@shaqidar3k3:

shaqidar3k3
shaqidar3k3
Open In TikTok:
Region: PK
Thursday 10 September 2026 02:56:16 GMT
3643
255
3
10

Music

Download

Comments

user12528120654246
الشيخ ابن ردفان 🇾🇪🇾🇪 :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-09-10 08:37:48
0
tafya.baby
Tafya baby💕💋🥰💖 :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-09-10 03:44:44
0
user4183700216091
الرشيد جمعة الحمري :
🥰🥰🥰
2026-09-10 09:54:43
0
To see more videos from user @shaqidar3k3, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آہ! انسانیت بھی شرما گئی ہوگی! باپ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، بیٹا سرہانے بے بسی سے کھڑا ہے، اور وارڈن پولیس چالان کرنے کے لیے بستر پر پڑے زخمی باپ سے سوالات کر رہا ہے۔ بہاولپور میں ٹریفک وارڈن پولیس کے مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ شہری کے مطابق وارڈن مبینہ طور پر ناجائز چالان کر رہا تھا، جس پر اس نے مزاحمت کی تو وارڈن نے اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد شہری کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال کی ایمرجنسی میں منتقل کیا گیا۔ افسوسناک طور پر شہری کے مطابق وارڈن پولیس ہسپتال پہنچ کر بھی چالان کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اگر ایک شہری زخمی حالت میں ایمرجنسی میں زیرِ علاج ہو اور اس وقت بھی اسے چالان کے لیے پریشان کیا جائے تو یہ رویہ قانون کی بالادستی سے زیادہ شہری کی تذلیل کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔ اس منظر نے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں: ایک وارڈن پولیس اہلکار کو آخر یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک عام شہری پر ہاتھ اٹھائے؟ اگر شہری نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی تھی تو قانونی طریقے سے کارروائی کی جا سکتی تھی، لیکن کیا تشدد کرنا کسی اہلکار کا اختیار ہے؟ اور اگر شہری واقعی زخمی حالت میں ہسپتال پہنچ چکا تھا تو کیا اس وقت بھی چالان سے زیادہ اس کی جان اور طبی حالت کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے تھی؟ کیا ایک شہری کی عزت، صحت اور زندگی کی اہمیت چند ہزار روپے کے چالان سے بھی کم رہ گئی ہے؟ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں اور اگر تشدد یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ #Bahawalpur #TrafficPolice #PoliceBrutality #Justice #Pakistan Disclaimer: This content is shared strictly for news reporting, public awareness, and journalistic purposes. The allegations of police misconduct and violence are based on the information provided and have not been independently verified by us. No police officer or citizen is being declared guilty. Any alleged misconduct should be established through a fair and impartial investigation and due legal process. This content does not promote violence or hostility toward law-enforcement personnel and is intended solely for public awareness and informational purposes in accordance with applicable community guidelines.
آہ! انسانیت بھی شرما گئی ہوگی! باپ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، بیٹا سرہانے بے بسی سے کھڑا ہے، اور وارڈن پولیس چالان کرنے کے لیے بستر پر پڑے زخمی باپ سے سوالات کر رہا ہے۔ بہاولپور میں ٹریفک وارڈن پولیس کے مبینہ تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ شہری کے مطابق وارڈن مبینہ طور پر ناجائز چالان کر رہا تھا، جس پر اس نے مزاحمت کی تو وارڈن نے اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد شہری کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال کی ایمرجنسی میں منتقل کیا گیا۔ افسوسناک طور پر شہری کے مطابق وارڈن پولیس ہسپتال پہنچ کر بھی چالان کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ اگر ایک شہری زخمی حالت میں ایمرجنسی میں زیرِ علاج ہو اور اس وقت بھی اسے چالان کے لیے پریشان کیا جائے تو یہ رویہ قانون کی بالادستی سے زیادہ شہری کی تذلیل کے مترادف محسوس ہوتا ہے۔ اس منظر نے کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں: ایک وارڈن پولیس اہلکار کو آخر یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک عام شہری پر ہاتھ اٹھائے؟ اگر شہری نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی تھی تو قانونی طریقے سے کارروائی کی جا سکتی تھی، لیکن کیا تشدد کرنا کسی اہلکار کا اختیار ہے؟ اور اگر شہری واقعی زخمی حالت میں ہسپتال پہنچ چکا تھا تو کیا اس وقت بھی چالان سے زیادہ اس کی جان اور طبی حالت کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے تھی؟ کیا ایک شہری کی عزت، صحت اور زندگی کی اہمیت چند ہزار روپے کے چالان سے بھی کم رہ گئی ہے؟ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کریں اور اگر تشدد یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار اہلکار کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ #Bahawalpur #TrafficPolice #PoliceBrutality #Justice #Pakistan Disclaimer: This content is shared strictly for news reporting, public awareness, and journalistic purposes. The allegations of police misconduct and violence are based on the information provided and have not been independently verified by us. No police officer or citizen is being declared guilty. Any alleged misconduct should be established through a fair and impartial investigation and due legal process. This content does not promote violence or hostility toward law-enforcement personnel and is intended solely for public awareness and informational purposes in accordance with applicable community guidelines.

About