@allamaiqqbal: ایک شام ( دریائے نیکر ’ہائیڈل برگ ‘ کے کنارے پر ) یہ نظم اقبال نے جرمنی میں ان دنوں لکھی جب وہ 1907ء میں وہاں فلسفے کے مضمون میں پی ایچ ڈی کرنے گئے تھے ۔ میونخ سے وہ ہائیڈل برگ چند روز کے لیے یوں گئے کہ وہاں کے کتب خانے سے استفادہ کر سکیں ۔ دریائے نیکر بھی ہائیڈل برگ کے گردونواح میں بہتا ہے ۔ اسی دریا کے کنارے پر بیٹھ کر اقبال نے یہ اشعار کہے خاموش ہے چاندنی قمر کی شاخیں ہیں خموش ہر شجر کی وادی کے نوا فروش خاموش کُہسار کے سبز پوش خاموش فطرت بے ہوش ہو گئی ہے آغوش میں شب کے سو گئی ہے کچھ ایسا سکُوت کا فُسوں ہے نیکر کا خرام بھی سکُوں ہے تاروں کا خموش کارواں ہے یہ قافلہ بے درا رواں ہے خاموش ہیں کوہ و دشت و دریا قُدرت ہے مُراقبے میں گویا اے دِل! تُو بھی خموش ہو جا آغوش میں غم کو لے کے سو جا . . . Allama Iqbal Urdu Poetry SHayari Status Sad Urdu Shayari Whatsapp .. #allamaiqqbal #allamaiqbal #allamaiqbalpoetry #allamaiqbalshayari #rekhtafoundation #rekhta #urdupoetry