@tarmahcsparangbengkok: Siapakah truk biru ini ? #fyp #tikunganparangbengkok

tarmah cs
tarmah cs
Open In TikTok:
Region: ID
Friday 11 September 2026 01:27:56 GMT
4682
335
7
5

Music

Download

Comments

rezky.aditya437
Rezky Aditya :
itu mobil panutan mbak yang udah lama tidur
2026-09-11 05:19:22
1
bg.hendri40
bg hendri. :
mbak kirim no WA mbaq
2026-09-11 18:02:26
1
arif_bocor_23
🅰️NAK’E〽️🅱️APAK🔥 :
gacor kali bah @RED VELVET🌊 🔥
2026-09-11 08:10:05
0
To see more videos from user @tarmahcsparangbengkok, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پاکستانی دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا معاہدۂ مکہ بنیادی طور پر ایک دفاعی اتحاد ہے۔ ترجمان سجاد حیدر خان کے مطابق فی الحال اس معاہدے کو مزید ممالک تک وسعت دینے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں ترجمان نے کہا کہ معاہدے کے تحت پاکستان کے ممکنہ فوجی ردِعمل پر اس وقت کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب معاہدے کے تحت کارروائی کا وقت آئے گا تو پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے متعلق فیصلہ کرے گا۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے اس کی دفاعی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ موجودہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد فوری فوجی اقدام کے بجائے معاہدے کی شرائط اور زمینی صورتحال کے مطابق اپنی پوزیشن طے کرنا چاہتا ہے۔ آنے والے عرصے میں اس اتحاد کی عملی شکل اور علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات کا انحصار خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور تینوں ممالک کے باہمی مشاورت کے طریقۂ کار پر ہوگا۔ #Pakistan #SaudiArabia #Turkey #MeccaAgreement #DefenseAlliance           This post is for informational and report-based purposes only. Details may vary depending on sources and official confirmations. Image is AI-generated for illustrative purposes only and may not depict actual events or persons.
پاکستانی دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا معاہدۂ مکہ بنیادی طور پر ایک دفاعی اتحاد ہے۔ ترجمان سجاد حیدر خان کے مطابق فی الحال اس معاہدے کو مزید ممالک تک وسعت دینے کا کوئی منصوبہ زیرِ غور نہیں۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں ترجمان نے کہا کہ معاہدے کے تحت پاکستان کے ممکنہ فوجی ردِعمل پر اس وقت کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب معاہدے کے تحت کارروائی کا وقت آئے گا تو پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے متعلق فیصلہ کرے گا۔ معاہدے کے مطابق تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے اس کی دفاعی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ موجودہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد فوری فوجی اقدام کے بجائے معاہدے کی شرائط اور زمینی صورتحال کے مطابق اپنی پوزیشن طے کرنا چاہتا ہے۔ آنے والے عرصے میں اس اتحاد کی عملی شکل اور علاقائی سلامتی پر اس کے اثرات کا انحصار خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور تینوں ممالک کے باہمی مشاورت کے طریقۂ کار پر ہوگا۔ #Pakistan #SaudiArabia #Turkey #MeccaAgreement #DefenseAlliance This post is for informational and report-based purposes only. Details may vary depending on sources and official confirmations. Image is AI-generated for illustrative purposes only and may not depict actual events or persons.

About