@kilaanal: #школа #школьныебудни

kilaanal
kilaanal
Open In TikTok:
Region: UA
Friday 11 September 2026 17:20:45 GMT
56050
4621
16
249

Music

Download

Comments

user3220863798359
mopsick28 :
Где орига то❓пж
2026-09-12 07:08:35
21
metro.exodus3
Metro Exodus :
name?
2026-09-12 06:43:12
0
steshaluchshaya
Mamut_rahal :
пишите имя в описании пожалуйста
2026-09-12 06:59:26
3
anton91599
Novihok :
ахахха
2026-09-12 08:25:17
0
reconciliati0n
reconciliation :
фулл?
2026-09-11 18:47:27
0
shepard039
Shepard :
kode pls?
2026-09-12 04:45:28
0
user90516798882732
АЛИ :
name??
2026-09-12 02:40:07
0
angel.fuentes882
Angel Fuentes :
name
2026-09-12 05:33:55
0
serw_mine_zetik
Zetik_minecraft :
да нифига там такое школа нифига девки но мне пох кент лутше
2026-09-12 07:38:22
0
user8072541595184
user8072541595184 :
яб захотел в такую школю😏😏😁😏😏😁😏😁😅😅😅
2026-09-12 06:51:15
0
To see more videos from user @kilaanal, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خاموشی… یہ لفظ چھوٹا ہے مگر اس کے اندر قبرستان کی لمبی قطاریں ہیں۔ خاموشی میں وہ سب دفن ہوتا ہے جو کہنا ضروری تھا مگر کہا نہ گیا۔ وہ سارے سوال دفن ہوتے ہیں جن کے جواب مانگنا حق تھا مگر مانگا نہ گیا۔ وہ ساری بے عزتی دفن ہوتی ہے جسے روکنا لازم تھا مگر برداشت کر لیا گیا۔ اور برداشت کا یہ زہر، آہستہ آہستہ خون میں نہیں… کردار میں اترتا ہے۔ پھر آدمی ہنستا ہے تو ہنسی کے پیچھے آنکھیں رو رہی ہوتی ہیں۔ بات کرتا ہے تو لہجے کے پیچھے دل لرز رہا ہوتا ہے۔ محفل میں بیٹھا ہوتا ہے مگر اندر سے کہیں دور، اپنے ہی ٹوٹے ہوئے حصّوں کو سمیٹ رہا ہوتا ہے۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ انسان دشمن سے لڑنے میں نہیں ڈرتا، مگر اپنوں کے سامنے سچ بولتے ہوئے کانپ جاتا ہے؟ یہ کیسا حساب ہے کہ باہر کی دنیا کے تیر سہہ لیے جاتے ہیں، مگر گھر کی ایک ٹھنڈی نظر، ایک جملہ، ایک طنز، ایک خاموش تضحیک… دل کے پرخچے اڑا دیتی ہے؟ اور پھر بھی انسان چپ رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے اس کی آواز اگر بلند ہوئی تو صرف ایک شخص نہیں ٹوٹے گا—رشتوں کے پل ٹوٹیں گے، گھر کی چھت کانپے گی، ماں کی دعا ہچکولے کھائے گی، باپ کا سر جھک جائے گا، بہن کی ہنسی ادھوری رہ جائے گی… اور یہ سب سوچ کر انسان اپنا گلا خود دبا لیتا ہے۔ کبھی کبھی دل میں ایک چیخ ہوتی ہے جو گلے تک آ کر رک جاتی ہے۔ زبان پر سچ آتا ہے تو یاد آتا ہے: “یہ میرا اپنا ہے… یہ رشتہ ہے… یہ گھر ہے… یہ نام ہے…” اور پھر انسان اپنے ہی سچ کو اپنی ہی سانسوں سے دبا دیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں خاموش رہنے والا کمزور ہے، مگر انہیں کیا خبر خاموش رہنے والا روز اپنے اندر ایک جنگ لڑتا ہے—ایسی جنگ جس میں کوئی تلوار نہیں، کوئی ڈھال نہیں، بس یادیں ہیں… اور یادیں جب دشمن بن جائیں تو انسان اپنے ہی دل کے دروازے کے پیچھے قید ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی اپنے دفاع میں بہت کچھ سوچا تھا۔ میں نے کئی بار دل میں جواب لکھے، کئی بار سچ کے جملے ترتیب دیے، کئی بار فیصلہ کیا کہ بس… اب نہیں۔ اب میں اپنی عزت، اپنا حق، اپنی سانسوں کا حساب مانگوں گا۔ مگر پھر کسی “اپنے” کی شکل سامنے آ جاتی—کسی کی آنکھوں میں امید، کسی کی پیشانی پر عمر کی لکیر، کسی کی آواز میں وہ مانوس پن جو بچپن سے میری رگوں میں اترا ہوا تھا۔ اور میں اپنے حق کی طرف بڑھتے بڑھتے رک جاتا۔ میں سچ کے کنارے پر پہنچ کر پلٹ آتا۔ کیونکہ دفاع اگر رشتے کے خلاف ہو جائے تو آدمی جیت بھی جائے، تو اندر سے ہار جاتا ہے۔💔🖤 #creatorsearchinsights #1millionviews #foryoupage #sadurdupoetry #Sukoon_E_Bismil
خاموشی… یہ لفظ چھوٹا ہے مگر اس کے اندر قبرستان کی لمبی قطاریں ہیں۔ خاموشی میں وہ سب دفن ہوتا ہے جو کہنا ضروری تھا مگر کہا نہ گیا۔ وہ سارے سوال دفن ہوتے ہیں جن کے جواب مانگنا حق تھا مگر مانگا نہ گیا۔ وہ ساری بے عزتی دفن ہوتی ہے جسے روکنا لازم تھا مگر برداشت کر لیا گیا۔ اور برداشت کا یہ زہر، آہستہ آہستہ خون میں نہیں… کردار میں اترتا ہے۔ پھر آدمی ہنستا ہے تو ہنسی کے پیچھے آنکھیں رو رہی ہوتی ہیں۔ بات کرتا ہے تو لہجے کے پیچھے دل لرز رہا ہوتا ہے۔ محفل میں بیٹھا ہوتا ہے مگر اندر سے کہیں دور، اپنے ہی ٹوٹے ہوئے حصّوں کو سمیٹ رہا ہوتا ہے۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ انسان دشمن سے لڑنے میں نہیں ڈرتا، مگر اپنوں کے سامنے سچ بولتے ہوئے کانپ جاتا ہے؟ یہ کیسا حساب ہے کہ باہر کی دنیا کے تیر سہہ لیے جاتے ہیں، مگر گھر کی ایک ٹھنڈی نظر، ایک جملہ، ایک طنز، ایک خاموش تضحیک… دل کے پرخچے اڑا دیتی ہے؟ اور پھر بھی انسان چپ رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے اس کی آواز اگر بلند ہوئی تو صرف ایک شخص نہیں ٹوٹے گا—رشتوں کے پل ٹوٹیں گے، گھر کی چھت کانپے گی، ماں کی دعا ہچکولے کھائے گی، باپ کا سر جھک جائے گا، بہن کی ہنسی ادھوری رہ جائے گی… اور یہ سب سوچ کر انسان اپنا گلا خود دبا لیتا ہے۔ کبھی کبھی دل میں ایک چیخ ہوتی ہے جو گلے تک آ کر رک جاتی ہے۔ زبان پر سچ آتا ہے تو یاد آتا ہے: “یہ میرا اپنا ہے… یہ رشتہ ہے… یہ گھر ہے… یہ نام ہے…” اور پھر انسان اپنے ہی سچ کو اپنی ہی سانسوں سے دبا دیتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں خاموش رہنے والا کمزور ہے، مگر انہیں کیا خبر خاموش رہنے والا روز اپنے اندر ایک جنگ لڑتا ہے—ایسی جنگ جس میں کوئی تلوار نہیں، کوئی ڈھال نہیں، بس یادیں ہیں… اور یادیں جب دشمن بن جائیں تو انسان اپنے ہی دل کے دروازے کے پیچھے قید ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی اپنے دفاع میں بہت کچھ سوچا تھا۔ میں نے کئی بار دل میں جواب لکھے، کئی بار سچ کے جملے ترتیب دیے، کئی بار فیصلہ کیا کہ بس… اب نہیں۔ اب میں اپنی عزت، اپنا حق، اپنی سانسوں کا حساب مانگوں گا۔ مگر پھر کسی “اپنے” کی شکل سامنے آ جاتی—کسی کی آنکھوں میں امید، کسی کی پیشانی پر عمر کی لکیر، کسی کی آواز میں وہ مانوس پن جو بچپن سے میری رگوں میں اترا ہوا تھا۔ اور میں اپنے حق کی طرف بڑھتے بڑھتے رک جاتا۔ میں سچ کے کنارے پر پہنچ کر پلٹ آتا۔ کیونکہ دفاع اگر رشتے کے خلاف ہو جائے تو آدمی جیت بھی جائے، تو اندر سے ہار جاتا ہے۔💔🖤 #creatorsearchinsights #1millionviews #foryoupage #sadurdupoetry #Sukoon_E_Bismil

About