@silentstrength9661: آج رو پڑی میں۔ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ اور آئینے نے جھوٹ نہیں بولا۔ اس نے دکھا دیا وہ سب جو میں نے دنیا سے چھپایا تھا۔ تھکے ہوئے آنکھوں کے گرد سیاہی۔ ہونٹوں پر جمی ہوئی خاموشی۔ اور چہرے پر وہ دراڑیں جو کسی نے نہیں دیں... میں نے خود دیں۔ پھر سوچا... ایسا کیا پایا تھا میں نے؟ کون سا خزانہ تھا جس کے لیے میں نے خود کو گروی رکھ دیا؟ کون سی ہنسی تھی جس کے بدلے میں نے اپنی نیند بیچ دی؟ کون سا "وہ" تھا جس کے لیے میں نے "میں" کو مار دیا؟ جواب نہیں ملا۔ صرف آئینے میں سے ایک لڑکی نے مجھے گھور کر کہا: *"تو خود کو کھو کر بھی خالی کی خالی رہ گئی"* سچ یہ ہے۔ ہم کسی کو پانے کے چکر میں سب سے قیمتی چیز کھو دیتے ہیں۔ خود کو۔ اور جب ہوش آتا ہے تو نہ وہ ملتا ہے نہ خود۔ بس ایک ٹوٹا ہوا آئینہ رہ جاتا ہے اور اس میں ایک اجنبی چہرہ۔