@sabrinazfit: 🐈‍⬛ in a dress aye

sabrinazfit
sabrinazfit
Open In TikTok:
Region: US
Friday 11 September 2026 01:17:08 GMT
29054
591
19
19

Music

Download

Comments

bradlydm
Cpt. Bradly D Gold :
Miss perfect
2026-10-06 23:51:16
0
kotaa101
Kota :
Oh my 😍
2026-09-12 03:38:02
1
mrm.calisthenics
MRM | Calisthenics :
I didn't follow you 😂 I did 🥲
2026-10-02 15:12:57
0
xgravemind
William G Arns-Vazquez :
Omg.
2026-09-11 01:20:05
1
justinhead5
justin82 :
absolutely beautiful
2026-09-11 02:47:39
1
kayleedawgg
Kaylee💃🏼 :
Baby ur so hot
2026-09-11 04:52:44
3
_gabri_118
_Gabri_ :
2026-10-07 14:45:09
0
yojoejoe
JC🇵🇭🇺🇸 :
2026-09-11 02:20:30
1
fitness.kandace
fitness.kandace :
Damn 😍😍🔥
2026-09-11 01:55:38
1
mr.mog007
007 :
2026-09-11 15:53:25
1
thelonelymf_365
krish :
2026-09-11 14:25:01
1
shopkins2001
Shawn Hopkins :
2026-09-11 01:22:51
1
mrm.calisthenics
MRM | Calisthenics :
takip edip destek oluyım ablama umarım ablam sende destek olursun
2026-09-12 10:57:51
1
6oh6barbell
Jason McKinney :
🔥🔥🔥🔥🔥
2026-09-27 17:48:31
1
efravasquez95
Efra Vásquez :
😍💐
2026-09-11 02:32:33
1
To see more videos from user @sabrinazfit, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*انبیاء  کرام اور اولیائے کرام  اپنی تکلیف میں
*انبیاء کرام اور اولیائے کرام اپنی تکلیف میں "اللہ" کے بجائے "رَبّ" کیوں پکارتے تھے؟* اور اس کے فوراً بعد آنے والی سحر انگیز "فاء (ف)" کا کیا راز ہے؟ اگر آپ قرآن کریم میں تدبر کریں، تو آپ کو ایک ایسا حیرت انگیز بیانی نکتہ ملے گا جو دعا مانگنے کے بارے میں آپ کا پورا طریقہ کار بدل کر رکھ دے گا۔ جب بھی قرآن کریم میں (رَبَّنَا) یا (رَبِّ) کی پکار دہرائی گئی، تو فوراً اور بغیر کسی تاخیر کے الٰہی قبولیت کی بارش ہو گئی! وحی کی زبان میں "اللہ" اور "الرَّب" کے درمیان دقیق فرق کیا ہے؟ "الله" (اللہ): یہ اسمِ الوہیت ہے، جو عبادت، تعظیم اور شریعت و احکام دینے والی ذات کے لیے ہے۔ "الرَّب" (رب): یہ پرورش کرنے والے، تدبیر کرنے والے، قائم رکھنے والے (قیوم)، رزق دینے والے اور اپنی مخلوق کے معاملات کو درست کرنے والے کے لیے ہے۔ اس لیے، جب انسان کسی مصیبت میں پھنستا ہے، یا اسے کوئی حاجت ہوتی ہے، یا دنیا اس پر تنگ ہو جاتی ہے، تو اس حال کے لیے سب سے موزوں نام (الرَّب) ہے؛ کیونکہ یہ اس ذات کو پکارنا ہے جو حفاظت، دیکھ بھال، مشکل کشائی اور انتظامِ امور کی ذمہ دار ہے۔ فوراً قبولیت اور تعقیب (جلدی) کی سحر انگیز "فاء (ف)" کا راز : قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ ربوبیت کے نام سے کی جانے والی پکار کے بعد فوراً قبولیت کی "فاء (ف)" آتی ہے (عربی زبان میں حرف 'ف' کسی کام کے فوراً اور بلا تاخیر ہونے کے لیے آتا ہے)۔ ادھر آنکھ سے آنسو ٹپکتا ہے اور ادھر معجزہ ہو جاتا ہے! کتاب اللہ میں اس کا نقشہ درج ذیل آیات میں دیکھیے: 1....اولو الالباب (عقل مند لوگ - سورہ آل عمران میں): انہوں نے دعا میں گڑگڑا کر لگاتار 5 مرتبہ "رَبَّنَا" کہہ کر پکارا۔ تو اس کے فوراً بعد والی آیت میں کیا نتیجہ نکلا؟ آیت کا متن: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ﴾ [آل عمران: 195] ترجمہ: "تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول کر لی۔" یہاں حرف "فـ" (پس/تو) فوراً نجات کا اعلان کرنے کے لیے آیا 2....سیدنا ایوب علیہ السلام: جب انہوں نے تکلیفیں دور کرنے والے رب کو پکارا: آیت کا متن: ﴿وَأَيُّوبَ إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ [الأنبياء: 83] ترجمہ: "اور ایوب (علیہ السلام) کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔" تو اللہ کی طرف سے تیز ترین جواب آیا: آیت کا متن: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَكَشَفْنَا مَا بِهِ مِن ضُرٍّ﴾ [الأنبياء: 84] ترجمہ: "تو ہم نے ان کی دعا قبول کر لی، پھر جو تکلیف انہیں تھی اسے دور کر دیا۔" یہاں لگاتار دو مرتبہ "فاء" آئی (فَاسْتَجَبْنَا پھر فَكَشَفْنَا) جو فوری قبولیت اور فوری شفا کو ظاہر کرتی ہے! 3... سیدنا زکریا علیہ السلام: جب انہوں نے اولاد کی دعا کی جبکہ ظاہری انسانی اسباب ناامید ہو چکے تھے: آیت کا متن: ﴿وَزَكَرِيَّا إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ﴾ [الأنبياء: 89] ترجمہ: "اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا: اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے۔" تو فوراً ہی حرفِ "فاء" کے ساتھ معجزہ رونما ہوا: آیت کا متن: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ﴾ [الأنبياء: 90] ترجمہ: "تو ہم نے ان کی دعا قبول کر لی اور انہیں یحییٰ (علیہ السلام) عطا کیے۔" 4.... سیدنا نوح علیہ السلام: جب زمین ان پر تنگ کر دی گئی: آیت کا متن: ﴿وَنُوحًا إِذْ نَادَىٰ مِن قَبْلُ﴾ [الأنبياء: 76] ترجمہ: "اور نوح (علیہ السلام) کو یاد کرو جب انہوں نے اس سے پہلے (ہمیں) پکارا تھا" تو اس کا بدلہ یوں ملا: آیت کا متن: ﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ﴾ [الأنبياء: 76] ترجمہ: "تو ہم نے ان کی پکار سن لی، پس انہیں اور ان کے گھر والوں کو بڑی گھبراہٹ (اور عذاب) سے نجات دی۔" سب سے خوبصورت بیانی لمس (لطیفۂ بلاغت): کیا آپ نے غور کیا؟ یہ تمام دعائیں حرفِ ندا "یا" کے بغیر، براہِ راست (ربّ) یا (ربنا) سے شروع ہوئیں۔ قرآن نے "یا ربنا" نہیں کہا، بلکہ براہِ راست {رَبَّنَا} فرمایا۔ اس میں دوری کے ختم ہونے اور انتہائی قربت کی دلیل ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ آپ سے پکارنے کے حرف (یا) سے بھی زیادہ قریب ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "مجھے اس شخص پر تعجب ہوتا ہے جو کسی چیز (حاجت) کا ارادہ کرے اور وہ 'ربنا' نہ کہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس لفظ کے ذکر کے فوراً بعد فرماتا ہے: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ﴾ (تو ان کے رب نے ان کی دعا قبول کر لی) (رَبِّ)۔۔۔ اور پھر اس جادوئی اور سحر انگیز "فاء (ف)" کے اثر کا انتظار کیجیے۔#foryoupage #millionviews #millionlikes #dua

About