@goodvibesselect: Ok, I didn't know that #girlsthatdance #OOTD #prettygirl #dancevideo #dancestyle

GoodVibesSelect
GoodVibesSelect
Open In TikTok:
Region: US
Friday 11 September 2026 02:21:43 GMT
302
47
4
0

Music

Download

Comments

mbouchard39yahoo.com
Mike Bouchard921 :
🥰🥰🥰
2026-09-11 20:45:32
0
gelocht12345
gelocht12345 :
🥰🥰🥰
2026-09-11 20:28:43
0
user7479943182884
user7479943182884 :
🥰🥰🥰
2026-09-11 03:00:29
0
user3183433507583
user3183433507583 :
♥️♥️♥️
2026-09-11 22:01:38
0
To see more videos from user @goodvibesselect, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

روزگار کی فکر بھی عجیب آزمائش ہے؛ انسان کو صرف اپنی خواہشوں سے نہیں، اپنے سکون سے بھی دستبردار کر دیتی ہے۔ کبھی جیب میں چند نوٹ کم ہوں تو آدمی صرف اپنی ضرورتیں نہیں روکتا، وہ اپنی بہت سی خواہشوں کو بھی خاموشی سے دفن کر دیتا ہے، تاکہ گھر کی کوئی ضرورت اُس کے سامنے سوال بن کر نہ کھڑی ہو۔ میں بھی شاید اسی مقام پر کھڑا ہوں جہاں ناکامی صرف ناکامی نہیں رہتی، گھر کی ضرورتوں کا بوجھ بن جاتی ہے۔ ہر گزرتا دن یہ احساس اور گہرا کرتا جاتا ہے کہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے، عمر اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، مگر روزگار کی تلاش اب بھی وہیں کھڑی ہے جہاں کل تھی۔ سب سے زیادہ اذیت اُس وقت ہوتی ہے جب اپنے لیے کچھ مانگنے کو دل چاہے اور فوراً گھر کی ضرورتیں یاد آ جائیں۔ پھر اپنی خواہش، اپنی آسائش، اپنی پسند—سب کچھ ایک طرف رکھ کر آدمی صرف یہ سوچتا ہے کہ کسی طرح گھر والوں کے لیے آسانی پیدا ہو جائے، کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے، کسی ضرورت کو کل پر نہ ٹالنا پڑے۔ کبھی کبھی رات کو نیند اس لیے نہیں آتی کہ کوئی خواب بہت بڑا ہے، بلکہ اس لیے کہ حقیقت بہت بھاری ہو چکی ہوتی ہے۔ ذہن میں کام کی تلاش، خالی جیب، آنے والے اخراجات، گھر کی ذمہ داریاں اور اپنوں کی ضرورتیں ایک ساتھ شور کرتی رہتی ہیں، جبکہ انسان باہر سے ایسے بیٹھا رہتا ہے جیسے اُسے کسی بات کی فکر ہی نہ ہو۔ اور شاید میری پریشانی بھی یہی ہے کہ میں کامیاب ہونا صرف اپنے لیے نہیں چاہتا۔ مجھے اُن چہروں کا خیال ستاتا ہے جن کے سامنے میں مضبوط بننے کی کوشش کرتا ہوں، اُن ہاتھوں کا خیال آتا ہے جنہوں نے میرے لیے عمر بھر محنت کی، اور اُن ضرورتوں کا خیال آتا ہے جنہیں میں اپنی کمائی سے پورا کرنا چاہتا ہوں۔ کاش روزگار صرف ایک نوکری کا نام ہوتا؛ یہ تو انسان کے وقار، گھر کی آس، والدین کے سکون، اپنی ضرورتوں اور آنے والے کل کی امید—سب کو ایک ہی دھاگے میں باندھ دیتا ہے۔ اسی لیے شاید میں اتنا پریشان ہوں… کیونکہ مجھے صرف کامیابی نہیں چاہیے، مجھے اپنے گھر کے لیے وہ آسودگی چاہیے جس کا خواب دیکھتے دیکھتے کئی راتیں خاموشی میں گزر گئی ہیں۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ میں محنت سے نہیں ڈرتا، تھکنے سے نہیں ڈرتا، کم سے کم پر گزارا کرنے سے بھی نہیں ڈرتا—بس اس بے بسی سے ڈرتا ہوں کہ چاہنے کے باوجود اپنے لوگوں کے کام نہ آ سکوں۔ 🥀
