@velda_tensuraisveldora00: IT Doesn't Matter Anymore 😤😤 || Rimuru Was so Cold.. .. || song name: Jane! (Hoodtrap) - Quora .. .. .. #thattimeigotreincarnatedasaslime #rimurutempest #demonlord #tensura #merciless

Vê𝗅𝕕ª𝑛𝕒𝖛𝕒 | 嵐 🇯🇵
Vê𝗅𝕕ª𝑛𝕒𝖛𝕒 | 嵐 🇯🇵
Open In TikTok:
Region: NG
Friday 11 September 2026 16:16:22 GMT
92880
18561
134
629

Music

Download

Comments

trevorstone31
Trevor Stone✝️ :
This was the moment that changed the outcome of Chloe’s past
2026-09-12 13:01:09
633
anthontanthony22
anthontanthony22 :
This was never said in the anime btw great sage couldn’t even talk this fluent until he became a demon lord this was either edited or it was AI
2026-09-12 03:26:45
86
esv98
Es V :
the event that changed the loop
2026-09-12 06:54:26
126
altrone1231
Jordan :
Alright fine I’ll watch it
2026-09-12 14:17:43
21
demonlordrimuru9000
Rimuru Tempest :
That's not a line in the series or at the very least. That's not what that character says. At that moment
2026-09-12 11:07:47
6
fymthisguyknowsball
￴￴￴ ￴￴ ￴￴ ￴￴￴ ￴￴ ￴￴￴ ￴ :
the one who made the one who breaks
2026-09-14 11:11:18
0
timmy_day
Timothy Harris :
Why is the Japanese translation and the English dub So different in script.
2026-09-12 00:58:20
46
cavalier_22
Cavalier😼 :
epilepsy warning yo
2026-09-14 08:43:14
0
iluvtrixs
trixs :
Reminding me of the hell of 5 days i have to endure just for ep 23😭
2026-09-12 19:31:28
7
rickstar800
Muri_thi :
but never push a good person to final limits
2026-09-11 18:36:11
12
xaj88x
AJ88 :
Rafael sounds a bit like Cortana
2026-09-13 01:12:35
0
astonishing2000
Astonishing™ :
lwk don't blame Rimuru they bullied the wrong guy
2026-09-11 18:00:10
84
velda_tensuraisveldora00
Vê𝗅𝕕ª𝑛𝕒𝖛𝕒 | 嵐 🇯🇵 :
song name: Jane! (Hoodtrap) - Quora
2026-09-11 16:16:35
6
djailan
Djailan :
why every edit always in dub it butcheres my fav anime so bad 😞😞😞😞😞😞😞
2026-09-13 16:55:08
1
sierra8217
𝔰𝔦𝔢𝔯𝔯𝔞 ꨄིྀ :
hold on I can almost see the edit
2026-09-14 06:26:55
3
user939415882
Randy :
that was BEFORE he became a demon lord
2026-09-14 01:03:00
1
To see more videos from user @velda_tensuraisveldora00, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

