میرے ہمسفر تجھے کیا خبر
یہ جو وقت ہے
کسی دھوپ چھاؤں کے کھیل سا
اسے دیکھتے اسے جھیلتے
میری آنکھ گرد سے اٹ گئی
میرے خواب ریت میں کھو گئے
میرے ہاتھ برف سے ہو گئے
میرے بے خبر تیرے نام پر
وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹ پر
اور جو دیپ جلتے تھے بام پر
وہ نہیں رہے وہ نہیں رہے
کہ وہ جو ایک ربط تھا درمیان
وہ بکھر گیا وہ ہوا چلی
کسی شام ایسی ہوا چلی
کہ جو برگ تھے سر شاخ جاںوہ گرا دئیے
اور جو حرف درج تھے
ریت پر وہ اڑا دیئے
وہ جو راستوں کا یقین تھے
وہ جو منزلوں کے امین تھے
وہ نشان پا بھی مٹا دیے
میرے ہم سفر ہے وہی سفر
مگر ایک موڑ کے فرق سے
تیرے ہاتھ سے میرے ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا
اسے ناپتے اسے کاٹتے
میرا سارا وقت نکل گیا
تو میرے سفر کا شریک ہے
میں تیرے سفر کی شریک ہوں
یہ جو درمیان سے نکل گیا
اسی فاصلے کے شمار میں
اسی بے یقین سے غبار میں
اسی راہ گزر کے حصار میں
تیرا راستہ کوئی اور ہے
میرا راستہ کوئی اور ہے
2026-09-22 06:07:04
0
To see more videos from user @maryabkbixt, please go to the Tikwm
homepage.