*"30 سال پہلے جب میری شادی تم سے ہوئی، تو میں نے اپنے ایم فل اور 17 ویں گریڈ کے افسر ہونے کا غرور دروازے پر چھوڑ کر قدم رکھا تھا تاکہ ہمارا گھر بس سکے۔ میں نے سوچا تھا کہ محبت اور احترام سے تمہا کم علمی کا احساس دور کر دوں گی، لیکن تم نے میری شرافت کو میری کمزوری سمجھ لیا۔* > *تم نے سالہا سال میری محنت کی کمائی پر عیش کیا، میرا اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بک چھین کر مجھے ایک ایک روپے کا محتاج رکھا، اور پھر بھی مجھے 'جاہل' کا طعنہ دیتے رہے۔ میں خاموش رہی کیونکہ مجھے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا تھا اور میں ایک مضبوط ماں بن کر ان کی پرورش کرنا چاہتی تھی۔* > *لیکن تم نے میرے ہی بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی پڑھ لکھی ماں جاہل ہے اور تم دنیا کے سب سے عقل مند انسان ہو۔ فلسفہ مجھے یہ سکھاتا ہے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ہر ظلم کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ میری 25 سالہ سرکاری ملازمت مکمل ہو چکی ہے، میرے بچے اب اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور مجھے اب تمہاری یا تمہارے دیے ہوئے 'جاہل' کے تمغے کی ضرورت نہیں ہے۔* > *جس گھر کو تم اپنا کہتے ہو، وہ بھی میری تنخواہ کے اقساط سے بنا تھا۔ اب یہ گھر، یہ اے ٹی ایم کارڈ، اور یہ خاموشی تم مبارک ہو۔ میں اپنی زندگی کے باقی ایام ان لوگوں کے لیے وقف کر رہی ہوں جو علم اور عورت کی قدر جانتے ہیں۔"* > شوہر کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بدحواس ہو کر گھر پہنچا اور بچوں کو سارا واقعہ سنایا۔ بیٹے نے باپ کا اترا ہوا چہرہ دیکھا اور غصے سے بولا، "بابا! آپ تو کہتے تھے کہ امی کو کچھ نہیں آتا، وہ جاہل ہیں! لیکن آج معلوم ہوا کہ انہوں نے خاموشی سے اپنا سب کچھ ہم پر قربان کر دیا اور ہم اپ کی باتوں میں آ کر ان کی توہین کرتے رہے۔" بچوں نے اسی وقت اپنے باپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں کو تلاش کرنے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ وہ شخص اپنے خالی، اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھ گیا۔ اس کے پاس اب نہ تو بیوی کی تنخواہ تھی، نہ اس کا رعب و دبدبہ، اور نہ ہی وہ بچے جو اسے عقل مند سمجھتے تھے۔ جس اے ٹی ایم کارڈ پر وہ سالوں سے ناز کرتا تھا، وہ اب پلاسٹک کے ایک بے کار ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہ تھا—اور وہ شخص واقعی زندگی کے امتحان میں مکمل جاہل اور تنہا ثابت ہو چکا تھا۔ - @hussain.shakeel140"/> *"30 سال پہلے جب میری شادی تم سے ہوئی، تو میں نے اپنے ایم فل اور 17 ویں گریڈ کے افسر ہونے کا غرور دروازے پر چھوڑ کر قدم رکھا تھا تاکہ ہمارا گھر بس سکے۔ میں نے سوچا تھا کہ محبت اور احترام سے تمہا کم علمی کا احساس دور کر دوں گی، لیکن تم نے میری شرافت کو میری کمزوری سمجھ لیا۔* > *تم نے سالہا سال میری محنت کی کمائی پر عیش کیا، میرا اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بک چھین کر مجھے ایک ایک روپے کا محتاج رکھا، اور پھر بھی مجھے 'جاہل' کا طعنہ دیتے رہے۔ میں خاموش رہی کیونکہ مجھے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا تھا اور میں ایک مضبوط ماں بن کر ان کی پرورش کرنا چاہتی تھی۔* > *لیکن تم نے میرے ہی بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی پڑھ لکھی ماں جاہل ہے اور تم دنیا کے سب سے عقل مند انسان ہو۔ فلسفہ مجھے یہ سکھاتا ہے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ہر ظلم کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ میری 25 سالہ سرکاری ملازمت مکمل ہو چکی ہے، میرے بچے اب اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور مجھے اب تمہاری یا تمہارے دیے ہوئے 'جاہل' کے تمغے کی ضرورت نہیں ہے۔* > *جس گھر کو تم اپنا کہتے ہو، وہ بھی میری تنخواہ کے اقساط سے بنا تھا۔ اب یہ گھر، یہ اے ٹی ایم کارڈ، اور یہ خاموشی تم مبارک ہو۔ میں اپنی زندگی کے باقی ایام ان لوگوں کے لیے وقف کر رہی ہوں جو علم اور عورت کی قدر جانتے ہیں۔"* > شوہر کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بدحواس ہو کر گھر پہنچا اور بچوں کو سارا واقعہ سنایا۔ بیٹے نے باپ کا اترا ہوا چہرہ دیکھا اور غصے سے بولا، "بابا! آپ تو کہتے تھے کہ امی کو کچھ نہیں آتا، وہ جاہل ہیں! لیکن آج معلوم ہوا کہ انہوں نے خاموشی سے اپنا سب کچھ ہم پر قربان کر دیا اور ہم اپ کی باتوں میں آ کر ان کی توہین کرتے رہے۔" بچوں نے اسی وقت اپنے باپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں کو تلاش کرنے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ وہ شخص اپنے خالی، اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھ گیا۔ اس کے پاس اب نہ تو بیوی کی تنخواہ تھی، نہ اس کا رعب و دبدبہ، اور نہ ہی وہ بچے جو اسے عقل مند سمجھتے تھے۔ جس اے ٹی ایم کارڈ پر وہ سالوں سے ناز کرتا تھا، وہ اب پلاسٹک کے ایک بے کار ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہ تھا—اور وہ شخص واقعی زندگی کے امتحان میں مکمل جاہل اور تنہا ثابت ہو چکا تھا۔ - @hussain.shakeel140 - Tikwm"/> *"30 سال پہلے جب میری شادی تم سے ہوئی، تو میں نے اپنے ایم فل اور 17 ویں گریڈ کے افسر ہونے کا غرور دروازے پر چھوڑ کر قدم رکھا تھا تاکہ ہمارا گھر بس سکے۔ میں نے سوچا تھا کہ محبت اور احترام سے تمہا کم علمی کا احساس دور کر دوں گی، لیکن تم نے میری شرافت کو میری کمزوری سمجھ لیا۔* > *تم نے سالہا سال میری محنت کی کمائی پر عیش کیا، میرا اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بک چھین کر مجھے ایک ایک روپے کا محتاج رکھا، اور پھر بھی مجھے 'جاہل' کا طعنہ دیتے رہے۔ میں خاموش رہی کیونکہ مجھے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا تھا اور میں ایک مضبوط ماں بن کر ان کی پرورش کرنا چاہتی تھی۔* > *لیکن تم نے میرے ہی بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی پڑھ لکھی ماں جاہل ہے اور تم دنیا کے سب سے عقل مند انسان ہو۔ فلسفہ مجھے یہ سکھاتا ہے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ہر ظلم کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ میری 25 سالہ سرکاری ملازمت مکمل ہو چکی ہے، میرے بچے اب اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور مجھے اب تمہاری یا تمہارے دیے ہوئے 'جاہل' کے تمغے کی ضرورت نہیں ہے۔