کچھ لوگ جب دل سے اُتر جاتے ہیں تو اُن کے لیے لہجے خود بخود سخت ہو جاتے ہیں۔ پھر اُن کی باتیں پہلے جیسی اچھی نہیں لگتیں، اُن کی موجودگی محسوس نہیں ہوتی اور اُن کی غیر موجودگی کا دکھ بھی باقی نہیں رہتا۔ عجیب بات ہے کہ کبھی جن کے ایک لفظ سے دل خوش ہو جاتا تھا، اُنہی کے کئی لفظ بھی دل پر اثر نہیں کرتے۔ شاید انسان تب ہی بدلتا ہے جب وہ بار بار ٹوٹ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر رشتہ نبھانے کے قابل نہیں ہوتا۔ پھر محبت کی جگہ خاموشی لے لیتی ہے، شکایتیں ختم ہو جاتی ہیں اور لہجے میں وہ نرمی نہیں رہتی… کیونکہ بعض لوگ دل سے نہیں، اپنی ہی حرکتوں سے دل سے اُتر جاتے ہیں۔