حیدرآباد پریس کلب پر سیہون اوقاف کے مبینہ اقدامات کے خلاف پُرامن دھرنا
سیہون شریف کے کچہری کافی کے سجادہ نشین سید محفوظ حسین شاہ لکھیاری کے عقیدت مندوں اور مریدین کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب پر پُرامن دھرنا دیا گیا۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ سجادہ نشین کے بزرگوں کے قدیمی قبرستان، مزارات اور زیارت گاہوں، جہاں ان کے خاندان کے بزرگ اور خواتین بھی مدفون ہیں، پر اوقاف کی جانب سے مبینہ طور پر قبضہ کرکے تالہ بندی کی گئی ہے۔
مظاہرین کے مطابق مذکورہ قبرستان اور مزارات قدیمی ہیں اور ان کی ملکیت و حق سے متعلق دستاویزات بھی موجود ہیں، اس کے باوجود مبینہ طور پر زبردستی تالہ بندی کی گئی۔ مریدین نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی صاف، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کے لیے فوری طور پر کمیٹی تشکیل دی جائے اور تمام دستاویزات و حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وزیر اوقاف ریاض حسین شیرازی اور سید ناصر حسین شاہ سے اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ قبضے کی تحقیقات کرائی جائیں اور اگر قبضہ یا تالہ بندی غیر قانونی ثابت ہو تو اسے فی الفور ختم کرکے قبرستان اور مزارات سجادہ نشین و متعلقہ حق داروں کے حوالے کیے جائیں۔
مریدین کا کہنا ہے کہ مقدس زیارت گاہوں کی تالہ بندی کے باعث ان میں شدید غم و غصہ اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ ہم کسی صورت سیہون شریف کا پُرامن ماحول خراب نہیں چاہتے، اسی لیے اعلیٰ حکام سے مطالبہ ہے کہ فوری مداخلت کرکے مسئلے کو قانونی، آئینی اور پُرامن طریقے سے حل کیا جائے۔
ساتھ ہی مظاہرین نے سیہون میں اوقاف کے نظام سے متعلق سامنے آنے والے مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور زائرین کے نذرانوں کے حوالے سے شکایات کی بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور اگر کسی قسم کی بدعنوانی ثابت ہو تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قدیمی قبرستانوں اور مزارات کا تقدس برقرار رکھا جائے، تالہ بندی ختم کی جائے اور تمام معاملات کو شفاف تحقیقات کے ذریعے فوری طور پر حل کیا جائے۔