، اب پالیسی تبدیل کرنے کا وقت آ گیا ہے، ہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پالیسی دے رہے ہیں لیکن کوئی اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں، وفاقی حکومت اور اداروں کی تمام توجہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے اور عمران خان کو جیل میں رکھنے پر مرکوز ہے، وفاقی حکومت کی ترجیح سیاسی انتقام ہے، دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کا تحفظ ان کی ترجیح نہیں، پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کہتی ہیں کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے تین چھوٹے صوبوں سے خطرہ ہے، پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی بیانیہ غلط ہے، پاکستان کو فتنہ الہندستان سے خطرہ نہیں، جب سے ہماری حکومت آئی ہے پولیس کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کے لیے 35 ارب روپے اضافی دیے گئے، مالی سال 2026-27 میں پولیس کا بجٹ بڑھا کر 190 ارب روپے کر دیا ہے، پولیس کو مضبوط کیے بغیر صوبے میں پائیدار امن قائم نہیں کیا جا سکتا، ہمارے اراکین صوبائی اسمبلی نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کرکے پولیس کے لیے وسائل فراہم کیے، وفاقی حکومت کی دہشت گردی سے متعلق پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جو شہداء حکومتی شہداء پیکیج کے دائرہ کار میں نہیں آتے، ان کے خاندانوں کے لیے بھی مالی معاونت کا اعلان کرتا ہوں، کوہاٹ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو تمام ضروری اور اہم طبی آلات فراہم کیے جائیں گے، دھماکے میں متاثر ہونے والی مسجد اور اسپیشل برانچ پولیس اسٹیشن کی تعمیر نو کرائی جائے گی، کوہاٹ میں ایک ہزار بستروں کے ہسپتال کا پہلے ہی اعلان کر چکا ہوں، اسے کم سے کم مدت میں مکمل کیا جائے گا، اراکین قومی اسمبلی شہریار آفریدی، داؤد آفریدی اور صوبائی وزراء شفیع جان اور آفتاب عالم بھی اس موقع پر موجود تھے

About