یا مولا میری بیٹی کو بھی ایسے ذبح کیا دو بچوں سامنے دو سال کے تھے لوہے کے سریوں بجلی کی کرنٹ رسیوں سے گھسیٹا بال سارے کھنچ کر سر سے انار دینے تڑپتی چیخ چیخ کی گ تن ہاں مكان بچے حویلی دس تھے قتل کرنے والے کس طرح وہ تڑپتی رہی بچے کمبلو میں چھپ کر سسکتے رہے پھر وہا ں سے گھی سٹ کی کار میں ڈال کر جگہ جگ لاش پھنکتے رہے کہ بدی برکاری کا الزام لگائے بیوه تھی پہلے شوهر کو زهر دی .18 عمر تھی میری بیٹی کی پھر ڈیرے میں پھینک دی لاش تاکہ الزام دیں . بد کردار تھی . خانیوال تلمیہ چنوں پہلے پلاننگ کی کس طرح قتل کر کے قانوں خرید لیا ہائے ہائے زهره حسین😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭🕋🕋🕋🕋🕋🕋🤲🤲🤲🤲🤲😭😭😭🕌🕌🕌🕌😭😭