گھوڑے سے گرنے والی ایک خاتون… اور پشاور کا وہ ہسپتال جو آج بھی زندہ ہے پشاور کی گلیوں میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ایک معمولی سا حادثہ صرف ایک خاتون کی زندگی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے شہر کی طبی تاریخ بدل دی۔ 1920 کی دہائی میں برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس ریڈنگ کے ساتھ پشاور آئے۔ قلعہ بالاحصار سے شہر کو دیکھنے والی لیڈی ریڈنگ کو پشاور کی زندگی قریب سے دیکھنے کا شوق ہوا۔ پھر ایک دن گھوڑے کی سواری کے دوران وہ گر کر زخمی ہوگئیں۔ انہیں علاج کے لیے ایجرٹن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں موجود طبی سہولیات ان کی ضرورت کے مطابق نہ تھیں۔ بعد میں انہیں بہتر علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں، مگر اس حادثے نے ان کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ دیا: اگر میرے پاس علاج کی سہولت نہیں تھی، تو اس شہر کے عام غریب لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا؟ یہ سوال شاید ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔ 1926 میں انہوں نے پشاور میں ایک معیاری ہسپتال کے قیام کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ اپنی طرف سے بھی خطیر رقم دی، اور ان کوششوں کے نتیجے میں ایک نئے ہسپتال کی بنیاد پڑی۔ اگلے سال، 1927 میں، وہ ہسپتال قائم ہوا جسے آج دنیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام سے جانتی ہے۔ سوچیے… جس خاتون نے کبھی پشاور میں ایک گھوڑے سے گر کر طبی سہولت کی کمی کو محسوس کیا تھا، اسی واقعے نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے علاج کا مرکز بن گیا۔ آج قلعہ بالاحصار کے سائے میں کھڑا یہ ہسپتال صرف اینٹوں، دیواروں اور وارڈز کا نام نہیں۔ یہ اس عجیب تاریخی موڑ کی یادگار ہے جہاں ایک حادثہ ایک سوال بنا، ایک سوال نے ایک عزم پیدا کیا، اور ایک عزم نے پشاور کی طبی تاریخ بدل دی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: کبھی کبھی ایک انسان کا ذاتی دکھ، ہزاروں انسانوں کے لیے زندگی کی امید بن جاتا ہے۔
گھوڑے سے گرنے والی ایک خاتون… اور پشاور کا وہ ہسپتال جو آج بھی زندہ ہے پشاور کی گلیوں میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ایک معمولی سا حادثہ صرف ایک خاتون کی زندگی کا واقعہ نہیں رہا، بلکہ اس نے پورے شہر کی طبی تاریخ بدل دی۔ 1920 کی دہائی میں برطانوی ہندوستان کے وائسرائے لارڈ ریڈنگ اپنی اہلیہ لیڈی ایلس ریڈنگ کے ساتھ پشاور آئے۔ قلعہ بالاحصار سے شہر کو دیکھنے والی لیڈی ریڈنگ کو پشاور کی زندگی قریب سے دیکھنے کا شوق ہوا۔ پھر ایک دن گھوڑے کی سواری کے دوران وہ گر کر زخمی ہوگئیں۔ انہیں علاج کے لیے ایجرٹن ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہاں موجود طبی سہولیات ان کی ضرورت کے مطابق نہ تھیں۔ بعد میں انہیں بہتر علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ وہ صحت یاب ہوگئیں، مگر اس حادثے نے ان کے ذہن میں ایک سوال چھوڑ دیا: اگر میرے پاس علاج کی سہولت نہیں تھی، تو اس شہر کے عام غریب لوگوں کا کیا ہوتا ہوگا؟ یہ سوال شاید ان کے دل میں ہمیشہ کے لیے اتر گیا۔ 1926 میں انہوں نے پشاور میں ایک معیاری ہسپتال کے قیام کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی۔ اپنی طرف سے بھی خطیر رقم دی، اور ان کوششوں کے نتیجے میں ایک نئے ہسپتال کی بنیاد پڑی۔ اگلے سال، 1927 میں، وہ ہسپتال قائم ہوا جسے آج دنیا لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے نام سے جانتی ہے۔ سوچیے… جس خاتون نے کبھی پشاور میں ایک گھوڑے سے گر کر طبی سہولت کی کمی کو محسوس کیا تھا، اسی واقعے نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے علاج کا مرکز بن گیا۔ آج قلعہ بالاحصار کے سائے میں کھڑا یہ ہسپتال صرف اینٹوں، دیواروں اور وارڈز کا نام نہیں۔ یہ اس عجیب تاریخی موڑ کی یادگار ہے جہاں ایک حادثہ ایک سوال بنا، ایک سوال نے ایک عزم پیدا کیا، اور ایک عزم نے پشاور کی طبی تاریخ بدل دی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے خوبصورت سبق یہی ہے: کبھی کبھی ایک انسان کا ذاتی دکھ، ہزاروں انسانوں کے لیے زندگی کی امید بن جاتا ہے۔

About