@latinus_us: #Loret. La FGR informó que los primeros peritajes apuntan a que el diputado Zenyazen Escobar se suicidó. #Latinus #InformaciónParaTi

Latinus
Latinus
Open In TikTok:
Region: MX
Friday 11 September 2026 04:27:50 GMT
94052
5443
89
114

Music

Download

Comments

user90677151577218
Dodo :
obviamente no le conviene al gobierno decir que fue una ejecución
2026-09-11 05:05:48
185
lourdes.pacheco.l
Lourdes Pacheco Lagunes :
porque no dicen que fueron los del priam
2026-09-11 06:12:13
9
1srael88
🤔 :
o sea lo suicid4r0n?
2026-09-11 05:54:43
28
unaweera
𝓝𝓸𝓱𝓮𝓵𝓵𝔂 :
Nada creíble
2026-09-11 05:37:52
32
alain.lozada
Alain Lozada01 :
Ni porque era parte de ellos van a investigar como debe de ser (o no es conveniente para ellos el que salga la verdad a la luz)
2026-09-11 16:08:37
6
diego.vega4753
Diego Vega :
no creoo
2026-09-11 04:35:28
14
danielaszm1
daniela 💕 :
hey qn sin sueño para hablar ahorita? 😬
2026-09-11 04:36:19
28
letoskha
Lizzette Rojas Ortig :
😂😂😂 ya hasta les vale lo que pensemos …
2026-09-11 19:02:04
2
hanaguilera
Han Aguilera :
es una
2026-09-11 14:44:05
10
veronica.alarcon764
Veronica Alarcon :
xfavorrrrrrrr son cínicos!!!
2026-09-11 08:40:25
5
arnd095
Armando.... :
¿le dan like a mi vídeo?
2026-09-11 05:25:42
0
mebalozz22
Mebalozz🧿 :
2026-09-11 05:17:53
7
deadpool_30
Alan Kravitz :
Este gobierno va a pagar caro el haber insultado la inteligencia de los ciudadanos.
2026-09-11 13:58:53
2
cm_tvz09
mtv_Ca :
y rocha moya pa cuando?
2026-09-11 16:41:39
1
aracelimontiel92
nada :
jamás será creíble ...solo el ,Dios y la esposa debe de saber cómo estaba emocionalmente ..pero todo muy dudosa
2026-09-11 05:57:42
0
hiban4141
Hiban :
igual que los marinos cuando estaban por descubrir la red de huachicol
2026-09-11 16:00:47
1
nacorhakl0
TACUACHE 🦡 :
2026-09-11 04:32:18
3
puro.lorin
puro lorin :
necesito ayuda
2026-09-11 04:51:08
4
mathew.gutirrez.l
MATTFIT :
segundo
2026-09-11 04:32:26
0
franzvera
franzvera :
en otros noticieros mencionan que en casetas al.pasar iba acompañado
2026-09-11 16:48:48
1
To see more videos from user @latinus_us, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یمن میں صرف ایک جـ.ـنـ.ـگ نہیں، بڑی بساط بچھ چکی ہے۔ ۔۔۔۔۔ :یمن میں صرف ایک جـ.ـنـ.ـگ نہیں، بڑی بساط بچھ چکی ہے۔ ۔۔۔۔۔ : کیا یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان ایک نئی جـ.ـنـ.ـگ ہے؟ یا کئی ماہ سے تیار ہونے والی کوئی بڑی حکمتِ عملی اب میدان میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے؟ گزشتہ دنوں حوثیوں نے مغربی تعز سے ساحل اور المخا کی طرف بڑا حـ.ـمـ.ـلہ کیا۔ توپ خانے، ڈرونز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، ابتدا میں کچھ مقامات پر پیش قدمی بھی ہوئی، لیکن پھر منظر بدل گیا۔ العمالقہ اور درع الوطن کی کمک پہنچی، فضائی حـ.ـمـ.ـلے ہوئے اور حکومتی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کر دی۔ المخا محفوظ رہا، تعز–المخا شاہراہ حوثیوں کے قبضے میں نہ آ سکی اور لڑائی حیس، حائِفان اور الجراحی تک پھیل گئی۔ یہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ اگر حیس اور الجراحی سے زبید اور پھر حدیدہ کی سمت پیش قدمی جاری رہی تو دباؤ حوثیوں کے ایک انتہائی اہم ساحلی اور رسدی مرکز تک پہنچ جائے گا۔ حدیدہ پر دباؤ کا مطلب صرف ایک شہر پر حـ.ـمـ.ـلہ نہیں، بلکہ حوثیوں کے اہم بحری اور رسدی شریان کو کمزور کرنا ہے۔ لیکن دباؤ صرف زمین سے نہیں آ رہا۔ صنعاء کے ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے حوثیوں کے بیرونی فضائی رابطے اور رسد کو بھی سوال بنا دیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کی جانب سے ترکیہ کے KORKUT جیسے ڈرون شکن نظام حاصل کرنے اور اپنی اہم تنصیبات کو محفوظ بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اب تین چیزوں کو ایک ساتھ دیکھیے: حدیدہ پر زمینی دباؤ، حوثیوں کی بیرونی رسد پر فضائی دباؤ، اور سعودی عرب کا ڈرون خطرے کے خلاف دفاع مضبوط کرنا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یقین سے کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن ان سب میں ایک واضح اسٹریٹجک منطق ضرور دکھائی دیتی ہے۔ سن تزو کی جنگی حکمتِ عملی کا ایک بنیادی اصول یہی ہے کہ دشمن کو صرف میدانِ جنگ میں شکست نہ دو، بلکہ اس کی رسد، جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اور اہم فوجی برتری کو بھی کمزور کرو۔ شاید یمن میں آج یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی–ترکی دفاعی تعاون، فضائی دفاع اور حلفِ مکہ سے متعلق باتیں حالیہ حوثی حملے سے پہلے ہی سامنے آ رہی تھیں۔ اس لیے ممکن ہے موجودہ حکمتِ عملی اس حملے کے بعد اچانک وجود میں نہ آئی ہو، بلکہ کئی ماہ سے تیار ہو رہی ہو۔ اور شاید حوثیوں نے بھی اسی خطرے کو محسوس کیا۔ اگر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے خلاف محاذ مضبوط، رسدی راستے محدود اور ڈرون خطرے کا توڑ تیار ہو رہا ہے تو ممکن ہے انہوں نے انتظار کرنے کے بجائے ابھی جنگی پہل کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کی ابتدائی پیش قدمی اب جوابی حملے میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ ترین میدانِ جـ.ـنـ.ـگ کی صورتِ حال اور اب اس تجزیے کے دوران آنے والی تازہ ترین خبر اس پیش رفت کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ یمنی خبر رساں ادارے کے مطابق چوتھے بریگیڈ کے ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ یمنی مسلح افواج نے المفالیس کے علاقے میں تَبّہ الوَثرہ اور تَبّہ سعید طہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ ذیبان، الخضیرہ اور النجدین کی اہم پہاڑی چوٹیوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں حوثیوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے متعدد عناصر لڑائی کے مقامات سے فرار ہوگئے۔ اور اس سے بھی اہم پیش رفت: حیس پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ یعنی صورتحال اب صرف دفاع تک محدود نہیں رہی؛ حکومتی فورسز حوثیوں کے خلاف جوابی پیش قدمی کرتے ہوئے اہم زمینی پوزیشنیں واپس لے رہی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو موجودہ جنگ کو پہلے کی کئی جھڑپوں سے مختلف بناتا ہے۔ المخا برقرار ہے، تعز–المخا راستہ محفوظ ہے، حیس دوبارہ مکمل کنٹرول میں آ چکا ہے اور لڑائی کا دباؤ الجراحی سمیت دیگر محاذوں تک پہنچ رہا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ حوثیوں نے حملہ کیوں کیا؟ اصل سوال یہ ہے: کیا حوثیوں نے ایک جـ.ـنـ.ـگ شروع کی ہے، یا ایسی جنگ میں داخل ہو گئے ہیں جس کی بساط ان کے حملے سے پہلے ہی بچھائی جا چکی تھی؟ اگر یہ جوابی پیش قدمی برقرار رہتی ہے اور حیس و الجراحی سے دباؤ آگے زبید اور حدیدہ کی طرف بڑھتا ہے تو یمن کی جنگ کا نقشہ واقعی تبدیل ہو سکتا ہے۔ یمن میں اس وقت جنگ صرف محاذوں پر نہیں لڑی جا رہی؛ سمندر، فضا، رسد اور دفاعی نظام—سب ایک ہی بڑی جنگی بساط کے مہرے بنتے جا رہے ہیں۔ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اور آنے والے دن بتائیں گے کہ یہ پیش قدمی کہاں تک پہنچتی ہے
یمن میں صرف ایک جـ.ـنـ.ـگ نہیں، بڑی بساط بچھ چکی ہے۔ ۔۔۔۔۔ :یمن میں صرف ایک جـ.ـنـ.ـگ نہیں، بڑی بساط بچھ چکی ہے۔ ۔۔۔۔۔ : کیا یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان ایک نئی جـ.ـنـ.ـگ ہے؟ یا کئی ماہ سے تیار ہونے والی کوئی بڑی حکمتِ عملی اب میدان میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے؟ گزشتہ دنوں حوثیوں نے مغربی تعز سے ساحل اور المخا کی طرف بڑا حـ.ـمـ.ـلہ کیا۔ توپ خانے، ڈرونز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے، ابتدا میں کچھ مقامات پر پیش قدمی بھی ہوئی، لیکن پھر منظر بدل گیا۔ العمالقہ اور درع الوطن کی کمک پہنچی، فضائی حـ.ـمـ.ـلے ہوئے اور حکومتی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کر دی۔ المخا محفوظ رہا، تعز–المخا شاہراہ حوثیوں کے قبضے میں نہ آ سکی اور لڑائی حیس، حائِفان اور الجراحی تک پھیل گئی۔ یہاں اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ اگر حیس اور الجراحی سے زبید اور پھر حدیدہ کی سمت پیش قدمی جاری رہی تو دباؤ حوثیوں کے ایک انتہائی اہم ساحلی اور رسدی مرکز تک پہنچ جائے گا۔ حدیدہ پر دباؤ کا مطلب صرف ایک شہر پر حـ.ـمـ.ـلہ نہیں، بلکہ حوثیوں کے اہم بحری اور رسدی شریان کو کمزور کرنا ہے۔ لیکن دباؤ صرف زمین سے نہیں آ رہا۔ صنعاء کے ہوائی اڈے کے رن وے کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات نے حوثیوں کے بیرونی فضائی رابطے اور رسد کو بھی سوال بنا دیا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب کی جانب سے ترکیہ کے KORKUT جیسے ڈرون شکن نظام حاصل کرنے اور اپنی اہم تنصیبات کو محفوظ بنانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اب تین چیزوں کو ایک ساتھ دیکھیے: حدیدہ پر زمینی دباؤ، حوثیوں کی بیرونی رسد پر فضائی دباؤ، اور سعودی عرب کا ڈرون خطرے کے خلاف دفاع مضبوط کرنا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ یقین سے کہنا قبل از وقت ہوگا، لیکن ان سب میں ایک واضح اسٹریٹجک منطق ضرور دکھائی دیتی ہے۔ سن تزو کی جنگی حکمتِ عملی کا ایک بنیادی اصول یہی ہے کہ دشمن کو صرف میدانِ جنگ میں شکست نہ دو، بلکہ اس کی رسد، جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت اور اہم فوجی برتری کو بھی کمزور کرو۔ شاید یمن میں آج یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی–ترکی دفاعی تعاون، فضائی دفاع اور حلفِ مکہ سے متعلق باتیں حالیہ حوثی حملے سے پہلے ہی سامنے آ رہی تھیں۔ اس لیے ممکن ہے موجودہ حکمتِ عملی اس حملے کے بعد اچانک وجود میں نہ آئی ہو، بلکہ کئی ماہ سے تیار ہو رہی ہو۔ اور شاید حوثیوں نے بھی اسی خطرے کو محسوس کیا۔ اگر انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے خلاف محاذ مضبوط، رسدی راستے محدود اور ڈرون خطرے کا توڑ تیار ہو رہا ہے تو ممکن ہے انہوں نے انتظار کرنے کے بجائے ابھی جنگی پہل کرنے کا فیصلہ کیا ہو۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کی ابتدائی پیش قدمی اب جوابی حملے میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ ترین میدانِ جـ.ـنـ.ـگ کی صورتِ حال اور اب اس تجزیے کے دوران آنے والی تازہ ترین خبر اس پیش رفت کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ یمنی خبر رساں ادارے کے مطابق چوتھے بریگیڈ کے ایک فوجی ذریعے نے بتایا ہے کہ یمنی مسلح افواج نے المفالیس کے علاقے میں تَبّہ الوَثرہ اور تَبّہ سعید طہ پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے، جبکہ ذیبان، الخضیرہ اور النجدین کی اہم پہاڑی چوٹیوں پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں حوثیوں کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا اور ان کے متعدد عناصر لڑائی کے مقامات سے فرار ہوگئے۔ اور اس سے بھی اہم پیش رفت: حیس پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ یعنی صورتحال اب صرف دفاع تک محدود نہیں رہی؛ حکومتی فورسز حوثیوں کے خلاف جوابی پیش قدمی کرتے ہوئے اہم زمینی پوزیشنیں واپس لے رہی ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جو موجودہ جنگ کو پہلے کی کئی جھڑپوں سے مختلف بناتا ہے۔ المخا برقرار ہے، تعز–المخا راستہ محفوظ ہے، حیس دوبارہ مکمل کنٹرول میں آ چکا ہے اور لڑائی کا دباؤ الجراحی سمیت دیگر محاذوں تک پہنچ رہا ہے۔ اب اصل سوال یہ نہیں کہ حوثیوں نے حملہ کیوں کیا؟ اصل سوال یہ ہے: کیا حوثیوں نے ایک جـ.ـنـ.ـگ شروع کی ہے، یا ایسی جنگ میں داخل ہو گئے ہیں جس کی بساط ان کے حملے سے پہلے ہی بچھائی جا چکی تھی؟ اگر یہ جوابی پیش قدمی برقرار رہتی ہے اور حیس و الجراحی سے دباؤ آگے زبید اور حدیدہ کی طرف بڑھتا ہے تو یمن کی جنگ کا نقشہ واقعی تبدیل ہو سکتا ہے۔ یمن میں اس وقت جنگ صرف محاذوں پر نہیں لڑی جا رہی؛ سمندر، فضا، رسد اور دفاعی نظام—سب ایک ہی بڑی جنگی بساط کے مہرے بنتے جا رہے ہیں۔ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں، اور آنے والے دن بتائیں گے کہ یہ پیش قدمی کہاں تک پہنچتی ہے

About