@its_salar_3: اور ایسی بے بسی خدا کسی کو نہ دے کہ بندہ اپنی ہی سمجھ سے باہر ہو جائے۔ دل میں ایک ایسا شور برپا ہو جسے لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہ ہو، آنکھیں نم ہوں مگر آنسو بہنے سے انکار کر دیں، لب خاموش رہیں اور اندر نہ جانے کتنی چیخیں دم توڑتی رہیں۔ انسان لوگوں کے درمیان بیٹھا مسکراتا رہے، مگر خود سے نظریں ملانے کی ہمت نہ کر پائے۔ کبھی کسی سے بات کرنے کو دل چاہے، کبھی سب سے دور بھاگ جانے کو، مگر سب سے زیادہ تکلیف تب ہوتی ہے جب انسان کو یہ بھی سمجھ نہ آئے کہ آخر اسے چاہیے کیا۔ نہ کسی سے شکوہ کیا جا سکے، نہ اپنی کیفیت سمجھائی جا سکے، بس ایک عجیب سی گھٹن دل میں ٹھہر جاتی ہے۔ پھر انسان خود کو تسلیاں دیتے دیتے تھک جاتا ہے اور آخرکار خاموشی کو اپنا ہمراز بنا لیتا ہے۔ شاید بے بسی یہی ہے کہ انسان کو کسی کے سہارے کی نہیں، صرف اپنے آپ کی ضرورت ہو… اور عین اسی وقت اپنا ہی وجود اسے بوجھ محسوس ہونے لگے۔ خدا کسی کو ایسی حالت نہ دکھائے جہاں انسان زندہ تو ہو، مگر اپنے ہی اندر کہیں گم ہو چکا ہو۔#Salar