* > *جس گھر کو تم اپنا کہتے ہو، وہ بھی میری تنخواہ کے اقساط سے بنا تھا۔ اب یہ گھر، یہ اے ٹی ایم کارڈ، اور یہ خاموشی تم مبارک ہو۔ میں اپنی زندگی کے باقی ایام ان لوگوں کے لیے وقف کر رہی ہوں جو علم اور عورت کی قدر جانتے ہیں۔"* > شوہر کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بدحواس ہو کر گھر پہنچا اور بچوں کو سارا واقعہ سنایا۔ بیٹے نے باپ کا اترا ہوا چہرہ دیکھا اور غصے سے بولا، "بابا! آپ تو کہتے تھے کہ امی کو کچھ نہیں آتا، وہ جاہل ہیں! لیکن آج معلوم ہوا کہ انہوں نے خاموشی سے اپنا سب کچھ ہم پر قربان کر دیا اور ہم اپ کی باتوں میں آ کر ان کی توہین کرتے رہے۔" بچوں نے اسی وقت اپنے باپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں کو تلاش کرنے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ وہ شخص اپنے خالی، اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھ گیا۔ اس کے پاس اب نہ تو بیوی کی تنخواہ تھی، نہ اس کا رعب و دبدبہ، اور نہ ہی وہ بچے جو اسے عقل مند سمجھتے تھے۔ جس اے ٹی ایم کارڈ پر وہ سالوں سے ناز کرتا تھا، وہ اب پلاسٹک کے ایک بے کار ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہ تھا—اور وہ شخص واقعی زندگی کے امتحان میں مکمل جاہل اور تنہا ثابت ہو چکا تھا۔ - @hussain.shakeel140"/>

@hussain.shakeel140: ایک مڈل پاس شخص کی شادی ایسی عورت کے ساتھ ہوئی جس نے فلسفے میں M.phil کر رکھا تھا اور 17 گریڈ کی گورنمنٹ جاب بھی تھی۔ شوہر نے اپنی بیوی کا ATM کارڈ اور چیک بک اپنے پاس رکھ لی اور بیوی کی تنخواہ پر عیش کر کے الٹا اُسی بے چاری پر رعب جماتا اور جاہل ہونے کا طعنہ دیتا رہتا بچے جب بڑے ہوئے تو اپنے باپ کو عقل مند اور ماں کو جاہل سمجھتے تھے. خاتون کی گورنمنٹ سروس کے 25 سال مکمل ہوئے تو اس نے شوہر کو اس کی اوقات دکھانے کا فیصلہ کیا اور گھر سے غائب ہو گئی۔ بے مروت شوہر نے بیوی کو تلاش کرنے کی زحمت ہی نہ اور جب بیوی کی تنخواہ نکلوانے بینک پہنچا تب /بینک کا منیجر مسکرا کر اپنی کرسی سے اٹھا اور ایک موٹا لفافہ شوہر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا، "خان صاحب! آپ کی بیگم صاحبہ تین دن پہلے خود یہاں آئی تھیں۔ انہوں نے اپنی 25 سالہ سروس کے بعد قبل از وقت ریٹائرمنٹ (LPR) لے لی ہے اور اپنی ساری گریچوئٹی، پینشن اور جمع شدہ سرمائے کی رقم ایک نئے اکاؤنٹ میں منتقل کروا کر یہ اپنا پرانا اکاؤنٹ ہمیشہ کے لیے بند کروا چکی ہیں۔" شوہر کے ہاتھ سے وہ خالی چیک بک چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ اس کا رنگ زرد پڑ گیا اور گھبراہٹ میں بولا، "یہ... یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کی اجازت کے بغیر میرا گھر کیسے چلے گا؟ اس کا ATM کارڈ تو میرے پاس ہے!" منیجر نے سنجیدگی سے جواب دیا، "وہ ملک گیر سطح پر عورتوں کے حقوق اور مفت تعلیم کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او کی ڈائریکٹر مقرر ہو چکی ہیں اور اسلام آباد منتقل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے آپ کے لیے یہ ایک خط چھوڑا ہے۔" شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔ اندر ایک خط اور ایک چھوٹا سا لفافہ تھا جس پر بچوں کے نام لکھے تھے۔ خط میں لکھا تھا: > *"30 سال پہلے جب میری شادی تم سے ہوئی، تو میں نے اپنے ایم فل اور 17 ویں گریڈ کے افسر ہونے کا غرور دروازے پر چھوڑ کر قدم رکھا تھا تاکہ ہمارا گھر بس سکے۔ میں نے سوچا تھا کہ محبت اور احترام سے تمہا کم علمی کا احساس دور کر دوں گی، لیکن تم نے میری شرافت کو میری کمزوری سمجھ لیا۔* > *تم نے سالہا سال میری محنت کی کمائی پر عیش کیا، میرا اے ٹی ایم کارڈ اور چیک بک چھین کر مجھے ایک ایک روپے کا محتاج رکھا، اور پھر بھی مجھے 'جاہل' کا طعنہ دیتے رہے۔ میں خاموش رہی کیونکہ مجھے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا تھا اور میں ایک مضبوط ماں بن کر ان کی پرورش کرنا چاہتی تھی۔* > *لیکن تم نے میرے ہی بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر بھر دیا کہ ان کی پڑھ لکھی ماں جاہل ہے اور تم دنیا کے سب سے عقل مند انسان ہو۔ فلسفہ مجھے یہ سکھاتا ہے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور ہر ظلم کی ایک میعاد ہوتی ہے۔ میری 25 سالہ سرکاری ملازمت مکمل ہو چکی ہے، میرے بچے اب اپنے پیروں پر کھڑے ہیں اور مجھے اب تمہاری یا تمہارے دیے ہوئے 'جاہل' کے تمغے کی ضرورت نہیں ہے۔* > *جس گھر کو تم اپنا کہتے ہو، وہ بھی میری تنخواہ کے اقساط سے بنا تھا۔ اب یہ گھر، یہ اے ٹی ایم کارڈ، اور یہ خاموشی تم مبارک ہو۔ میں اپنی زندگی کے باقی ایام ان لوگوں کے لیے وقف کر رہی ہوں جو علم اور عورت کی قدر جانتے ہیں۔"* > شوہر کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بدحواس ہو کر گھر پہنچا اور بچوں کو سارا واقعہ سنایا۔ بیٹے نے باپ کا اترا ہوا چہرہ دیکھا اور غصے سے بولا، "بابا! آپ تو کہتے تھے کہ امی کو کچھ نہیں آتا، وہ جاہل ہیں! لیکن آج معلوم ہوا کہ انہوں نے خاموشی سے اپنا سب کچھ ہم پر قربان کر دیا اور ہم اپ کی باتوں میں آ کر ان کی توہین کرتے رہے۔" بچوں نے اسی وقت اپنے باپ کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی ماں کو تلاش کرنے اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ وہ شخص اپنے خالی، اندھیرے گھر میں اکیلا بیٹھ گیا۔ اس کے پاس اب نہ تو بیوی کی تنخواہ تھی، نہ اس کا رعب و دبدبہ، اور نہ ہی وہ بچے جو اسے عقل مند سمجھتے تھے۔ جس اے ٹی ایم کارڈ پر وہ سالوں سے ناز کرتا تھا، وہ اب پلاسٹک کے ایک بے کار ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہ تھا—اور وہ شخص واقعی زندگی کے امتحان میں مکمل جاہل اور تنہا ثابت ہو چکا تھا۔

Hussain Writes❤️
Hussain Writes❤️
Open In TikTok:
Region: PK
Friday 11 September 2026 07:52:37 GMT
285481
3414
151
363

Music

Download

Comments

harrypooter__
Rizwan malik :
kis dramy se copy Kiya please bta do
2026-09-12 05:47:06
1
user802999487
user802999487 :
m b master pss hu or myry hsbnd Ni pry lkn wo b mjy asy hi anpr jahal hony ka tana dyty h
2026-09-11 15:44:50
2
kami24430
Kamran 24 :
It's True Respect For the Women
2026-09-11 13:46:39
7
user5117176623526
user5117176623526 :
wo SB tou thek h Lekin 25 saal pehly ATM card tha Kya?
2026-09-11 17:28:50
16
nahyan2018
Al Nahyan Swati :
1996 ma ATMs thy kia???
