@saimtanvir0: 🌸 حدیث کا آسان مطلب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "فقراء جنت میں مالداروں سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے، اور یہ قیامت کے آدھے دن کے برابر ہوگا۔" � Sunnah 📖 مکمل وضاحت اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام میں غریب ہونا لازماً امیر ہونے سے بہتر ہے۔ اصل فضیلت ایمان، تقویٰ اور نیک اعمال کی ہے۔ اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو مومن دنیا میں مالی طور پر کمزور یا غریب تھے، اور انہوں نے صبر، ایمان اور اللہ کی اطاعت کے ساتھ زندگی گزاری، ان کے لیے آخرت میں بڑی فضیلت ہے۔ دوسری طرف مالدار شخص کے پاس صرف مال ہونا مسئلہ نہیں؛ بلکہ اسے اپنے مال کے بارے میں حساب دینا ہوگا کہ: مال کہاں سے کمایا؟ کہاں خرچ کیا؟ زکوٰۃ اور دوسرے حقوق ادا کیے یا نہیں؟ مال کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کیا یا نہیں؟ اسی لیے غریب مومن جنت میں پہلے داخل ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس حساب دینے کے لیے دنیاوی مال کم تھا۔ � Islamic Urdu Books ⏳ "پانچ سو سال" سے کیا مراد ہے؟ حدیث میں پانچ سو سال کو قیامت کے آدھے دن کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی یہ دنیا کے عام دنوں جیسا معمولی وقت نہیں بلکہ آخرت کے وقت سے متعلق بیان ہے۔ � Islamic Urdu Books ❤️ اس حدیث کا اصل سبق اللہ کے نزدیک انسان کی قدر اس کے مال سے نہیں بلکہ ایمان، تقویٰ، صبر اور نیک اعمال سے ہے۔ لہٰذا غریب ہونے پر مایوس نہیں ہونا چاہیے اور مالدار ہونے پر غرور نہیں کرنا چاہیے۔ دونوں کے لیے اصل کامیابی اللہ کی رضا اور جنت ہے۔ حوالہ: جامع الترمذی، کتاب الزہد، حدیث 2353۔ � Sunnah