کُھل کر نہ ایک ساتھ جئے ہم، نہ مر سکے
اک دوسرے کے واسطے کچھ بھی نہ کر سکے
جی کب کا بھر چکا ہے ترے التفات سے
اب ایسا رنج دے کہ مری آنکھ بھر سکے
ترک ِ وفا کے نام پر ایسا سلوک کر
ایسا کہ اُس کے بعد تُو دل سے اتر سکے
لگ جائے اک دفعہ جو کسی سے کسی کا دل
پھر کب وہ دل لگا کے کوئی کام کر سکے
سارے ثبوت ہاتھ میں ہونے کے باجود
کس کی مجال آپ پہ الزام دھر سکے
2026-09-09 18:58:17
0
To see more videos from user @silent.life.saile, please go to the Tikwm
homepage.