ریت کے ڈھیر کو پانی سمجھنے کا انجام!
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک ایسی مثال بیان فرمائی ہے جس پر ہر انسان کو غور کرنا چاہیے:
﴿وَالّذِينَكَفَرُوا أَعْمَالُهُمْكَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُالظّمْآنُمَاءً حَتّىٰ إِذَا جَاءَهُلَمْيَجِدْهُشَيْئًا وَوَجَدَاللّهَعِندَهُفَوَفّاهُحِسَابَهُۗ وَاللّهُسَرِيعُالْحِسَابِ﴾
النور 24:39
پیاسا شخص دور سے ریت کے ڈھیر کو پانی سمجھتا ہے اور اسی گمان میں اس کی طرف چلتا رہتا ہے، لیکن جب وہاں پہنچتا ہے تو کچھ بھی نہیں پاتا۔
اب ذرا اپنے عقیدے اور عمل پر بھی یہی قرآنی مثال لاگو کرکے سوچیے:
اگر کوئی شخص کسی قبر کو پکار کر مدد مانگتا ہے تو کیا اس نے کبھی یہ سوچا:
جسے میں پکار رہا ہوں، کیا وہ میری پکار سنتا ہے؟
کیا وہ مجھے جواب دے سکتا ہے؟
کیا وہ واقعی میری مدد کرنے کی قدرت رکھتا ہے؟
اور سب سے اہم سوال: کیا قرآن نے مجھے اسے پکارنے کا حکم دیا ہے؟
صرف یہ گمان کہ فلاں بزرگ میری مدد کر سکتے ہیں، اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ واقعی میری مدد کر سکتے ہیں۔
جس طرح سراب پانی دکھائی دیتا ہے مگر پانی نہیں ہوتا، اسی طرح ہر وہ چیز جسے ہم حقیقت سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ حقیقت بھی ہو۔
دنیا میں انسان اپنے گمان پر مطمئن رہ سکتا ہے، لیکن آخرت میں حقیقت چھپ نہیں سکے گی۔
اس لیے آج ہی اپنے عقیدے اور اعمال کو قرآن کے سامنے رکھ کر دیکھیں۔
نام نہیں—قرآن معیار۔
گمان نہیں—قرآن معیار۔
دعویٰ نہیں—قرآن معیار۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ جسے ہم پانی سمجھ کر ساری زندگی اس کی طرف چلتے رہے، وہاں پہنچ کر معلوم ہو:
یہ پانی نہیں تھا، صرف سراب تھا!
قرآن معیار ہے، گمان معیار نہیں۔
2026-09-12 07:35:36
0
To see more videos from user @muhammad.ishaq5732, please go to the Tikwm
homepage.