@comparemart21: Medicube PDRN Pink Collagen Jelly Gel Mask Review | ত্বকে কী কী উপকার করে? জানুন বিস্তারিত! #Medicube #PDRN #PinkCollagenJellyMask #SkincareReview #glassskineffect

Compare Mart
Compare Mart
Open In TikTok:
Region: BD
Wednesday 09 September 2026 13:27:09 GMT
1973
38
2
3

Music

Download

Comments

sumiyas4
S queen :
aigulh fermecing dokanei kih pawyai jai
2026-09-09 15:47:13
0
rayhan32425
rayhan32425 :
🥰🥰🥰
2026-09-09 16:31:40
0
To see more videos from user @comparemart21, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

معلومات عن الصلاةالصلاة عمود الدين، وهي أحد أركان الإسلام الخمسة، وهي فريضة واجبة على كل مسلم ومسلمة، أما عن كيفية أداء «الصلاة الصحية» فيجب الإشارة إلى أن الصلاة بحد ذاتها برنامج رياضي مفيد للعظام والمفاصل والعضلات، لكن «الصلاة الصحية» تتطلب الخشوع والسكينة أثناء الصلا، والتركيز على أداء الحركات بشكل سليم ومستقر، كالركوع والسجود، خطوات الصلاة الصحيحة: النية: تكون بالقلب فقط، ولا تحتاج إلى نطقها باللسان، تكبيرة الإحرام: ترفع اليدين بمحاذاة الأذنين وتقول: «الله أكبر»، القيام: تقرأ سورة الفاتحة، ثم ما تيسر لك من آيات القرآن الكريم، الركوع: بخشوع وتذلل، وتردد: «سبحان ربي العظيم»، الانتصاف من الركوع: تقف مستقيماً، وتقول السلام على المصلين، السجود: تسجد مرتين في كل ركعة، مستنداً على السبعة أعضاء: الجبهة، وباطن الكفين، والركبتين، وأصابع القدمين الكبيرتين، وتردد: «سبحان ربي الأعلى»، الجلوس بين السجدتين: تجلس جلوساً مطمئناً قبل الدخول في السجدة الثانية، الشهادة: تقرأ الشهادة في آخر الركعات، فوائد الصلاة الصحية: تزيد من سكينة القلب والثقة بالله تعالى؛ تمنح الإنسان الشعور بالهدوء والاطمئنان والثقة بالنفس، تمنع الفحشاء والمنكر؛ تبعد الإنسان عن الذنوب والمعاصي، برنامج رياضي مثالي: تُعد الصلاة برنامجاً رياضياً ممتازاً لصحة العظام والمفاصل والعضلات، أسئلة أخرى: ما هي أهم المعلومات عن الصلاة؟ الجواب: الصلاة عمود الدين، وهي أعظم الفرائض وأهمها بعد الشهادتين؛ ومن تركها فقد كفر، نعوذ بالله من ذلك، قال النبي ﷺ: «العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة، فمن تركها فقد كفر»، وقال أيضاً: «ما بين الرجل وبين الكفر والشرك إلا ترك الصلاة»، فإن عاقبة ترك الصلاة هي العذاب.#قران #quran #quraan_kareem
معلومات عن الصلاةالصلاة عمود الدين، وهي أحد أركان الإسلام الخمسة، وهي فريضة واجبة على كل مسلم ومسلمة، أما عن كيفية أداء «الصلاة الصحية» فيجب الإشارة إلى أن الصلاة بحد ذاتها برنامج رياضي مفيد للعظام والمفاصل والعضلات، لكن «الصلاة الصحية» تتطلب الخشوع والسكينة أثناء الصلا، والتركيز على أداء الحركات بشكل سليم ومستقر، كالركوع والسجود، خطوات الصلاة الصحيحة: النية: تكون بالقلب فقط، ولا تحتاج إلى نطقها باللسان، تكبيرة الإحرام: ترفع اليدين بمحاذاة الأذنين وتقول: «الله أكبر»، القيام: تقرأ سورة الفاتحة، ثم ما تيسر لك من آيات القرآن الكريم، الركوع: بخشوع وتذلل، وتردد: «سبحان ربي العظيم»، الانتصاف من الركوع: تقف مستقيماً، وتقول السلام على المصلين، السجود: تسجد مرتين في كل ركعة، مستنداً على السبعة أعضاء: الجبهة، وباطن الكفين، والركبتين، وأصابع القدمين الكبيرتين، وتردد: «سبحان ربي الأعلى»، الجلوس بين السجدتين: تجلس جلوساً مطمئناً قبل الدخول في السجدة الثانية، الشهادة: تقرأ الشهادة في آخر الركعات، فوائد الصلاة الصحية: تزيد من سكينة القلب والثقة بالله تعالى؛ تمنح الإنسان الشعور بالهدوء والاطمئنان والثقة بالنفس، تمنع الفحشاء والمنكر؛ تبعد الإنسان عن الذنوب والمعاصي، برنامج رياضي مثالي: تُعد الصلاة برنامجاً رياضياً ممتازاً لصحة العظام والمفاصل والعضلات، أسئلة أخرى: ما هي أهم المعلومات عن الصلاة؟ الجواب: الصلاة عمود الدين، وهي أعظم الفرائض وأهمها بعد الشهادتين؛ ومن تركها فقد كفر، نعوذ بالله من ذلك، قال النبي ﷺ: «العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة، فمن تركها فقد كفر»، وقال أيضاً: «ما بين الرجل وبين الكفر والشرك إلا ترك الصلاة»، فإن عاقبة ترك الصلاة هي العذاب.#قران #quran #quraan_kareem
Part 821:- (سیرتِ خلفائے راشدہ حصہ ایک سو چھ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور مسلمانوں کے معاشی حالات بہتر ہوئے تو لوگوں نے شادیوں میں بھاری اور گرانقدر حقِ مهر مقرر کرنا شروع کر دیا اس سے بعض اوقات غریب جوانوں کے لیے شادیاں کرنا دشوار ہونے لگا اس صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ حقِ مهر کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی جائے تاکہ لوگ اس معاملے میں آسانیاں پیدا کریں تو آپ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا
Part 821:- (سیرتِ خلفائے راشدہ حصہ ایک سو چھ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہوا اور مسلمانوں کے معاشی حالات بہتر ہوئے تو لوگوں نے شادیوں میں بھاری اور گرانقدر حقِ مهر مقرر کرنا شروع کر دیا اس سے بعض اوقات غریب جوانوں کے لیے شادیاں کرنا دشوار ہونے لگا اس صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ حقِ مهر کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کر دی جائے تاکہ لوگ اس معاملے میں آسانیاں پیدا کریں تو آپ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا "لوگو! عورتوں کے مهر میں غلو نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو (زیادہ بھاری مهر نہ باندھو) اگر میں سنوں گا کہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ مهر سے زیادہ مهر مقرر کیا ہے تو میں وہ زائد رقم بیت المال میں جمع کروا دوں گا" یہ سنتے ہی مجلس میں موجود قریش کی ایک عام عورت کھڑی ہوئی اور اس نے امیر المومنین کی بات پر اعتراض کیا اور کہا: "اے امیر المؤمنین! آپ کو لوگوں کو اپنا مهر کم کرنے پر مجبور کرنے کا کوئی حق نہیں ہے" آپ نے پوچھا: "وہ کیوں؟" اس خاتون نے قرآن مجید کی سورۃ النساء (آیت 20) کی تلاوت کرتے ہوئے دلیل پیش کی: ترجمہ "اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم نے ان میں سے کسی کو قنطار (خزانہ/بہت زیادہ مال) بھی دیا ہو، تو اس میں سے کچھ واپس نہ لو" اس آیت سے اس عورت نے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ: جب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں صراحت فرمائی ہے کہ اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو خزانے (قنطار) کے برابر بھی حقِ مهر دینا چاہے تو دے سکتا ہے اور اللہ نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی تو پھر اے عمر! آپ کو یہ حد مقرر کرنے کا