@atankwadiii1: رکھ حوصلہ، تیرے مقابلے میں ہم خود میدان میں اتریں گے۔ ہمیں دوسروں کے سہارے کی ضرورت نہیں، اپنے مقابل کا جواب دینا ہم خود جانتے ہیں۔اگر تو خود کو بادشاہ سمجھتا ہے تو یہ بھی یاد رکھ،ہم وہ لوگ ہیں جو بادشاہت کے رعب سے مرعوب نہیں ہوتے۔ہم نہ کسی کے تاج سے ڈرتے ہیں، نہ کسی کے عہدے سے متاثر ہوتے ہیں۔وقت آنے دے، پھر فیصلہ الفاظ سے نہیں، ہمارے حوصلے سے ہوگا۔تو اپنی طاقت پر جتنا چاہے ناز کر، ہم اپنی خودداری، حوصلے اور ثابت قدمی پر یقین رکھتے ہیں۔ تو خود کو بادشاہ سمجھتا ہے تو سمجھتا رہ، ہم وہ کردار ہیں جو بادشاہوں کو بھی اپنی چال پر چلنے پر مجبور کر دیں- ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھنے کی غلطی مت کرنا، ہم بس وقت اور موقع کا انتظار کرتے ہیں۔ اور جب میدان میں اترتے ہیں تو پھر مقابلہ برابر کا نہیں رہتا۔