@balouch5570: یہ بھی اچھا ہوا کہ بدل گئے تم ورنہ میری امیدیں اور بھی گہری ہوتی جا رہی تھیں، میں تمہارے لوٹ انے کے امکان کو اپنی زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت سمجھنے لگا تھا۔ تمہاری خاموشی کو مصروفیت تمہاری بے رخی کو تھکن اور تمہاری دوری کو مجبوری سمجھتا رہا، کیونکہ محبت میں انسان سچ سے زیادہ اپنی أمید پر یقین کرتا ہے۔ میں ہر بار تمہارے بدلتے لہجے میں، پہلے والا پیار ڈھونڈ لیتا تھا، تمہارے مختصر جوابوں میں لمبی ملاقاتوں کے خواب سجا لیتا تھا، اور تمہاری بےتوجہی کو بھی، اپنے دل کے غلط فیمی قرار دیتا رہا۔ شاید تمہیں اندازہ نہیں، کہ میں نے تمہارے ساتھ رہنے کے لیے کتنے بہانے اپنے دل کو سکھائے تھے، کتنی بار خود کو سمجھایا تھا، کی محبت میں تھوڑا سا انتظار ضروری ہوتا ہے۔ مگر پھر تم بدل گئی، اور میرے لیے سب کچھ واضح ہو گیا۔ جو شخص کبھی میری ایک آواز پر رک جاتا تھا، وہ اب میری خاموشی سے بھی بےخبر تھا۔ تب سمجھ آیا، بعض رشتے ختم ہونے سے پہلے ہی مر جاتے ہیں، بس ہم انہیں اپنی أمیدوں سے زندہ رکھتے ہیں۔ اچھا ہوا تم بدل گئے، ورنہ شاید میں آج بھی تمہارے ایک وعدے پر پوری زندگی روک دیتا، تمہاری ایک مسکراہٹ کو اپنے تمام خوشیوں کا سبب سمجھتا، اور تمہارے لوٹ آنے کے انتظار میں اپنی کئی خوبصورت دن برباد کر دیتا۔ اب نہ کوئی شکوہ ہے نہ کوئی سوال باقی ہے تم بدل گئے، اور میں نے امید کرنا چھوڑ دیا۔ شاید یہی ہماری محبت کا، سب سے خوبصورت انجام تھا، تم اپنے راستے پر چلے گئی اور میں نے بھی اخرکار تمہاری طرف دیکھنا چھوڑ دیا۔