2026-09-11 20:45:27
7
mirharaj68
pretty :
zalim sy badtar wo h jo chup chaap zulm sehta rhy
2026-09-11 09:13:53
24
siddusid515
its davil :
apny haq k liye larti hue larkiyan loggon ko hmesha badtameez hi lgti hein. un main se aik badtameez hum b hain😎😇
2026-09-11 17:15:45
14
guleroshan786
Gul e Roshan786 :
good decision
2026-09-11 10:52:30
1
__553392
𝐐𝐚𝐥𝐛_𝐞_𝐦𝐨𝐦𝐢𝐧𝐚 :
heart touching story😳
2026-09-12 04:57:43
1
aimankhan4553
aiman khan :
mere sat bhi yahi hone ja Raha ta Mai ne time pr acha step leya or khud ku bacha leya
2026-09-11 10:36:02
11
user25582368
user255823 :
ایک بات اس تحریر کی بہت اچھی لگی ایک ماں نے کتنی۔ خوبصورتی سے پڑھا لکھا جواب کا انتخاب کیا دراصل پڑھائی انسان کو وہ شعور دیتی ہے جس کا وہ استعمال جیسے چاھیے ویسے کر سکتا ہے فقط پیسا اور گھر کی رونق اہل خانہ ہی ہوتے ہیں
2026-09-12 06:38:47
4
babababa9237
babababa :
main bhi yji condition hain ...master kiya hoa lakin husband job k liya bji nahi chora ghr behta diya or bath bath per degree or jhail k tna deta rehta hain...halan k unse ziyfa perhi likhi or samjhdar hun lakin koi qadr nahi... kabji kabhi dil.both dukhta hain...
2026-09-11 13:19:59
7
hamdan.khan6127
Gul-e-jannat . :
same Meri story hai but alhmdulillah mery bachy Meri bht respect krty hei or Meri shadi ko 15 year ho gy hei Mai job krti hon or husbnd aeshi krta hai phr mujhy in parh kahta hai or zaheni azyat deta hai
2026-09-11 16:36:15
5
junaidraza238
Junaid Raza :
بس کہانی سچی نہیں۔۔۔۔۔ سمجھانا کیا چاہتے ہو۔ ہزاروں میں ایک مثال کو ایسے نا کہو کے ہر دوسرا بندا اس طرح کا ہے۔ ے معاشرتی ناانصافی کر کے گناہ کے مرتکب نا ہو۔
2026-09-11 13:07:39
2
deadperson313
🎀 :
orat ko apni jawani zaya nhi Karni chahye kabhi bhi aise shakhs ke Liye ,
2026-09-11 10:40:49
5
baby.khan9113
baby khan :
bhot hi ahla zabardast
2026-09-11 15:14:28
3
user4928855190280
❤️ Noor ❤️ :
interesting
2026-09-11 10:08:20
1
hinaawan444
Hina Awan :
Buhat acha howa
2026-09-11 10:29:37
0
nighat.yasmeen18
Nighat Yasmeen :
super
2026-09-11 15:19:02
1
shamamuzaffar335
shamamuzaffar335 :
Meri chhoti bahan k sath aisa hi hoa tha lakin 7 sal tk phir 2 bachon k bad bhi us NY aisa hi Kai to diverce lyli ab 15 sal ka baita 14 sal ki baiti hy lakin Khuda k ghar dairy hy andhai nahi lalchi aadmi NY baita apny pass rakha Jo abhi pichhly sal fever ki wajhy sy intaiqal kargea wo larky ko maa sy milny nahi deta tha wo AK sal sy maa sy chhup kar milta tha dar dar k .ab wo shakhs Khali hath hy
2026-09-11 19:20:34
1
alihumza476
alihumza476✅️ :
janab ek pari likhi maa ek pary likhy mahsry ko janam dati hai yeh joy bhut acha likha hai ap ne
2026-09-11 10:42:56
3
hussain.shakeel140
Hussain Writes❤️ :
❤️:ji ..ma b army ma aany se pahle bht mushkil waqt dekha💔💔💔💔
2026-09-11 13:50:13
1
arifbutt009
arifbutt009 :
Achi story ha 😂😂😂😂😂😂
2026-09-12 12:35:05
1
usmanlodhi334
usmanlodhi334 :
baly
2026-09-12 12:19:57
0
jawadsajad
Jawad Sajad :
g tha
2026-09-12 13:01:35
0
To see more videos from user @hussain.shakeel140, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos


About