@adeelwhite4: عجیب المیہ ہے کہ ہم ساری عمر اُن لوگوں کے درمیان رہے جنہیں ہماری آواز سنائی دیتی تھی، مگر درد نہیں۔ ہم قریب تھے، پھر بھی اجنبی رہے؛ شاید اس لیے کہ ہم نے اپنے دکھ کبھی لفظوں میں نہیں رکھے، اور لوگوں نے ہماری خاموشی کو ہماری خوشی سمجھ لیا۔ کچھ چہرے روشنی میں بھی اندھے تھے، اور کچھ اندھیروں نے انہیں اتنا گھیر رکھا تھا کہ انہیں کسی اور کا وجود دکھائی ہی نہیں دیا۔ یوں ہم اپنی ہی محفلوں میں تنہا ہوتے گئے، اور ایک دن احساس ہوا کہ ہمیں جاننے والا کوئی نہیں تھا، سب بس ہمیں اپنی ضرورت کے مطابق سمجھتے رہے