year jani so butyfull[Heartwarming][Heartwarming][Heartwarming][Heartwarming][Heartwarming][Teary eyed][Teary eyed][Teary eyed][Teary eyed][Teary eyed]
خلیل جبران کو اپنی محبوبہ میر زادہ سے محبت جو کہ ایک دوسرے کو بغیر دیکھے ہوئے کئی سالوں تک چلتی رہی
وہ ایک روز خلیل جبران اپنی محبوبہ کو خط میں لکھتے ہیں کہ مَیں تمہیں دیکھنا چاہتا ہوں
تو اسکی محوبہ میر زادہ جواب میں لکھتی ہیں کہ تم تصور کرو کہ مَیں کیسی دیکھتی ہوں
تو خلیل جبران جواب میں لکھتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ تمھارے چھوٹے چھوٹے بال ہونگے جنہیں تم بکھیرتی ہونگی تو وہ تمہارے چہرے کو ڈھانپ لیتے ہونگے اور یہ سن کر خلیل جبران کی محبوبہ میر زادہ اپنے لمبے اور گھنے بالوں کو کاٹ کر اپنی تصویر بنا کر خلیل جبران کو بھیج دیتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ دیکھو میرا تصور کتنا سچا تھا تو اسکی محبوبہ جواب نہ لکھتی ہے کہ آپکا تصور سچا نیہں تھا بلکہ محبت سچی تھی وہ ایک شعر ہے کہ ایک حکم پر نثار ہوئے سب تغيرات اُسنے کہا پلٹ میری کایا پلٹ گئی ۔۔۔🦋🦋🦋🦋