@muibin120: #LASHESUPERFOOD #Kemtuyettaytebaochet #duongtrang #niacinamide #foryou

múi bỉn
múi bỉn
Open In TikTok:
Region: VN
Friday 11 September 2026 03:36:04 GMT
286
7
1
0

Music

Download

Comments

trananhvan38
Mayyni :
Tt nhé 🥰🥰🥰
2026-09-11 07:37:22
0
To see more videos from user @muibin120, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

تاریخ وفات: 7 دسمبر 2020 آج مفتی اعظم پاکستان شیخ التفسیر والحدیث فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی زرولی خان صاحب رحمہ اللّٰہ کی یومِ وفات ہے۔ یہ وہ دن ہے جب علمی دنیا سے ایک ایسا درخشاں چراغ بجھ گیا تھا جس کی روشنی آج بھی دلوں اور دماغوں میں زندہ ہے۔ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ کی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیم، دین کے غلبے، عقائدِ اہلِ سنت کے دفاع، اور مسلمانوں کی دینی تربیت کے لیے وقف رہی۔ وہ نہ صرف ایک استاد تھے بلکہ ایک مصلح، ایک خطیب، ایک مجاہدِ قلم و زبان، اور ایک بے باک داعی تھے۔ جامعہ عربیہ احسن العلوم کراچی کے قیام سے لے کر ہزاروں طلباء کی علمی و روحانی تربیت تک، ہر قدم پر اُن کا اخلاص، عزم، غیرتِ دینی، اور استقامت نمایاں نظر آتی ہے۔ اُن کی تقریریں، ان کا علمی جلال، ان کی للکار، اور ان کا سادہ و بے ریا مزاج آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔  حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ صرف ایک عالم نہیں تھے، بلکہ ایک تحریک، ایک طرزِ فکر، اور ایک مکمل دینی مزاج کا نام تھے۔ اُن کے درس کے حلقوں سے نکل کر ہزاروں طلبہ نے دین کی خدمت کا علم اٹھایا۔ اُن کی خطابت میں وہ جلال تھا جو باطل کے ایوانوں کو لرزا دیتا، اور وہ محبت تھی جو سننے والوں کے دلوں میں اُتر جاتی۔ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ کی شخصیت میں عجیب جامعیت تھی۔ سختی بھی مگر اخلاص کی بنیاد پر، جرأت بھی مگر حکمت کے ساتھ، اور عاجزی بھی مگر علمی وقار کے ساتھ۔ دینی غیرت ان کی پہچان تھی۔ حق بات کہنے میں نہ کبھی مصلحت سے کام لیا، نہ کسی دباؤ کو قبول کیا۔ انہوں نے زندگی بھر سنت کی سربلندی کے لیے محنت کی، اور آخر دم تک اسی راستے پر قائم رہے۔ اللّٰہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ #بیانات #مفتی_زرولی_خان_صاحب #كل_نفس_ذائقةالموت
تاریخ وفات: 7 دسمبر 2020 آج مفتی اعظم پاکستان شیخ التفسیر والحدیث فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی زرولی خان صاحب رحمہ اللّٰہ کی یومِ وفات ہے۔ یہ وہ دن ہے جب علمی دنیا سے ایک ایسا درخشاں چراغ بجھ گیا تھا جس کی روشنی آج بھی دلوں اور دماغوں میں زندہ ہے۔ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ کی پوری زندگی قرآن و سنت کی تعلیم، دین کے غلبے، عقائدِ اہلِ سنت کے دفاع، اور مسلمانوں کی دینی تربیت کے لیے وقف رہی۔ وہ نہ صرف ایک استاد تھے بلکہ ایک مصلح، ایک خطیب، ایک مجاہدِ قلم و زبان، اور ایک بے باک داعی تھے۔ جامعہ عربیہ احسن العلوم کراچی کے قیام سے لے کر ہزاروں طلباء کی علمی و روحانی تربیت تک، ہر قدم پر اُن کا اخلاص، عزم، غیرتِ دینی، اور استقامت نمایاں نظر آتی ہے۔ اُن کی تقریریں، ان کا علمی جلال، ان کی للکار، اور ان کا سادہ و بے ریا مزاج آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ صرف ایک عالم نہیں تھے، بلکہ ایک تحریک، ایک طرزِ فکر، اور ایک مکمل دینی مزاج کا نام تھے۔ اُن کے درس کے حلقوں سے نکل کر ہزاروں طلبہ نے دین کی خدمت کا علم اٹھایا۔ اُن کی خطابت میں وہ جلال تھا جو باطل کے ایوانوں کو لرزا دیتا، اور وہ محبت تھی جو سننے والوں کے دلوں میں اُتر جاتی۔ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ کی شخصیت میں عجیب جامعیت تھی۔ سختی بھی مگر اخلاص کی بنیاد پر، جرأت بھی مگر حکمت کے ساتھ، اور عاجزی بھی مگر علمی وقار کے ساتھ۔ دینی غیرت ان کی پہچان تھی۔ حق بات کہنے میں نہ کبھی مصلحت سے کام لیا، نہ کسی دباؤ کو قبول کیا۔ انہوں نے زندگی بھر سنت کی سربلندی کے لیے محنت کی، اور آخر دم تک اسی راستے پر قائم رہے۔ اللّٰہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب رحمہ اللّٰہ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ #بیانات #مفتی_زرولی_خان_صاحب #كل_نفس_ذائقةالموت

About