@abdulhameedkhoso36: اب رخ کرتے ہیں میہڑ کا جہاں سے ہمیں جوائن کیا ہے تحصیل رپوٹر اے ون نیوز عبدالحمید کھوسو نے، میہڑ کے قریب حاصل کھوسو میں چانڈیو برادری کے جھگڑے کا معاملہ، ورثاء خواتین کا قرآن پاک اٹھا کر احتجاج، میہڑ: بی سیکشن تھانے کی حدود گاؤں حاصل کھوسو میں چند روز قبل چانڈیو برادری کے ماموں بھانجوں کے درمیان معمولی بات پر ہونے والے جھگڑے میں قتل ہونے والے سجاد عرف جج چانڈیو اور دو روز بعد مبینہ زخمی حالت میں جاں بحق ہونے والے امتیاز علی چانڈیو کے معاملے پر مقتول سجاد چانڈیو کے ورثاء خواتین نے احتجاج کیا۔ مقتول سجاد عرف جج چانڈیو کی ورثاء خواتین نظیران چانڈیو، وحیدہ چانڈیو، افشان چانڈیو اور دیگر نے قرآن پاک اٹھا کر احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے عزیزوں غلام مصطفیٰ چانڈیو، واحد بخش چانڈیو، امتیاز علی چانڈیو اور دیگر کے حملے میں قتل ہونے والے سجاد عرف جج چانڈیو کے قتل کی ایف آئی آر پولیس نے درست طور پر درج نہیں کی۔ خواتین کا کہنا تھا کہ مقتول کی والدہ نظیران چانڈیو کے ناخواندہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پولیس نے اپنی مرضی سے ایف آئی آر درج کی، جبکہ جائے وقوعہ سے گرفتار کیے گئے امتیاز علی چانڈیو سمیت تین ملزمان کی گرفتاری بھی ظاہر نہیں کی گئی۔ مظاہرین نے کہا کہ جھگڑے میں زخمی ہونے والا امتیاز علی چانڈیو اور دیگر افراد خود موبائل فون پر سوار ہو کر اسپتال گئے تھے اور اس وقت امتیاز کی حالت بھی بہتر تھی، تاہم دو روز بعد اس کی مبینہ زخمی حالت میں موت واقع ہونے سے کئی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امتیاز چانڈیو کی موت کے واقعے کو نیا رخ دے کر ان کے مردوں کے خلاف کسی دوسرے مقام پر ہونے والے جھگڑے کی الگ اور مبینہ جھوٹی ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ احتجاج کرنے والی خواتین نے ایس ایس پی دادو، ڈی آئی جی حیدرآباد، آئی جی سندھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ دونوں واقعات کی ازسرِنو شفاف تحقیقات کرائی جائیں، سجاد چانڈیو کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور ان کے مردوں کے خلاف درج مبینہ جھوٹی ایف آئی آر ختم کی جائے۔ خواتین نے خبردار کیا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کے ساتھ عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا۔