@kashmirilovers1895: *غزل - اف یہ دردِ تنہائی* اف یہ دردِ تنہائی، حد سے گزر گیا ہے دل ٹوٹ کر بکھر کر، ریزہ ریزہ ہو گیا ہے بھیڑ میں بھی ہوں اکیلا، محفل میں بھی تنہا میرا سارا شہر مجھ سے، جیسے مکر گیا ہے رات بھر جاگتا ہوں، دیواروں سے باتیں کرتا ہوں کوئی پوچھے تو کہہ دوں، مجھے عشق ہو گیا ہے اس کی خوشبو اب بھی کمرے میں بسی ہوئی ہے وہ تو چلا گیا، پر احساس رہ گیا ہے چائے ٹھنڈی ہو گئی، ہاتھ میں رکھی رہ گئی انتظار میں تیرے، زمانہ ٹھہر گیا ہے لوگ کہتے ہیں بھول جا، آگے بڑھ جا تو بھی ان کو کیا خبر کسی کا، دل مر گیا ہے اب تو آنسو بھی تھک گئے، بہہ بہہ کر مجھ سے یہ عالمِ تنہائی، مجھ پر جچ گیا ہے اے Silent Life تو اب خاموش ہی اچھا ہے تیرا درد ہی اب تیری، غزل بن گیا ہے