@aqib.ali465: غم زیست از قلم عاقب علی انسان دوسروں کے دیۓ گۓ دکھ اور تکالیف سے گزرنے کے بعد ویسا انسان نہیں رہتا جیسے وہ پہلا سا ہوتا ہے۔وہ خلچل اور چلچل طبیعت کہیں کھو جاتی ہے۔پھر اگر کوئ انسان اپ کو سے معافی بھی مانگ لے تو وہ انسان وہ قیمت نہیں ادا کر سکتا جو اپ بدل چکے ہو۔وہ کھویا ہوا انسان نہیں مل سکتا۔شائد تبدیلی اس کاینات کا اصول ہوتا ہے۔فطرت کی ہر شے وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔سورج اپنے مقررہ وقت پر اپنی پوری چمک دمک کے ساتھ طلوع ہوتا ہے اور شام کو غروب ہو جاتا ہے۔رات کو اسمان کالی چادر اوڑھ لیتا ہے اور دن کی روشنی کو چھپا لیتا ہے۔موسم وقت پر بدلتے ہیں۔انسان بھی اس فطرت کا حصہ ہے۔اس لۓ غم ایک سبب ہے،ایک وجہ ہے انسان کو بدلنے کی۔یوں تو لوگ کہتے کہ عمر کے ساتھ بھی انسان بدل جاتا ہے۔عمر کیا ہے۔فقط لمحوں کا نام۔لمحے بھی معاشرے کے ارتقائ عمل کے ساتھ انسان کو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔لیکن غم انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے اندر جھانک سکے۔غم انسان کو حساس بناتا ہے تاکہ انسان دوسروں کا احساس کر سکے۔غم انسان کو دانا بنا تا ہے۔پھر تو جو لوگ ہمیں دکھ دیتے ہیں وہ بھی ایک نعمت ہوۓ نا جو ہمیں عقلمند اور دانا بنا دیتے ہیں۔اسی طرح غم سے پہلے کے لمحات ایک کچے پھل کی طرح ہوتے ہیں اور کچے پھل کی طرح انسان غم سے گزرنے کے بعد پک جاتا ہے۔یوں ان کچے پھلوں اور غم سے پہلے لمحوں کی وقعت نہیں ہوتی۔انسان غم سے گزرنے کے بعد پک جاتا ہے اور اس کی یہ قیمت بھی رائیگاں نہیں جاتی۔ہم انسانوں کا عقلی شعور سطحی ہوتا ہے جو مخفی چیزوں کو نہہں دیکھتے۔ہم گہرائ میں جا کر غور و فکر نہیں کرتےبقول رومی رح غم وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی داخل ہوتی ہے۔۔۔ہم زندگی کی مختلف سڑکوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرسکتے کہ زندگی کی کونسی سڑک پر چلیں۔کیونکہ ہم کنفیوژن کا شکار ہوتے ہین۔ہمارے اندر خوف ہوتا ہے یہ نہ ہو کہ ہماری منتحب کردہ سڑک پر کانٹے ہوں۔شیکسپئر نے ہیملٹ میں کہا تھا "To be or not to be." ہم بھی اسی طرح فیصلہ نہیں کرسکتے۔ہم اپنی منتحب کردہ منزل کے بارے میں ان سرٹین ہوتے ہیں۔ہم پر فیکٹ لایف چاہتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی ہموار ہو۔غم سے خالی۔جبکہ زندگی کی ہر سڑک میں غم ایک حصہ ہے۔جب ہم ایک دفعہ فیصلے کر لیتے ہیں اور زندگی کی اس شاہراہ پر دکھ اتے ہین تو ہم خود کو کوستے ہین کہ شائد دوسری سڑکیں ہموار تھین۔کاش میں ان میں سے انتحاب کر لیتا ہے۔کچھ لوگ کہتے ہماری زندگی ہماری چوایسز کا رزلٹ ہوتی ہے۔جبکہ ہم چوایسز کے معاملات میں بھی ہماری عقل اتنی وسیع نہین ہوتی۔انکے رزلٹ بھی فیصلہ لینے کے بعد ہی اتے ہیں۔اور انسان کو ویسے بھی دور سے چیزیں خوبصورت نظر اتی ہیں۔کیونکہ دور سے منظر چھوٹا ہوتا ہے۔قریب جا کر وہ شے اپنی وقعت کھو دیتی ہے۔یہی دوری اور اس منظر کو دیکھنے کی چاہ اس کے اندر ایک امید کو قائم رکھتی ہے۔لاحاصل سے حاصل کے درمیان کا وقفہ اور سفر بہت اہم ہوتا ہے۔منزل مل جاۓ تو تڑپ ،اضطراب اور مقصد بھی ختم ہو جاتے ہیں۔مگر سوال یہ ہوتا ہے کہ حاصل کر کے انسان خوش اور سکون میں رہ سکتا ہے کیا؟سقراط نے کہا تھا اگر تم وہ حاصل نہ کر سکو جو تم چاہتے ہو تو تم تکلیف میں رہو گےاگر تم وہ حاصل کر لو جو تم نہیں چاہتے ہو تو تم تکلیف میں رہو گے حتیٰ کہ تم وہ حاصل کر لو جو تم چاہتے ہو تب بھی تم تکلیف مین رہو گے تم اس سے ہمیشہ اس کو پاس نہیں رکھ سکتے۔۔اسلۓ حاصل اور لاحاصل بے معنی ہے بس انکے درمیان کا سفر اہمیت کا حامل ہے۔اور اس سفر کے درمیان انے والی مشکلات ناگزیر ہیں۔فرینکل اپنی کتاب مین سرج فار میننگ میں لکھتا ہے کہ سفرنگ زندگی کیلۓ موت کی طرح اہم ہین اور ان سفرنگ سے زندگی کا معنی اخذ کرنا چاھیۓ۔نطشے جو کہ جرمن فلاسفر تھا اس کے مطابق بھی غم اور دکھ زندگی کا حصہ ہیں ۔۔انسان اس حاصل کی تمنا میں پاگل ہن گیا ہے اور سکون کہاں ہے ارسطو نے کہا تھا کہ اگر تم اس پر خوش نہیں جو تمھارے پاس ہے تو تم اس پر بھی خوش نہیں ہو گے جو تم حاصل کر لو گے۔۔خیر بات ہو رہی تھی غم کی۔بات سے بات نکلی اور ہم بہت اگے نکل گۓ ہیں۔