@faqeer_e_dill: شعر اعراب کی علامتوں (زبر، زیر، پیش) کو استعارے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انسان کو غرور چھوڑی کر عاجزی اختیار کرنے اور آخرت کی فکر کرنے کا درس دیتا ہے۔ شعر کے پہلے مصرعے میں "زبر نہ بن" سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اپنی طاقت، دولت یا عہدے کے زعم میں خود کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھنا چاہیے، جبکہ "زیر بن" کا مطلب اپنے اندر عاجزی اور انکساری پیدا کرنا اور دوسروں کے سامنے جھک کر رہنا ہے۔ دوسرے مصرعے میں "پیش" کے ذومعنی لفظ کا استعمال کرتے ہوئے شاعر یاد دہانی کرواتا ہے کہ جیسے اعراب میں پیش ہوتا ہے، ویسے ہی انسان کو ایک دن اپنے خالق کے سامنے پیش ہو کر اپنے ہر عمل اور رویے کا حساب دینا ہے، لہٰذا تکبر اور خودپسندی سے بچ کر عاجزی کی راہ اختیار کرنا ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔ #viral #fyppppppppppppppppppppppp #sufi #sufism #فقیر_دل