روزگار کی فکر بھی عجیب آزمائش ہے؛ انسان کو صرف اپنی خواہشوں سے نہیں، اپنے سکون سے بھی دستبردار کر دیتی ہے۔ کبھی جیب میں چند نوٹ کم ہوں تو آدمی صرف اپنی ضرورتیں نہیں روکتا، وہ اپنی بہت سی خواہشوں کو بھی خاموشی سے دفن کر دیتا ہے، تاکہ گھر کی کوئی ضرورت اُس کے سامنے سوال بن کر نہ کھڑی ہو۔ میں بھی شاید اسی مقام پر کھڑا ہوں جہاں ناکامی صرف ناکامی نہیں رہتی، گھر کی ضرورتوں کا بوجھ بن جاتی ہے۔ ہر گزرتا دن یہ احساس اور گہرا کرتا جاتا ہے کہ وقت ہاتھ سے نکل رہا ہے، عمر اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے، مگر روزگار کی تلاش اب بھی وہیں کھڑی ہے جہاں کل تھی۔ سب سے زیادہ اذیت اُس وقت ہوتی ہے جب اپنے لیے کچھ مانگنے کو دل چاہے اور فوراً گھر کی ضرورتیں یاد آ جائیں۔ پھر اپنی خواہش، اپنی آسائش، اپنی پسند—سب کچھ ایک طرف رکھ کر آدمی صرف یہ سوچتا ہے کہ کسی طرح گھر والوں کے لیے آسانی پیدا ہو جائے، کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے، کسی ضرورت کو کل پر نہ ٹالنا پڑے۔ کبھی کبھی رات کو نیند اس لیے نہیں آتی کہ کوئی خواب بہت بڑا ہے، بلکہ اس لیے کہ حقیقت بہت بھاری ہو چکی ہوتی ہے۔ ذہن میں کام کی تلاش، خالی جیب، آنے والے اخراجات، گھر کی ذمہ داریاں اور اپنوں کی ضرورتیں ایک ساتھ شور کرتی رہتی ہیں، جبکہ انسان باہر سے ایسے بیٹھا رہتا ہے جیسے اُسے کسی بات کی فکر ہی نہ ہو۔ اور شاید میری پریشانی بھی یہی ہے کہ میں کامیاب ہونا صرف اپنے لیے نہیں چاہتا۔ مجھے اُن چہروں کا خیال ستاتا ہے جن کے سامنے میں مضبوط بننے کی کوشش کرتا ہوں، اُن ہاتھوں کا خیال آتا ہے جنہوں نے میرے لیے عمر بھر محنت کی، اور اُن ضرورتوں کا خیال آتا ہے جنہیں میں اپنی کمائی سے پورا کرنا چاہتا ہوں۔ کاش روزگار صرف ایک نوکری کا نام ہوتا؛ یہ تو انسان کے وقار، گھر کی آس، والدین کے سکون، اپنی ضرورتوں اور آنے والے کل کی امید—سب کو ایک ہی دھاگے میں باندھ دیتا ہے۔ اسی لیے شاید میں اتنا پریشان ہوں… کیونکہ مجھے صرف کامیابی نہیں چاہیے، مجھے اپنے گھر کے لیے وہ آسودگی چاہیے جس کا خواب دیکھتے دیکھتے کئی راتیں خاموشی میں گزر گئی ہیں۔ اور سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ میں محنت سے نہیں ڈرتا، تھکنے سے نہیں ڈرتا، کم سے کم پر گزارا کرنے سے بھی نہیں ڈرتا—بس اس بے بسی سے ڈرتا ہوں کہ چاہنے کے باوجود اپنے لوگوں کے کام نہ آ سکوں۔ 🥀

About