@zakir_baloch1: #viralvideo #tiktok ♥️

Zakir.Buledai
Zakir.Buledai
Open In TikTok:
Region: AE
Saturday 12 September 2026 14:40:24 GMT
31489
2950
167
144

Music

Download

Comments

bakshi194
Bakshi :
باز وشیں توار ءِ ،،، اگاں کسے ایشی ءٓ سپورٹ بہ کنت جوانیں گُشندھے بیت ءٗ دیم ءٓ کئیت
2026-09-13 06:16:28
10
user7561304281426
Muhammad khalid857 :
mashallah baz wash ❤️❤️❤️❤️
2026-09-15 17:28:30
1
karim.kashani0
baloch0098 :
باز وش گوندل 🥰🥰🥰❤️❤️❤️
2026-09-13 12:35:35
1
user46525519518317
غلامعلی دهقان :
باز ؤشے آوازے گؤنٹلا لازمئ سپؤٹ بکنے 🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-09-13 17:52:15
2
abdul.haleem397
Abdul Haleem :
2026-09-13 10:24:44
1
armaan22033
armaan :
2026-09-13 05:12:53
1
zaheerahmed0317
Zaheer Ahmed :
ماشاءاللہ بہت خوب ۔
2026-09-13 18:10:41
1
liaqatbalochb
baloch :
good
2026-09-13 09:46:19
1
user5875073924029
babul jan :
Baz washe
2026-09-13 09:42:10
1
md.ilyas764
Md ilyas764 :
baaz vsh
2026-09-13 07:49:52
1
shahnawazbaloch924
Shah Nawaz Baloch :
mashallah
2026-09-13 05:01:45
1
maqsood_baluch
Maqsood_baluch :
🥰🥰🥰jn
2026-09-13 04:52:55
1
armaan22033
armaan :
2026-09-13 05:13:00
1
hammadakhtar051
hammad akhtar :
[Red heart][Red heart]ب[Red heart]
2026-09-14 12:57:38
1
abidwahid65
abid Baloch :
wah ustad wah 😔💔
2026-09-14 17:58:18
1
dil.jaan5794
Dil.jaan :
💙بازوشیں💙
2026-09-16 11:07:30
0
sanaullah.balochis
ثناء اللہ :
باز وشیں ❤️
2026-09-14 13:12:47
1
alinawaz44210
ali nawaz :
nice
2026-09-13 20:33:15
0
To see more videos from user @zakir_baloch1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

:راتوں کو جب نیند روٹھ جائے تو پاس سوئے لوگوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر یہ کیسے اتنی آسانی سے سو جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے وہ پرانی راتیں لوٹ آئیں جب میں وقت پر سو جایا کرتا تھا، جب نیند کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی تھی نہ ہی سوچوں کے بے کنار سمندر سے گزرنا پڑتا تھا۔ بس بستر پر جاتے ہی ایک گہری بے فکری نیند اپنی آغوش میں لے لیتی تھی اور دنیا سے کوئی سروکار نہ رہتا تھا۔ نرم تکیے پر سر رکھتے ہی سكون مل جاتا تھا اور نیند اس قدر عزیز تھی کہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی پسندیدہ نہ تھا۔ ہر خوشی ہر تقریب ہر مصروفیت سے زیادہ قیمتی میرے لیے نیند ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر ایک دن زندگی نے کروٹ لی اور سب کچھ بدل گیا۔ رنگ ماند پڑ گئے، ترتیب بکھر گئی معنی کھو گئے، اور رویوں میں اجنبیت سی آ گئی۔ یوں لگا جیسے میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اندر کی روشنی بجھا دی ہو۔ سب سے پہلے اپنا پن کھویا پھر سکون پھر اپنی ذات اپنی خوشیاں اور وہ سب رونقیں جو مجھ سے وابستہ تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ رشتوں کو سنبھالنے اور اپنانے کی کوشش میں کہیں نہ کہیں ہار گیا، اور یہ بھی سمجھ آ گیا کہ کسی کو زبردستی اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔ اب حال یہ ہے کہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہو چکی ہے، اور بے چینی نے ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ مگر کہیں دل کے کسی کونے میں یہ یقین بھی ہے کہ ایک دن یہ درد یہ اذیت یہ بے سکونی ختم ہو جائے گی۔ شاید اس دن جب میں اپنے اصل گھر لوٹ جاؤں گا، دو گز زمین کے نیچے سفید کفن میں لپٹا دنیا کی ساری تھکن اور دکھ یہیں چھوڑ کر۔ تب شاید کچھ لوگ سکون سے سو جائیں گے، اور کچھ کی آنکھوں سے نیند ہمیشہ کے لیے چھن جائے گ
:راتوں کو جب نیند روٹھ جائے تو پاس سوئے لوگوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر یہ کیسے اتنی آسانی سے سو جاتے ہیں۔ دل چاہتا ہے وہ پرانی راتیں لوٹ آئیں جب میں وقت پر سو جایا کرتا تھا، جب نیند کے لیے کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی تھی نہ ہی سوچوں کے بے کنار سمندر سے گزرنا پڑتا تھا۔ بس بستر پر جاتے ہی ایک گہری بے فکری نیند اپنی آغوش میں لے لیتی تھی اور دنیا سے کوئی سروکار نہ رہتا تھا۔ نرم تکیے پر سر رکھتے ہی سكون مل جاتا تھا اور نیند اس قدر عزیز تھی کہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی پسندیدہ نہ تھا۔ ہر خوشی ہر تقریب ہر مصروفیت سے زیادہ قیمتی میرے لیے نیند ہی ہوا کرتی تھی۔ پھر ایک دن زندگی نے کروٹ لی اور سب کچھ بدل گیا۔ رنگ ماند پڑ گئے، ترتیب بکھر گئی معنی کھو گئے، اور رویوں میں اجنبیت سی آ گئی۔ یوں لگا جیسے میں نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اندر کی روشنی بجھا دی ہو۔ سب سے پہلے اپنا پن کھویا پھر سکون پھر اپنی ذات اپنی خوشیاں اور وہ سب رونقیں جو مجھ سے وابستہ تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ رشتوں کو سنبھالنے اور اپنانے کی کوشش میں کہیں نہ کہیں ہار گیا، اور یہ بھی سمجھ آ گیا کہ کسی کو زبردستی اپنا نہیں بنایا جا سکتا۔ اب حال یہ ہے کہ نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہو چکی ہے، اور بے چینی نے ٹھکانہ بنا لیا ہے۔ مگر کہیں دل کے کسی کونے میں یہ یقین بھی ہے کہ ایک دن یہ درد یہ اذیت یہ بے سکونی ختم ہو جائے گی۔ شاید اس دن جب میں اپنے اصل گھر لوٹ جاؤں گا، دو گز زمین کے نیچے سفید کفن میں لپٹا دنیا کی ساری تھکن اور دکھ یہیں چھوڑ کر۔ تب شاید کچھ لوگ سکون سے سو جائیں گے، اور کچھ کی آنکھوں سے نیند ہمیشہ کے لیے چھن جائے گ

About