میری ایک گزارش ہے کہ بچوں کو کسی بھی ویڈیو یا سوشل میڈیا کنٹینٹ میں ایسے موضوعات اور مکالموں کا حصہ نہ بنایا جائے جو ان کی عمر اور معصومیت سے بہت آگے ہوں۔
اگر موضوع شادی شدہ زندگی، شوہر اور بیوی کے مسائل، بالغوں کی ذمہ داریاں یا زندگی کے انتہائی سنجیدہ معاملات سے متعلق ہو تو بہتر ہے کہ اسے بالغ کرداروں کے ذریعے پیش کیا جائے، بچوں کے کرداروں کے ذریعے نہیں۔
بچے جو کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں، وہ ان کے ذہن اور سوچ پر اثر ضرور ڈالتا ہے۔ اس لیے بچوں کی معصومیت کو برقرار رکھتے ہوئے ان کے لیے تعلیم، اخلاق، تربیت، تخلیقی صلاحیت، دوستی، کھیل اور ان کی عمر کے مطابق مثبت موضوعات کو ترجیح دینی چاہیے۔
بچوں سے متعلق کنٹینٹ ایسا ہونا چاہیے جس سے وہ کچھ سیکھیں، خوش ہوں اور اپنی عمر کے خوبصورت دور کو محسوس کریں، نہ کہ کم عمری میں بالغ زندگی کی بھاری ذمہ داریوں اور پریشان کن موضوعات سے ذہنی طور پر دوچار ہوں۔
میری یہ بات کسی کی دل آزاری کے لیے نہیں بلکہ صرف بچوں کی معصومیت اور ذہنی نشوونما کے احترام میں ایک مخلصانہ گزارش ہے۔