@jenneration1603: my current makeup tutorial! and my current favorite makeup base yang sekarang sudah available di ecommerce indonesia @Celimax Indonesia @celimax.global #celimax #makeuptutorial

Adelia A
Adelia A
Open In TikTok:
Region: ID
Thursday 10 September 2026 08:10:35 GMT
296
3
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @jenneration1603, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ تھا لاہور کا رہائشی 19 سالہ غازی علم دین پیشے کے لحاظ سے ایک بڑھئی تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے انڈیا میں ہونے والے ایک واقعہ نے علم دین کی زندگی میں ہلچل برپا کردی۔ 1923 میں ایک انتہا پسند ہند و نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک نہایت گستاخانہ کتاب کے نام سے تحریر کی۔ یہ کتاب ایک فرضی نام سے لکھی گئی جسے لاہور کے ایک ہندو پبلشر راجپال نے شائع کیا۔ کتاب میں انتہائی نازیبا باتیں درج تھیں جنہیں کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ کتاب کی اشاعت سے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں نے اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا اور اس کے پبلشر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ سیشن کورٹ نے راجپال کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنادی جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اس سزا کے خلاف اپیل کی۔ سماعت میں مجرم راجپال کو اس وجہ سے رہا کردیا کہ اس وقت مذہب کے خلاف گستاخی کا کوئی قانون موجود نہ تھا۔ مسلمانوں نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں تحریک شروع کردی نوجوان علم دین اپنے دوست رشید کے ساتھ لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد کے سامنے اس ہجوم میں موجود تھا جو ہندو رائٹر راجپال کے خلاف نعرے لگارہا تھا۔ جذبات کا ایک تلاطم تھا جو ہجوم کے نعروں کی گونج میں امنڈ رہا تھا۔ امام مسجد نے انتہائی درد بھری آواز میں کہا۔
یہ تھا لاہور کا رہائشی 19 سالہ غازی علم دین پیشے کے لحاظ سے ایک بڑھئی تھا۔ تقسیم ہند سے پہلے انڈیا میں ہونے والے ایک واقعہ نے علم دین کی زندگی میں ہلچل برپا کردی۔ 1923 میں ایک انتہا پسند ہند و نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ایک نہایت گستاخانہ کتاب کے نام سے تحریر کی۔ یہ کتاب ایک فرضی نام سے لکھی گئی جسے لاہور کے ایک ہندو پبلشر راجپال نے شائع کیا۔ کتاب میں انتہائی نازیبا باتیں درج تھیں جنہیں کوئی بھی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا تھا۔ کتاب کی اشاعت سے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلمانوں نے اس کتاب پر پابندی کا مطالبہ کیا اور اس کے پبلشر کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔ سیشن کورٹ نے راجپال کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنادی جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے اس سزا کے خلاف اپیل کی۔ سماعت میں مجرم راجپال کو اس وجہ سے رہا کردیا کہ اس وقت مذہب کے خلاف گستاخی کا کوئی قانون موجود نہ تھا۔ مسلمانوں نے ہائیکورٹ کے اس فیصلے کے خلاف پورے ملک میں تحریک شروع کردی نوجوان علم دین اپنے دوست رشید کے ساتھ لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد کے سامنے اس ہجوم میں موجود تھا جو ہندو رائٹر راجپال کے خلاف نعرے لگارہا تھا۔ جذبات کا ایک تلاطم تھا جو ہجوم کے نعروں کی گونج میں امنڈ رہا تھا۔ امام مسجد نے انتہائی درد بھری آواز میں کہا۔ "مسلمانوں شیطان راجپال نے اپنی کتاب میں ہمارے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی ہے اور عدالتوں نے اسے بری کردیا ہے جس سے اسلام دشمنوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ " امام مسجد کے یہ الفاظ غازی علم دین کے دل میں اتر گئے اور اس نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ وہ گستاخ رسول کو واصل جہنم کرکے ہی دم لے گا۔ اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے قریبی دوست رشید سے کیا۔ وہ بھی راجپال کو اس گستاخی کا مزا چکھانا چاہتا تھا۔ دونوں دوستوں نے اس مسئلے پر تین مرتبہ قرعہ اندازی کی اور تینوں مرتبہ علم دین کا نام آیا آخرکار رشید علم دین کے حق میں دستبردار ہوگیا۔ اللہ نے یہ سعادت شاید علم دین کے ہی نصیب میں لکھی تھی۔ ستمبر 1929ء کو علم دین بازار سے ایک چھری خریدکر 6 سیدھا راجپال کی دکان کی طرف روانہ ہوا۔ راجپال ابھی دکان پر نہیں آیا تھا۔ علم دین نے اس کا انتظار کیا اور جیسے بی راجپال اپنی دکان میں داخل ہوا علم دین نے چھری سے اس کے سینے پر زوردر وار کیا جو اس کے دل میں پیوست ہوگیا۔ راجپال موقع پر ہی ڈھیر ہوگیا۔ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا اور اس پر قتل کا مقدمہ درج کرکے کیس چلایا گیا۔ علامہ اقبال کی درخواست پر قائداعظم محمد علی جناح نے علم دین کا مقدمہ لڑا۔ قائد اعظم نے ایک موقع پر علم دین سے کہا کہ وہ جرم کا اقرار نہ کرے۔ غازی علم دین نے کہاکہ میں یہ کیسے کہہ دوں نے یہ قتل نہیں کیا، مجھے اس قتل پر ندامت نہیں بلکہ فخر ہے، کورٹ نے علم دین کو سزائے موت دی۔ قائداعظم محمد علی جناح لبرل تصور کئے جاتے تھے اور اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے حامی تھے، ہندو اخبارات نے ان پر کڑی تنقید کی لیکن قائداعظم نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا "مسلمانوں کیلئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ اکتوبر 1929ء غازی علم دین شہید کی سزائے موت 31 ان کی آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ مجھے صرف دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے۔ غازی علم دین کو جب پھانسی گھاٹ پر لایا گیا اور جب پھندا ان کی گردن میں ڈالا گیا تو اس نے وہاں موجود لوگوں کہا "اے لوگو! گواہ رہنا نے راجپال کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے پر واصل جہنم کیا ہے، آج آپ سب کے سامنے کلمہ طیبہ کا ورد کرکے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان نچھاور کر رہا ہوں۔ غازی علم دین شہید کو پھانسی کے بعد برطانوی حکومت نے ان کی میت بغیر نماز جنازہ جیل کے قبرستان میں دفنادی جس پر مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور علامہ اقبال نے ایک مہم چلائی اور آخر کار انگریزوں کو یہ یقین دہانی کے بعد کہ " لاہور میں تدفین کے موقع پر ہنگامہ آرائی نہیں ہوگی اس کی اجازت دے دی 15 دن بعد جب غازی علم دین شہید کی میت کو قبر سے گئی۔ نکالا گیا تو ان کا جسد خاکی پہلے دن کی طرح تروتازہ تھا۔ علم دین شہید کے والد نے علامہ اقبال سے علم دین کی نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی جس پر علامہ اقبال نے ان سے کہا کہ وہ بہت گناہ گار انسان ہیں، اس لئے اتنے بڑے شہید کی نماز جنازہ وہ نہیں پڑھا سکتے۔ غازی علم دین شہید کی نماز جنازہ لاہور کی تاریخ کی سب سے بڑی نماز جنازہ تھی جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ ہر ایک کی خواہش تھی #islam #muslim #History #foryou #viralvideo #virals #tiktoksudiaarabia #tiktok #tiktokpakistan #tiktokworld

About