@shoaib.naeem603: مفت کا ٹھنڈا پانی بھی جب لوہے کی بھاری زنجیروں اور تالوں کا محتاج ہو جائے،تو سمجھ لو اس بے حس بستی میں اب انسان کی اوقات ایک پیاسے پرندے سے بھی کم ہو چکی ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ مٹی کے وہ پرانے گھڑے اور صراحیاں اب قصہ پارینہ بن گئے،مگر سچ تو یہ ہے کہ ان نئے لوہے کے کولروں نے خود انسان کو بھی اندر سے بالکل پتھر اور لوہا بنا دیا ہے۔ہم نے سڑکوں پر خیر، نیکی اور ہمدردی کے کاموں پر تو سخت پہرے بٹھا دیے،لیکن اپنے اندر چھپی اس ہوس، نفرت اور شدید خود غرضی کو بالکل آزاد اور کھلا چھوڑ دیا ہے۔یہ سرد زنجیریں صرف ایک بے جان کولر کے گرد نہیں لپٹی ہوئیں،بلکہ یہ ہمارے معاشرے کی مری ہوئی اخلاقیات اور روٹھی ہوئی روایات کے منہ پر لگا ہوا ایک بڑا تالا ہے۔اب نہ تو کوئی مسافر یہاں رکتا ہے اور نہ ہی کوئی پیاسا دعا دیتا ہے،بس ایک خاموش منظر ہے جو انسانیت کا جنازہ اٹھائے کھڑا ہے