حق کس نے دیا؟" بجائے اس کے کہ آپ غصہ کرتے آپ نے فوراً اپنی رائے سے رجوع کیا اور کھلے عام اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: "عورت نے درست بات کہی اور عمر سے غلطی ہوئی" فرمایا: "میں نے تم سے کہا تھا کہ عورتوں کو قنطار سے زیادہ مهر نہ دو لیکن اب تم جیسا چاہو کرو، ہر شخص کو اختیار ہے کہ وہ جتنا چاہے مهر مقرر کرے" آپ کے اس عمل سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں سب سے بڑی اتھارٹی قرآن اور سنتِ رسول ہے کوئی امیر یا خلیفہ قرآن کے صریح حکم سے تجاوز نہیں کر سکتا اور ایک عام سے عام آدمی کو بھی خلیفہءِ وقت کے سامنے بولنے کا پورا حق حاصل تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی خلافت میں عدل و انصاف عروج پر تھا اس واقعے نے عورت کے مالی حق (حقِ مهر) کو قرآن کی روشنی میں تحفظ فراہم کیا اور یہ ثابت کیا کہ عورت دینی اور قانونی معاملے میں اپنا موقف پیش کرنے کا مکمل حق رکھتی ہے سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اہل بیت کا بے حد ادب و احترام فرماتے تھے بالخصوص ازواج ِمطہرات کے مرتبہ، ان کے احترام اور آرام و آسائش کا خاص لحاظ رکھتے تھے چنانچہ ان کی تنخواہیں سب سے زیادہ بارہ ہزار مقرر کیں 63ھ میں جب آپ امیر الحجاج بن کر گئے تو ازواج مطہرات کو بھی نہایت ادب واحترام کے ساتھ ہمراہ لے گئے حضرت عثمان ذوالنورین اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کو سواریوں کے ساتھ کر دیا تھا یہ لوگ آگے پیچھے چلتے تھے اور کسی کو سواریوں کے قریب نہیں آنے دیتے تھے ازواج مطہرات منزل پر آپ کے قیام گاہ کے قریب قیام فرماتیں تھیں اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کسی کو قیام گاہ کے متصل آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے آپ خورد و نوش، لباس وضع، نشست و برخاست غرض ہر چیز میں اسوۂ حسنہ کو پیش نظر رکھتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ فقر وفاقہ میں زندگی بسر کی تھی اس لیے آپ نے بھی روم وایران کی شہنشاہی ملنے کے بعد بھی فقر وفاقہ کی زندگی کا ساتھ نہ چھوڑا۔ ایک دفعہ آپ کی صاحبزادی ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اب خدا نے حالات بہتر فرما دیئے ہیں اس لیے آپ کو نرم لباس اور نفیس غذا سے پرہیز نہ کرنا چاہیے؟ فرمایا "جان پدر! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عسرت اور تنگ حالی کو بھول گئیں خدا کی قسم! میں اپنے آقا کے نقش قدم پر چلوں گا کہ آخرت کی فراغت اور خوش حالی نصیب ہو" اس کے بعد دیر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عسرت کا تذکرہ کرتے رہے یہاں تک کہ ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا بے تاب ہوکر رونے لگیں۔ آپ چاہتے تھے کہ ہر شخص کا دل اتباع سنت کے جذبے سے معمور ہو جائے ایک دفعہ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا آپ نے عین خطبہ کی حالت میں اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: "آنے کا یہ کیا وقت ہے؟" انھوں نے عرض کی "بازار سے آرہا تھا کہ اذان سنی وضو کرکے فوراً حاضر ہوا" فرمایا: "وضو پر کیوں اکتفا کیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جمعہ کو) غسل کا حکم دیا کرتے تھے!" جاری ہے۔۔۔ #fypage #foryou #foryoupage #islamic_video #hazrat_muhammad_s_a_w_w

About